غزہ کے ہزاروں شہداء جن کے جنازے شاید کبھی نہ مل سکیں؛ عالمی ریڈ کراس کمیٹی کا بیان

شہداء

?️

سچ خبریں:عالمی ریڈ کراس کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہزاروں فلسطینی شہداء کی شناخت ممکن نہیں رہے گی کیونکہ امدادی کارروائیاں شدید رکاوٹوں کا شکار ہیں۔

عالمی ریڈ کراس کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں ملبے تلے دبے ہزاروں فلسطینیوں کی شناخت ممکن ہے کبھی نہ ہو سکے، کیونکہ لاشوں کی تلاش اور بازیابی کی کارروائیاں شدید رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہیں۔

کمیٹی کے مطابق اگرچہ گزشتہ سال کے آغاز سے ایک نازک جنگ بندی نافذ ہے، تاہم امدادی اور لاشوں کی بازیابی کے عمل کی رفتار انتہائی سست ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ شناخت کے لیے ضروری شواہد کے ختم ہونے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں عالمی ریڈ کراس کمیٹی کے ترجمان پیٹ گریفیٹس نے کہا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان لاشوں کی شناخت مزید مشکل ہو جائے گی۔ جتنا زیادہ وقت ملبے کے نیچے رہنے کے بعد لاشیں نکالنے میں لگے گا، شناخت کا عمل اتنا ہی پیچیدہ ہوتا جائے گا، اور بعض صورتوں میں لاشیں شدید گلنے سڑنے کے مرحلے میں ہوں گی یا صرف ڈھانچے باقی رہ جائیں گے۔

فلسطینی کئی مہینوں سے غزہ کی پٹی میں ملبے کی چھان بین کر رہے ہیں۔ اندازوں کے مطابق پورے علاقے میں تقریباً اکسٹھ ملین ٹن ملبہ موجود ہے۔ غزہ کے صحت حکام کے مطابق کم از کم دس ہزار افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جبکہ بعض ماہرین یہ تعداد چودہ ہزار تک بتاتے ہیں۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق امدادی ٹیمیں اب تک زیادہ تر محدود اور ابتدائی آلات جیسے بیلچے، کدال، وہیل بارو اور ہاتھوں سے کام کرنے پر مجبور ہیں، اور کئی مواقع پر خالی ہاتھ بھی تلاش جاری رکھی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھاری مشینری اور دیگر امدادی آلات کی بار بار درخواستوں کے باوجود انہیں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، اور اسرائیلی حکام کی جانب سے غزہ میں بھاری امدادی مشینری کے داخلے پر پابندی برقرار ہے۔

گریفیٹس نے کہا کہ تلاش اور بازیابی کی ٹیموں کو ہر اس علاقے تک رسائی دی جانی چاہیے جہاں انسانی باقیات موجود ہونے کا امکان ہو۔ ان کے مطابق زیادہ تر ضروری مشینری کا غزہ میں داخل ہونا اس وقت تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے، تاہم وہ متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

عالمی ریڈ کراس نے خبردار کیا ہے کہ اس تاخیر سے شناخت کا عمل شدید متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ ماحولیاتی تبدیلیاں، باقیات کی منتقلی اور ذاتی اشیاء کا ضائع ہونا فرانزک شواہد کو ختم کر سکتا ہے۔

آخر میں ترجمان نے کہا کہ ہزاروں خاندان اب بھی اپنے پیاروں کے انجام کی تلاش میں ہیں، اور اصل خطرہ یہ ہے کہ انہیں اپنے عزیزوں کی قسمت جاننے کا حق بھی میسر نہ آ سکے۔

مشہور خبریں۔

شام اور عراق کے صدور کے درمیان فون پر گفتگو

?️ 16 جولائی 2021سچ خبریں:شام اور عراق کے صدور نے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے

صیہونی دشمن کے خلاف متعدد کارروائیوں میں حصہ لینے والا فلسطینی قیدی   

?️ 1 اپریل 2025 سچ خبریں:سلیم حجہ، جو 15 سال کی عمر سے ہی حماس

غیر جمہوری طریقے سے آئے ہوئے لوگوں نے آئین کو تباہ کردیا، علی امین گنڈا پور

?️ 30 ستمبر 2024پشاور: (سچ خبریں) وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا

خطے میں میزائل داغنا امریکی مشقوں کے جواب میں ہے: شمالی کوریا

?️ 6 اکتوبر 2022سچ خبریں:   پچھلے دس دنوں میں شمالی کوریا کی طرف سے چھٹا

12 روزہ جنگ میں اسرائیل کا طوفان الاقصی کے مقابلے میں 300 گنا زیادہ نقصان

?️ 26 جون 2025سچ خبریں: صہیونی ریجن اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ، جو

اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے جہاد اسلامی فلسطین کی اہم پیش کش

?️ 12 جولائی 2021سچ خبریں:فلسطینی جہاد اسلامی تحریک کے ترجمان نے صیہونی حکومت کا مقابلہ

فرانس کا صیہونیوں کو عسکری امداد پہنچانے کا خفیہ حربہ

?️ 19 اکتوبر 2025سچ خبریں:فرانس بظاہر خود کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کا ثالث  ظاہر

یورپین سخت سردی کے منتظر رہیں: بریل

?️ 5 ستمبر 2022سچ خبریں:     یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بریل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے