شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں منظور

?️

لاہور:(سچ خبریں)لاہور کی احتساب عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی دو الگ الگ ریفرنسز میں سماعت کے دوران حاضری سے ایک مرتبہ استثنیٰ کی درخواستیں منظور کر لیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم کیس کی سماعت کے لیے عدالت کے سامنے پیش ہونا تھا جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کو رمضان شوگر ملز کیس کی سماعت کے سلسلے میں عدالت آنا تھا۔

شہباز شریف کو پہلے ہی رمضان شوگر ملز ریفرنس میں حاضری سے مستقل استثنیٰ دیا جاچکا ہے، اس کیس میں وزیر اعظم کو حمزہ شہباز کے ساتھ بطور مرکزی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

احتساب عدالت لاہور میں وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی تھی، وکیل امجد پرویز نے مسلم لیگ (ن) کے دونوں سینئر رہنماؤں کی جانب سے ان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی۔

دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز مصروفیت کے باعث آج عدالت پیش نہیں ہو سکتے، دونوں کی عدم پیشی سے ٹرائل متاثر نہیں ہوگا۔

درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی آج کی سماعت سے حاضری معافی کی درخواست منظور کرے۔

احتساب عدالت میں آج آشیانہ اور رمضان شوگر مل ریفرنس سماعت کے لیے مقرر تھا۔

سماعت کے دوران احتساب عدالت نے 16 جولائی کو نیب اور ملزمان کے وکلا کو رمضان شوگر مل ریفرنس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواستوں پر دلائل دینے کی ہدایت کر دی۔

واضح رہے کہ نیب نے اکتوبر 2018 کے آغاز میں شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں باضابطہ طور پر گرفتار کیا تھا۔

6 دسمبر 2018 کو احتساب عدالت میں ہونے والی سماعت میں نیب نے شہباز شریف سے متعلق تفتیشی رپورٹ پیش کی تھی۔

تفتیشی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ شہباز شریف نے اعتراف کیا کہ انہوں نے 2 کروڑ روپے سے زائد کی رقم بطور کرایہ رمضان شوگر مل کے توسط سے مری میں ایک جائیداد کی لیز کے طور پر حاصل کی۔

یاد رہے کہ آشیانہ اقبال اسکینڈل میں شہباز شریف سے قبل فواد حسن فواد، سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ، بلال قدوائی، امتیاز حیدر، شاہد شفیق، اسرار سعید اور عارف بٹ کو نیب نے گرفتار کیا تھا۔

شہباز شریف کو نیب نے جنوری 2016 میں پہلی مرتبہ طلب کیا تھا، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے چوہدری لطیف اینڈ کمپنی کا ٹھیکہ منسوخ کرنے کے لیے دباؤ کا استعمال کیا اور لاہور کاسا کپمنی کو جو پیراگون کی پروکسی کمپنی تھی مذکورہ ٹھیکہ دیا۔

رپورٹ کے مطابق شہباز شریف کے اس غیر قانونی اقدام سے سرکاری خزانے کو 19 کروڑ کا نقصان ہوا۔

شہباز شریف پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے ‘پی ایل ڈی سی’ پر دباؤ ڈال کر آشیانہ اقبال کا تعمیراتی ٹھیکہ ایل ڈی اے کو دلوایا لیکن ایل ڈی اے منصوبہ مکمل کرنے میں ناکام رہا اور اس سے 71 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔

اس کے علاوہ شہباز شریف نے پی ایل ڈی سی پر دباؤ ڈال کر کنسلٹنسی کا ٹھیکہ ایم ایس انجیئنر کنسلٹنسی سروس کو 19 کروڑ 20 لاکھ میں ٹھیکہ دیا جب کہ نیسپاک نے اس کا تخمینہ 3 کروڑ لگایا تھا۔

مشہور خبریں۔

صیہونی یمنیوں کو اپنے لیے خطرہ کیوں سمجھتے ہیں؟

?️ 26 نومبر 2023سچ خبریں: صیہونی داخلی سلامتی کونسل کے سابق سربراہ نے اسرائیل کے

سویلین کا ملٹری ٹرائل نہیں ہونا چاہیے، آرمی ایکٹ کی شقوں کو غیر آئینی قرار نہیں دیا جاسکتا، سپریم کورٹ بار

?️ 6 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں زیر سماعت

عمران خان سے ملاقات کیلئے سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی اچانک اڈیالہ پہنچ گئے

?️ 26 جون 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے پیٹرن انچیف عمران خان سے

ملک کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ کی رفتار سست روی کا شکار

?️ 1 دسمبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت ملک

پاکستان میں 25 سال سے موجود معروف آئی ٹی کمپنی مائیکروسافٹ کے کاروبار بند کرنے کی اطلاعات

?️ 3 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان میں 25 سال سے موجود معروف آئی

عید الاضحیٰ پر عوام کیلئے بڑا ریلیف، پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے سے زائد کمی اعلان

?️ 15 جون 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف عیدالاضحیٰ پر عوام کو بڑا

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنا کر پوری دنیا کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا۔ بلاول بھٹو

?️ 5 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین و پاکستان کے

زیلنسکی سبز وردی پہن کر کس کے ساز پر رقص کرتا ہے؟

?️ 21 اگست 2025سچ خبریں: روس کی سیکورٹی کونسل کے ڈپٹی چیئرمین دمیتری میدویدیف نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے