سینیٹ کی 48 نشستوں پر انتخابات کرانے کا شیڈول جاری

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن نے سینیٹ کی 48 نشستوں پر 2 اپریل کو انتخابات کرانے کا شیڈول جاری کر دیا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق کاغذات نامزدگی 15 اور 16 مارچ کو جمع کروائے جا سکیں گے، کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 19 مارچ تک کی جائے گی۔

نوٹی فکیشن کے مطابق کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں 25 مارچ تک نمٹائی جائیں گی جبکہ امیدواروں کی حتمی فہرست 27 مارچ کو آویزاں کی جائے گی۔

انتخابات کے لیے پولنگ قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہوگی۔

واضح رہے کہ 11 مارچ کو سینیٹ کی نشستیں خالی ہونے کے بعد الیکشن کمیشن ان پر انتخابی شیڈول 14 مارچ کو جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سابق فاٹا کے 4 ارکان کی جانب سے خالی ہونے والی نشستوں پر انتخاب نہیں ہوگا، سابقہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد سینیٹ میں فاٹا کے لیے مختص نشستیں آئینی ترمیم کے تحت ختم ہوچکی ہیں۔

48 نشستوں پر انتخاب عمل میں لایا جائے گا جن میں پنجاب کی 7 جنرل نشستوں اور خواتین کی 2 علما اور ٹیکنوکریٹ کے لیے 2 اور غیر مسلم کی ایک نشست پر انتخاب ہوگا۔

سندھ کی 7 جنرل، 2 خواتین ،2 علما اور ٹیکنوکریٹ اور ایک غیر مسلم کی نشست پر انتخاب ہوگا، خیبر پختونخوا کی 7 جنرل ، 2 خواتین ،2 علما اور ٹیکنوکریٹ کی نشستوں پر انتخاب ہوگا۔

اس کے علاوہ بلوچستان کی 7 جنرل ، 2 خواتین ،2 علما اور ٹیکنوکریٹ نشستوں پر انتخاب ہوگا، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک جنرل اور ایک ٹیکنوکریٹ کی سیٹ پر انتخاب ہو گا۔

واضح رہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، ڈپٹی چیئرمین مرزا آفریدی، قائد ایوان اسحٰق ڈار، قائد حزب اختلاف ڈاکٹر شہزاد وسیم اور سینیٹر رضا ربانی سمیت سینیٹ کے 52 ارکان کی مدت 11 مارچ کو مکمل ہو گئی تھی، ایوان بالا میں اب فاٹا کی چاروں نشستیں ختم ہو جائیں گی اور نئی سینیٹ میں ارکان کی تعداد 100 سے کم ہو کر 96 رہ جائے گی۔

12 مارچ کو ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں 52 سینیٹرز کے ریٹائر ہونے کے بعد سینیٹ اب کم از کم 3 ہفتوں تک غیر فعال رہے گی۔

مزید بتایا تھا کہ سینیٹر کی مدت 6 سال ہوتی ہے لیکن ان میں سے نصف ہر 3 سال بعد ریٹائر ہو جاتے ہیں اور خالی نشستوں پر انتخابات کرائے جاتے ہیں، یہ انتخابات عام طور پر سینیٹرز کی مدت ختم ہونے سے کچھ روز قبل ہوجاتے ہیں لیکن اس بار ایسا نہیں ہو سکا۔

عام انتخابات میں تاخیر، انتخابات کے بروقت انعقاد میں الیکشن کمیشن کی ناکامی کی وجہ سے الیکٹورل کالج کی عدم موجودگی کے سبب یہ انوکھی صورتحال سامنے آئی ہے۔

ریٹائر ہونے والوں میں سے صرف 7 کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے، ان میں اپوزیشن لیڈر کے علاوہ اعظم سواتی، فیصل جاوید خان اور ولید اقبال سمیت دیگر شامل ہیں۔

پہلی بار 2015 میں سینیٹ میں آنے والی پارٹی پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپنی عددی اکثریت کی وجہ سے مارچ 2021 میں سینیٹ کی واحد سب سے بڑی جماعت بن گئی تھی۔

پیپلزپارٹی کے 21 میں سے 12 سینیٹرز اور مسلم لیگ (ن) کے 16 میں سے 11 سینیٹر کی مدت بھی مکمل ہو گئی۔

مشہور خبریں۔

حکومت نے عوام پر ٹیکس کا اضافی بوجھ کیوں ڈالا؟

?️ 4 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان کے حالیہ بجٹ پر نہ صرف اپوزیشن رہنماؤں نے

فلسطینیوں کے جانوں سے نیتن یاہو کا ظالمانہ کا رویہ 

?️ 27 اگست 2025سچ خبریں: امریکی ریاست میساچوسٹس کی سینئر ڈیموکریٹک سینیٹر الزبتھ وارن نے کہا

امریکہ-چین معاشی جنگ اور پاکستان کی حکمت عملی

?️ 19 مارچ 2021(سچ خبریں) امریکہ اور چین کے درمیان سیاسی و معاشی حالات کی

حزب اللہ کی سیاسی اور سماجی پابندیوں کا خاتمہ

?️ 20 ستمبر 2024سچ خبریں: حالیہ دنوں میں صیہونی حکومت نے لبنان کے ساتھ کشیدگی

ترکی نے یوکرین کو کلسٹر بم دیا: خارجہ پالیسی کا دعویٰ

?️ 11 جنوری 2023سچ خبریں:امریکی اشاعت فارن پالیسی نے اطلاع دی ہے کہ یوکرین کو

ای وی ایم میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کر سکتے: شبلی فراز

?️ 11 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شبلی فراز کا کہنا

آئی ایم ایف کو بجٹ اخراجات اور ٹیکسز پر تشویش ہے، وزیر مملکت برائے خزانہ

?️ 14 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہا

پاکستان نے بھارت کا نام سی کیٹیگری سے نکال دیا

?️ 14 اگست 2021اسلام آباد(سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے