?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ملک بھر میں انتخابات جنوری 2024 کے بجائے قومی اسمبلی تحلیل کیے جانے کے بعد 90 روز کی آئینی مدت کے اندر کروانے کی سفارش کردی۔
سینیٹر تاج حیدر کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس ہوا جس کے دوران سیکریٹری الیکشن کمیشن نے ایوان بالا کی کمیٹی کو بریفنگ دی۔
سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں دھاندلی نہیں ہوگی، ہمارے لیے کوئی فیورٹ نہیں ہے، ہمارے ساتھ بہت کچھ ہوا، اس کو پس پردہ رکھا ہوا ہے، ہم سب کولیول پلیئنگ فیلڈ دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ صوبائی حکومتیں رضامند نہیں تھیں لیکن ہم نے پھر بھی ملک میں بلدیاتی انتخابات کروائے، ان کا کہنا تھا کہ جو انتظامات کر رہے ہیں، اس میں دھاندلی کا کوئی امکان نہیں ہوگا، یقینی بنا رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن سے جو غلطیاں ماضی میں ہوئیں وہ دوبارہ نہ کی جائیں۔
اجلاس کے دوران قائمہ کمیٹی نے سفارش کی کہ الیکشن کمیشن، آئین کے تحت 90 روز کے اندر انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے، کمیٹی نے انتخابات کے دوران نتائج مرتب کرنے کے عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے رزلٹ منیجمنٹ کو مزید بہتر کرنے کی تجاویز بھی دیں۔
قائمہ کمیٹی نے کہا کہ الیکشن کمیشن، آئین کے اندر انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے، عمل اور طریقہ کار کو مزید محدود کیا جائے، الیکشن کمیشن آف پاکستان انتخابی شیڈول کا فوری اعلان کرے۔
واضح رہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی جانب سے انتخابات 90 روز میں کرانے کی سفارش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں عام انتخابات جنوری 2024 کے آخری ہفتے میں کرا دیے جائیں گے۔
الیکشن کمیشن نے اپنے اعلامیے میں انتخابات کی کوئی مخصوص تاریخ نہیں دی تھی، جنوری کے آخری ہفتے میں انتخابات کرانے کا اعلان 90 روز کی آئینی مدت پر غور و فکر کے بعد صدر عارف علوی کی جانب سے تجویز کردہ 6 نومبر کی کٹ آف تاریخ سے بھی متجاوز ہے۔
قومی اسمبلی اپنی آئینی مدت مکمل ہونے سے 3 روز قبل تحلیل کردی گئی تھی، اس لیے آئین کے آرٹیکل 224 کے تحت اسمبلی کی تحلیل کے 90 کے اندر 7 یعنی نومبر تک انتخابات کرانے کا کہا گیا ہے۔
سیکریٹری الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ بیان ادارے کی جانب سے ایک ماہ قبل کرائی گئی اس یقین دہانی کا ہی تسلسل ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ملک میں شفاف انتخابات جلد سے جلد کرائے جائیں گے اور تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کی جائے گی۔
الیکشن کمیشن کی یقین دہانی کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت پارٹی کے کئی سینئر رہنماؤں کی جانب سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران ’لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ہونے‘ سے متعلق سخت بیانات دیے گئے۔
پیپلز پارٹی نے موجودہ نگران سیٹ اپ میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے قریب سمجھے جانے والے بیوروکریٹس کی شمولیت کا حوالہ دیتے ہوئے اسے مسلم لیگ (ن) کی ہی حکومت قرار دیا ہے، جب کہ پی ٹی آئی کی جانب سے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔


مشہور خبریں۔
عراق نے داعش کا بین الاقوامی نیٹ ورک کو ختم کر دیا
?️ 2 ستمبر 2025عراق نے داعش کا بین الاقوامی نیٹ ورک کو ختم کر دیا
ستمبر
علیمہ خان کے 7 ویں مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
?️ 3 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) انسداد دہشت گردی عدالت نے بانی پی ٹی
نومبر
سویڈن حکومت قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والے مجرموں کے خلاف تادیبی کارروائی کرے، وزیراعظم
?️ 3 جولائی 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سویڈن
جولائی
ایران نے علاقائی مساوات کو کیسے بدلا؟
?️ 21 جون 2026سچ خبریں: ایران اور امریکہ کے درمیان 14 مادوں پر مبنی معاہدے پر
جون
پاکستان: پانی روکنے کی کسی بھی بھارتی کارروائی کا جواب حملے سے دیں گے
?️ 3 مئی 2025سچ خبریں: پاکستان کے وزیر دفاع نے دریائے سندھ پر ہندوستان کی
مئی
بائیڈن کا سعودی عرب اور اسرائیل کا دورہ ملتوی: امریکی میڈیا
?️ 4 جون 2022سچ خبریں: جب کہ بعض صیہونی ذرائع ابلاغ نے جو بائیڈن کے
جون
وفاقی کابینہ نے قومی سلامتی کمیٹی کےفیصلوں کی توثیق کر دی
?️ 20 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 16 مئی کو ہونے
مئی
سینیٹ نے ریپ ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کیلئے بل کی منظوری دے دی
?️ 29 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، وزارت امور خارجہ
ستمبر