?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون اور مسائل کے حل کے لیے 11 رکنی کمیٹی قائم کر دی۔
ڈان نیوز کے مطابق کمیٹی کے اراکین میں نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام، مشیر وزیراعظم رانا ثنا اللہ، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان، سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب شامل ہیں۔
اس کے علاوہ سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق، گورنر بلو چستان جعفر خان مندوخیل اور بشیر احمد میمن بھی کمیٹی کے اراکین میں شامل ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کمیٹی کو پیپلز پارٹی کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی ذمہ داری سونپ دی، کمیٹی پیپلز پارٹی کی کمیٹی سے بات چیت کرکے آئندہ کے لائحہ عمل طے کرے گی۔
واضح رہے کہ 2 روز قبل (20 نومبر) کو پاکستان پیپلزپارٹی نے وفاق سے تحفظات کے حوالے سے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی تھی۔
کمیٹی میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، راجا پرویز اشرف، نوید قمراور سینیٹر شیری رحمن، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی،گورنر پنجاب سلیم حیدر اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کے علاوہ اور حیدر گیلانی کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا۔
ذرائع نے بتایا تھا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی کو وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی پیشکش کی گئی، بلاول بھٹو نے موجودہ حالات میں وزیر اعظم سے ملاقات سے معذرت کر لی۔
بلاول بھٹو نے وفاقی حکومت اور وزیر اعظم سے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی، چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ووٹرز اور صوبائی حکومتوں کی مسلم لیگ (ن) سے شکایات ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پیپلزپارٹی کو نظرانداز کر رہی ہے، طے تھا کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے انتظامی معاملات میں حصے دار ہوں گے، (ن) لیگ ہمارے گورنرز سے مشاورت نہیں کر رہی ہے۔
16 نومبر کو بلاول ہاؤس کراچی میں گفتگو کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) پر 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد وعدوں سے انحراف کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کے ساتھ ناراضی کا سوال ہی نہیں ہے، ناراض ہونے پر سیاست نہیں کی جاتی، سیاست تو عزت کے لیے کی جاتی ہے، معذرت کے ساتھ اس وقت وفاق میں نہ عزت کی جاتی ہے، نہ سیاست کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ دنیا میں جہاں اقلیتی حکومت ہو اور ان کا اتحاد ہے کسی جماعت کے ساتھ تو اس معاہدے پر عمل درآمد ہوتا ہے، ہم اخلاقی حمایت فراہم کرنے کے لیے حکومتی بینچ پر بیٹھے ہیں، ہم ضرور چاہیں گے کہ طے شدہ معاہدے پر عمل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن پاکستان سے احتجاجاً علیحدہ ہوئے، آئین سازی کے وقت حکومت اپنی باتوں سے پیچھے ہٹ گئی۔
انہوں نے آئندہ ماہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مرکز میں حکومتی اتحاد پر ممکنہ نظر ثانی کا بھی اشارہ دیا تھا۔
جس پر 17 نومبر کو وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے تحفظات دور کرنے کی ذمہ داری نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار کو سونپ دی تھی۔
ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رخ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا تھا کہ شہباز شریف نے اسحٰق ڈار کو پیپلز پارٹی کی قیادت سے رابطہ کرنے اور اتحادی جماعت کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کی ہے۔


مشہور خبریں۔
میاں صاحب ایک، دو سیٹوں کیلئے دوسرے صوبے جانے کی تکلیف اٹھا رہے ہیں، بلاول بھٹو زرداری
?️ 14 نومبر 2023کراچی: (سچ خبریں) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے نواز شریف
نومبر
جنیوا دورے پر کروڑوں ڈالر خرچ کرنے پر پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت پر کڑی تنقید
?️ 10 جنوری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف سمیت وفاقی کابینہ کے دیگر اراکین
جنوری
وزیر توانائی سعودی عرب سے تیل فراہمی کا اعلان کردیا
?️ 22 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر توانائی حماد اظہر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس
جون
سیلاب متاثرین کی امداد اجتماعی کام، نمبر بنانے کی ضرورت نہیں۔ چیئرمین سینیٹ
?️ 3 ستمبر 2025ملتان (سچ خبریں) چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ
ستمبر
نیتن یاہو مصر کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت سے کیوں خوف زدہ ہے؟
?️ 8 فروری 2026سچ خبریں:بنیامین نیتن یاہو مصر کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت سے کیوں
فروری
کیا اسرائیل غزہ پر زمینی حملہ کرے گا ؟
?️ 23 اکتوبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے جنرل اسٹاف کے سابق سربراہ نے کہا کہ
اکتوبر
فلسطینی مجاہدین کا صیہونی قابضین کو اہم انتباہ
?️ 27 فروری 2024سچ خبریں: فلسطینی مزاحمتی فورسز کے ایک ذریعے نے غزہ کے الزیتون
فروری
کانگو بخار کا ایک اور مریض کراچی پہنچنے کے چند گھنٹے بعد چل بسا
?️ 11 نومبر 2023کراچی: (سچ خبریں) بلوچستان سے کراچی منتقل ہونے کے چند گھنٹوں بعد
نومبر