شہباز شریف اگر ملک سے باہر چلے جاتے تو واپس لانا مشکل ہو جاتا

?️

اسلام آباد(سچ خبریں)وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا ہے‘ وہ نواز شریف کو واپس لانے کے بجائےرات کے اندھیرے میں ملک سے باہر بھاگ رہے تھے‘ اگر وہ نواز شریف کی طرح باہر چلے جاتے تو ان کو واپس لانا مشکل ہوتا۔

اگر شہباز شریف کو باہر جانے دیتے تو ریکارڈ میں ردوبدل اورگواہوں پر اثر انداز ہوسکتے تھے‘جب نواز شریف باہر جا کر واپس نہیں آئے تو شہباز شریف نے کہاں آنا تھا‘ واحد اپوزیشن ہے جو ملک سے بھاگ کر لندن جانا چاہتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا‘ وزیر داخلہ نے کہا کہ نیب کی سفارش پر کابینہ کی ذیلی کمیٹی جس میں وزارت داخلہ اور قانون کے وزراء اور متعلقہ حکام شامل تھے نے شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کیلئے سمری کابینہ کو بھجوائی تھی۔

جس کی کابینہ نے منظوری دیدی جسکے بعد وزارت داخلہ نے انکا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، وزیر داخلہ نے بتایا کہ شہباز شریف کیخلاف نیب کا مقدمہ نمبر 22/2020 ٹرائل پر ہے، انکا مقدمہ زیر التواء ہے، سات ارب روپے کے اثاثوں کا کیس ہے۔

اگر وہ نواز شریف کی طرح باہر چلے جاتے تو ان کو واپس لانا مشکل ہوتا، ان کے خاندان کے پانچ افراد پہلے ہی مفرور اور لندن میں مقیم ہیں، اس کیس میں 14 ملزموں میں سے 4 سلطانی گواہ بن چکے ہیں، اگر شہباز شریف کو باہر جانے دیتے تو وہ ریکارڈ ٹیمپر کرسکتے اور گواہوں پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے نواز شریف کو واپس لانے کیلئے ضمانت دے رکھی ہے لیکن وہ خود ہی رات کے اندھیرے میں سحری کے وقت یہاں سے بھاگ رہے تھے، انکا کیس ایک ہی دن میں دائر ہوا، اعتراض کے باوجود اسی دن سنا گیا اور ٹکٹیں بھی اسی دن بُک ہوگئیں۔

انہوں نے لندن کی بجائے قطر جانا تھا جہاں قرنطینہ میں وقت گزارنا تھا، انکے سوا اس کیس میں تمام ملزمان کے نام ای سی ایل پر ہیں، آرٹیکل 25 کے تحت ملزمان سے یکساں سلوک انصاف کا تقاضا ہے‘انہوں نے کوئی ایسی میڈیکل دستاویزات جمع نہیں کرائیں جن سے ہمیں پتہ چلے کہ وہ بیمار ہیں یا انکا علاج یہاں نہیں ہوسکتا۔

مشہور خبریں۔

بھارتی حکومت 20دنوں میں 300میٹر ہائی وے کو بھی بحال نہ کراسکی: عمر عبداللہ

?️ 17 ستمبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کٹھ

صالح العروری کا قتل اور علاقائی جنگ کا امکان

?️ 4 جنوری 2024سچ خبریں:تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے اپنے ایک مضمون میں بیروت کے

حریت رہنماوں کو بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، حریت کانفرنس

?️ 24 فروری 2024سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

اسرائیلی جارحیت کی مذمت میں خطے کا متحد موقف ضروری ہے: عراقچی

?️ 14 جون 2025سچ خبریں: ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے خلیج تعاون

اسرائیلی فوج کے کواڈ کاپٹر کو فلسطینی مزاحمت کاروں نے کیسے شکار کیا ؟

?️ 23 دسمبر 2024سچ خبریں: الاقصی شہداء بٹالین نے بھی سرایا القدس کے تعاون سے

حماس کے کمانڈر کا قتل؛امریکی صیہونی سازش

?️ 15 دسمبر 2025سچ خبریں:صیہونی میڈیا کا کہنا ہے کہ قابض حکومت  نے حماس کے

پاکستان کے نظام انصاف میں بہتری ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے، چیف جسٹس

?️ 23 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریکوڈک منصوبے سے

تحریک انصاف غیرقانونی ایجنڈے سے باز آجائے۔ رانا ثناءاللہ

?️ 13 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیرِاعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ سیاسی اُمور رانا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے