سینیٹرز کا کالعدم ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں میں اضافے پر اظہارِ تشویش

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومتی اور اپوزیش سینیٹرز  نے ٹی ٹی پی کی جانب سے دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اضافے پر خطرے کی گھنٹی بجا دی جبکہ پیپلز پارٹی کے سینیٹر نے وزارت داخلہ کی جانب سے کالعدم تنظیم کے حملوں سے متعلق حالیہ تھریٹ الرٹ کے بارے میں بریفنگ کا مطالبہ کیا۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے عوامی تشویش کے ایک نکتے پر چیئرمین صادق سنجرانی سے کہا کہ وہ وزیر داخلہ کو ہدایت کریں کہ وہ ٹی ٹی پی کے ساتھ امن مذاکرات کی موجودہ صورتحال کے بارے میں پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لیں۔

وزارت داخلہ نے حال ہی میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات منقطع ہونے کے بعد گروپ یا اس کے دھڑوں کی جانب سے دہشت گرد حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرے پر الرٹ جاری کیا تھا۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے نشاندہی کی کہ جب پہلی مرتبہ ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کا انکشاف ہوا تھا تو پارلیمنٹ کو آن بورڈ لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑے ایک معاملے کے بارے میں اس مطالبے کو سنی ان سنی کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ گروپ کے ساتھ جنگ بندی کی شرائط اور مذاکرات کی حیثیت کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘یہ جاننا لوگوں کا حق ہے کہ گروپ کے ساتھ کن حالات میں بات چیت ہوئی اور یہ کس موڑ پر ختم ہوئی اور ملک کو کن خطرات کا سامنا ہے کہ وزارت الرٹ استعمال کرنے پر مجبور ہوئی’۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع میں گزشتہ چند ماہ سے بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی کارروائیاں فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جانیں لے رہی ہیں۔

رضا ربانی نے کہا کہ ان حملوں میں سیاستدانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سوات میں دہشت گردی کے خلاف احتجاج کرنے والے پرامن لوگوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، ساتھ ہی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ریاست خود کہہ رہی ہے کہ دہشت گردی بڑھ رہی ہے۔

قبل ازیں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹرز سیمی ایزدی اور اعظم سواتی نے دہشت گرد حملوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد سوات پہنچ چکے ہیں، سینیٹر اعظم سواتی نے اس معاملے پر ایوان میں ان کیمرہ بریفنگ کا مطالبہ کیا۔

وزیر مملکت برائے قانون شہادت حسین نے اعتراف کیا کہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن سیکیورٹی فورسز کے ارکان اس خطرے کو روکنے کے لیے تیار ہیں اور وہ اس مقصد کے لیے اپنی جانوں کی قربانی دے رہے ہیں۔

اپوزیشن کے کچھ سینیٹرز نے سینیٹر منظور احمد کاکڑ کی قیادت می پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کے پختونوں کے خلاف نسل پرستانہ ریمارکس پر ایوان سے واک آؤٹ کیا جو حال ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل پر نشر کیے گئے تھے۔

قانون سازوں نے سابق وزیر سے معافی مانگنے اور اپنے ریمارکس واپس لینے کو کہا۔

پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چوہدری نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فواد اس ایوان کے رکن نہیں ہیں اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے جو کچھ کہا وہ صرف ہلکے پھلکے نوٹ پر تھا البتہ انہیں اس سے گریز کرنا چاہیے تھا۔

مشہور خبریں۔

امریکہ اور فرانس ایک بار پھر آمنے سامنے؛وجہ؟

?️ 19 اگست 2023سچ خبریں: نائیجر کی موجودہ صورتحال اور اس ملک میں فوجی بغاوت

عمان کے مفتی اعظم کی فلسطینی مزاحمتی تحریک کی مکمل حمایت

?️ 13 مئی 2023سچ خبریں:عمان کے مفتی اعظم نے غزہ کی جنگ اور فلسطینی مزاحمت

ہر ماہ مرگی کا شکار 400 بچے قومی ادارہ صحت برائے اطفال لائے جاتے ہیں، ماہرین

?️ 12 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ماہرین صحت نے اعصابی بیماری ’مرگی‘ کے بارے

شمالی کوریا: امریکہ مزید مغرور ہو گیا ہے۔ ہم جارحانہ اقدامات کریں گے

?️ 8 نومبر 2025سچ خبریں: شمالی کوریا کے وزیر دفاع نے کوریا کے پانیوں میں

میونخ سے برسلز تک روس کے خلاف مغربی ممالک کی نفسیاتی جنگ

?️ 22 فروری 2022سچ خبریں:میونخ سکیورٹی کانفرنس میں بھی روس کے خلاف نفسیاتی جنگ کو

صیہونیوں کی لبنان پر زمینی حملے کی دھمکیاں

?️ 28 ستمبر 2024سچ خبریں: اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر لبنان کی سرزمین پر

تہران میں پاکستان کے سفیر کی 12 روزہ جنگ کے دنوں کی ان کہی باتیں

?️ 30 دسمبر 2025 سچ خبریں: تہران میں پاکستانی سفیر نے مسلط کردہ 12 روزہ

روس نے امن معاہدے کے بدلے اہم رعایتیں پیش کی ہیں:امریکی نائب صدر

?️ 25 اگست 2025روس نے امن معاہدے کے بدلے اہم رعایتیں پیش کی ہیں:امریکی نائب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے