سیکریٹری دفاع کی برطرفی کا حکم دینے والے جج کو ایک دن بعد ہی او ایس ڈی بنا دیا گیا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) عدالتی حکم کی تعمیل نہ کرنے پر سیکریٹری دفاع کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دینے کے ایک دن بعد ہی راولپنڈی کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (اے ڈی ایس جے) کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج وارث علی مزید اس کیس کی سماعت نہیں کریں گے جب کہ انہیں اسپیشل ڈیوٹی افسر (او ایس ڈی) بنا کر لاہور منتقل کر دیا گیا ہے۔

رجسٹرار شیخ خالد بشیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ چیف جسٹس اور دیگر ججز نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، راولپنڈی وارث علی کو عوامی مفاد میں سیشن کورٹ لاہور میں او ایس ڈی کے طور پر فوری طور پر تعینات کرنے پر اظہار اطمینان کیا ہے۔

او ایس ڈی وہ سرکاری ملازم ہوتا ہے جو بغیر کسی عہدے کے تنخواہ اور دیگر مراعات وصول کرتا رہتا ہے۔

اے ڈی ایس جے علی وارث نے بظاہر اس وقت اعلیٰ افسران کی نا راضی مول لی جب کہ انہوں نے جمعہ کو ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو ڈیفنس سیکریٹری ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل حمود الزمان کو ہٹانے کا حکم دیا۔

انہوں نے سیکریٹری دفاع کو فوج کے کاروبار اور ان سے فائدہ اٹھانے والوں کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

سیکریٹری دفاع نے حکم کی تعمیل کی اور نہ ہی عدالت میں پیش ہوئے۔

جب معاملہ اٹھایا گیا تو مرکزی وکیل بھی عدالت سے غیر حاضر تھا، ان کے کلرک نے سیکریٹری دفاع کی جانب سے پیشی کا میمو جمع کرایا۔

مرکزی وکیل کے ذاتی طور پر عدالت میں پیش نہ ہونے پر سیشن جج نے وہ میمو قبول کرنے سے انکار کردیا۔

انہوں نے ریمارکس دیے تھے کہ اعلیٰ سرکاری عہدیدار کا ایسا طرز عمل ریاست کے ایک ستون یعنی عدلیہ کے وجود سے انکار کے مترادف ہے، اس رویے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

تحریری فیصلے میں انہوں نے وفاقی سیکریٹری کو ہٹانے کا حکم دیا اور اٹارنی جنرل سے اس ریمارکس کے ساتھ معاونت طلب کی کہ اس کیس میں آئین کی تشریح کی ضرورت ہے جب کہہ مسلح افواج کے کام آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت ہوتے ہیں۔

اے ڈی ایس جے علی وارث نے حکم نامے میں لکھا کہ مذکورہ آرٹیکل میں بیرونی جارحیت،جنگ کے خطرے یا جب سویلین حکومت کی و کے لیے بلایا جائے تو ملک کا دفاع کرنے کے علاوہ فوج کا کوئی کردار نہیں بتایا گیا ہے۔

انہوں نے اگلی سماعت 24 نومبر کو بھی مقرر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب نیا جج کیس کی سماعت کرے گا جب کہ اے ڈی ایس جے علی وارث کو 20 نومبر کو یا اس سے پہلے“ بطور او ایس ڈی چارج سنبھالنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مشہور خبریں۔

کیا حالیہ دھماکوں سے اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کے حملے رک گئے ہیں؟ صیہونی میڈیا کا اعتراف

?️ 21 ستمبر 2024سچ خبریں: صیہونی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ لبنان میں ہونے

شہباز شریف کا سابق وزیر اعظم کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کا حکم

?️ 21 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو لاحق خطرات کے پیش

پاراچنار نقل و حمل کے راستوں کی رکاوٹ

?️ 23 دسمبر 2024سچ خبریں: کرم کے علاقے میں مرکزی سڑک مسلسل 73 دنوں سے

اردو کا شمار دنیا کی بڑی زبانوں میں ہوتا ہے: فودا چوہدری

?️ 11 دسمبر 2021کراچی(سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اردو

شام اورعراق سرحد پر امریکی کی دہشت گردانہ سازش

?️ 26 فروری 2022سچ خبریں:    عراقی سیکورٹی کے ماہر کاظم الموسوی نے کہا کہ التنف

آٹھ سال بعد سعودی اتحاد صنعاء میں؛سویلین طیارے سے

?️ 18 اکتوبر 2022سچ خبریں:یمن کی انصاراللہ تحریک کے ساتھ مذاکرات کے لیے سعودی وفد

ترکی کی ایک بار صیہونی جارحیت کی زبانی مذمت

?️ 17 نومبر 2023سچ خبریں: ترک وزیر خارجہ نے غزہ میں بیت المقدس پر قابض

واشنگٹن حکام کو اپنے ملک میں بھی انسانی حقوق کے مسئلے پر توجہ دینی چاہیے: روس

?️ 13 اگست 2021سچ خبریں:واشنگٹن میں روسی سفارت خانے نے امریکی محکمہ خارجہ کی اپنےملک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے