شہباز شریف نے پی ایم سی اراکین کے تقرر کیلئے سرچ کمیٹی بنا دی

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف نے 7 ارکان پر مشتمل ایک سرچ کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو پاکستان میڈیکل کمیشن  کے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور نیشنل میڈیکل اینڈ ڈینٹل اکیڈمک بورڈ کے ارکان کے تقرر کا کام کرے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کمیٹی شرائط کو پورا کرنے والے امیدواروں سے اشتہارات کے ذریعے درخواستیں طلب کرے گی اور پھر انہیں بطور رکن مقرر کرنے کے لیے ضروری کارروائی کرے گی۔

سرچ کمیٹی کی صدارت وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کریں گے جبکہ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ، وائس چیئرمین کے طور پر کام کریں گے۔

دیگر اراکین میں وفاقی سیکریٹری صحت ڈاکٹر محمد اورنگزیب، ڈاکٹر سید علی فرحان رضی اور اراکین قومی اسمبلی زہرہ ودود فاطمی اور پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز شامل ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 20 اگست کو پی ایم سی اس وقت تعطل کا شکار ہوگیا تھا جب وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے 9 میں سے 7 ارکان کی نامزدگی واپس لے لی تھی۔

پی ایم سی، پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس 2019 کے ذریعے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو تحلیل کرنے کے بعد قائم کیا گیا تھا اور بعد میں اس کی جگہ پاکستان میڈیکل کمیشن ایکٹ 2020 نے لے لی تھی۔

حکومت کے جاری کردہ ایک قانونی ریگولیٹری آرڈر (ایس آر او) کے مطابق پی ایم سی ایکٹ 2020 کے ذریعے تفویض شدہ اختیارات استعمال کر کے نامزد کرنے والی اتھارٹی یعنی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم نے میڈیکل اور ڈینٹل کونسل کے 25 ستمبر 2020 کو نامزد کردہ تمام اراکین کی نامزدگی واپس لے لی ہے۔

پی ایم سی ایکٹ کے مطابق وزیراعظم کو 9 ارکان میں سے 7 کو نامزد کرنے کا اختیار تھا، جن میں سول سوسائٹی سے 3، 3 لائسنس یافتہ میڈیکل پریکٹیشنرز اور ایک لائسنس یافتہ ڈینٹسٹ شامل ہوں۔

مسلح افواج کے سرجن جنرل اور وزارت صحت کے سیکریٹری کمیشن کے سابق اراکین تھے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ‘وزیراعظم کو ملک بھر سے خاص طور پر بلوچستان سے طلبہ کی شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ پی ایم سی میں صوبوں کی نمائندگی نہیں ہے اور اس سے صوبوں میں احساس محرومی پیدا ہو رہا ہے’۔

ایک جانب پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) بل 2022 منظور ہونے کے قریب ہے، گزشتہ تین سال میں یہ دوسرا موقع ہوگا جب سیکڑوں ملازمین اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

اس لیے پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) کے ملازمین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ایسا نہ ہونے دیا جائے۔

اس سے قبل پی ایم ڈی سی کے 200 سے زائد ریگولر ملازمین جن کی پینشن کے قابل ملازمتیں اس وقت ختم کردی گئی تھیں جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت نے پی ایم ڈی سی کو تحلیل کر کے پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) قائم کیا تھا۔

2019 میں پی ٹی آئی حکومت کے فیصلے نے نہ صرف لوگوں کو بے روزگار کیا بلکہ دسیوں پنشنرز اور ان کے اہل خانہ کو پینشن ملنا بند ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

aس کے بعد ملازمین نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی اور عدالت نے پی ایم سی کی جانب سے کی گئی تمام تعیناتیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تمام ملازمین کو ان کی اصل شرائط پر بحال کر دیا تھا۔

تاہم اس کے باوجود ملازمین کو بحال نہیں کیا جاسکا۔

قومی اسمبلی پہلے ہی ایک بل منظور کر چکی ہے جس میں پی ایم سی کو ختم کرنے اور پی ایم ڈی سی کو بحال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مشہور خبریں۔

صیہونی فوج کا فلسطینی مظاہرین پر حملہ / 270 افراد زخمی

?️ 31 جولائی 2021سچ خبریں:فلسطینی ہلال احمر نے اعلان کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں

پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان اتحاد کیسے ہوا؟ گورنر پنجاب کی زبانی

?️ 27 جولائی 2024سچ خبریں: گورنر ہاؤس پنجاب میں صدر مملکت آصف زرداری کی سالگرہ

خطے میں امن کیلئے تنازعہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، شبیر احمد شاہ

?️ 3 اکتوبر 2024سرینگر: (سچ خبریں) نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں غیر

برازیلی 8 سالہ  لڑکی نے ماہرین فلکیات کو حیران کردیا

?️ 3 اکتوبر 2021ساؤ پالو(سچ خبریں) آٹھ سالہ برازیلی لڑکی نے اہم کارنامہ انجام دیتے

گرین لینڈ کے معاملے پر ٹرمپ کے نمائندے کے متضاد بیانات

?️ 24 دسمبر 2025گرین لینڈ کے معاملے پر ٹرمپ کے نمائندے کے متضاد بیانات امریکی

کورونا وائرس اور پاکستان پر سفری پابندیاں

?️ 25 اپریل 2021(سچ خبریں) کورونا وائرس نے دنیا بھر میں قہر مچا رکھا ہے

عالمی بینک نے پاکستان کے ٹیکس نظام کوانتہائی غیر منصفانہ اور بے ہودہ قرار دیدیا

?️ 17 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) عالمی بینک نے پاکستان کے ٹیکس نظام کوانتہائی

جی 7 اجلاس کے بعد چین اور انگلینڈ کے درمیان سرد تعلقات

?️ 23 مئی 2023سچ خبریں:جرمنی کے این ٹی وی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے