سینیٹ انتخابات میں ترمیم کے لیئے ہمارے پاس اکثریت نہیں ہے: وزیر خارجہ

?️

ملتان (سچ خبریں) ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ  پورا پاکستان جانتا ہے کہ سینیٹ انتخابات پیسہ چلتا ہے ہم اس کے آئین میں ترمیم لانا چاہتے ہیں لیکن ہمارے پاس آئیں میں ترمیم لانے کے اکثریت نہیں ہے

انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات آپ کے سامنے ہوئے، اس میں منڈیاں لگ گئیں، زمینوں کے خریدار میدان میں اتر آئے انہوں نے ایم پی ایز کو خریدنے کی منڈی لگائی، عمران خان، تحریک انصاف نے اس کا نوٹس لیا کہ یہ روایت درست نہیں۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندگان اگر اپنا ووٹ بیچیں گے تو یہ عوام کے اعتماد کے سودے کے مترادف ہے، لوگ ان پر اعتماد کرکے ایک نظریے کے تحت چن کر ایک پارٹی کے پلیٹ فارم سے منتخب ہوکر آئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نوید قریشی، جاوید انصاری اور شاہ محمود قریشی اگر بلے کے نشان پر منتخب ہوکر آئے ہیں تو ہمارا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ ہم بلے کے نامزد اُمیدواروں کو ووٹ دیں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی والے اپنے منتخب لوگوں کو ووٹ دیں لیکن یہ جو منڈی لگتی ہے اسے بند ہونا چاہیے، یہ تحریک انصاف کا مؤقف ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ صرف پی ٹی آئی کا مؤقف نہیں بلکہ اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے میثاق جمہوریت کی شق 24 کا مطالعہ کریں تو اس میں لکھا ہے کہ اوپن بیلٹ ہونا چاہیے، آج میرا مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی قیادت سے سوال ہے کہ جب آپ نے ایک لکھا ہوا معاہدہ کیا ہوا ہے اور آپ کے دستخط موجود ہیں اور آپ نے اوپن بیلٹ کی حامی بھری تو آپ اس سے فرار کیوں اختیار کر رہے ہیں، قوم یہ جاننا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پر بحث چلی کے اس کے لیے آئینی ترمیم درکار ہے جبکہ کچھ ماہرین نے کہا کہ آئینی ترمیم درکار نہیں ہے تاہم وزیراعظم نے کہا کہ آئین کی تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے، ہم وہاں چلے جاتے ہیں اور ان سے گزارش کرتے ہیں کہ آپ آئین کی تشریح کرکے ہماری رہنمائی فرمائیں کہ کیا آپ کی رائے میں اس پر آرٹیکل 226 کا نفاذ ہوتا ہے یا نہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کیس سن رہی ہے اور عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا ہم اسے کھلے دل سے تسلیم کریں گے۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا میرا سوال ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) میثاق جمہوریت اور سینیٹ اجلاس میں قوم سے وعدہ کرتی ہے تو اب وہ اس سے منحرف کیوں ہورہی ہے، وہ منڈی کیوں لگانا چاہتے ہیں وہ لوگوں کے ضمیر کو کیوں خریدنا چاہتے ہیں وہ پارٹی کی طاقت کے مطابق ووٹوں کا استعمال کیوں نہیں ہونے دیتے، یہ ہمارا مؤقف ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے لیے ہمارے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے لیکن ہم نے ان کی بات کو سامنے رکھتے ہوئے آئینی ترمیم اسمبلی میں لے کر گئے ہیں اور کہا کہ یہ آپ کا مؤقف ہے اور اگر آئینی ترمیم درکار ہے تو آپ اپنے مؤقف کے مطابق ہمیں دو تہائی اکثریت دیں، اگر سپریم کورٹ فیصلہ کردیتی ہے تو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں، آپ ایسا کرنے دیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ تاہم بدقسمتی سے انہوں نے ایسا نہیں کرنے دیا، آج عمران خان کے بقول پوری قوم دیکھ لے اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے کہ کون کرپٹ پریکٹسز کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور کون ہیں جو خریدو و فروخت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ امتحان ہے، دوتہائی اکثریت ہمارے پاس نہیں ہے لیکن ہم نے گیند سپریم کورٹ اور عوام کی خدمت میں پیش کردی ہے۔

مشہور خبریں۔

نیتن یاہو کے امریکہ دورے کا اصلی مقصد؛صہیونی سفیر کی زبانی

?️ 1 فروری 2025سچ خبریں:امریکہ میں تعینات اسرائیلی سفیر نے کہا ہے کہ وزیراعظم بنیامین

صیہونی حکومت کو جنگ بندی میں کوئی دلچسپی نہیں:قطر 

?️ 15 مئی 2025 سچ خبریں:قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن نے اسرائیل پر الزام

روس کی یوکرین میں جنگ بندی پر مشروط رضامندی

?️ 14 مارچ 2025 سچ خبریں:روس نے یوکرین میں جنگ بندی کے بارے میں امریکہ

تمام بیماریوں کو ختم کرنے کی قوت رکھنے والا جوس کا ایک گلاس

?️ 6 فروری 2021 سچ خبریں: چقندر، گاجر اور سیب کا جوس کسی جادوئی دوائی سے

لاہور میں مریم اورنگزیب اور جاوید لطیف کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج

?️ 19 ستمبر 2022لاہور: (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور مسلم

تہران میں پاکستان کے سفیر کی 12 روزہ جنگ کے دنوں کی ان کہی باتیں

?️ 30 دسمبر 2025 سچ خبریں: تہران میں پاکستانی سفیر نے مسلط کردہ 12 روزہ

صہیونی فوجی سروس سے فرار

?️ 23 مارچ 2025سچ خبریں: اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور اسرائیلی وزیر دفاع

صیہونیوں کی لبنان دھماکوں کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش

?️ 19 ستمبر 2024سچ خبریں: صیہونی تجزیہ نگاروں کی جانب سے بیروت میں پیجر حملوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے