سیاسی بے یقینی کے سبب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک میں عام انتخابات کے باوجود سیاسی بے یقینی کے سبب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج بھی بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں 984 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔

پی ایس ایکس ویب سائٹ کے مطابق دوپہر تقریباً 12 بج کر 20 منٹ پر کے ایس ای-100 انڈیکس 984 پوائنٹس یا 1.61 فیصد تنزلی کے بعد 60 ہزار 35 کی سطح پر آگیا۔

اکثیر ریسرچ کے ڈائریکٹر اویس اشرف نے بتایا کہ وفاق میں ’کمزور اتحادی حکومت‘ کی تشکیل کی توقع اور پاکستان تحریک انصاف و دیگر جماعتوں کی جانب سے احتجاج کی کال نے سولات اٹھے ہیں کہ معاشی بحالی کے لیے ضروری سخت اصلاحات پر عملدرآمد کیسے ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح ریاستی ملکیتی کمپنیوں پر دباؤ برقرار ہے، اور اس کے نتیجے میں کے ایس ای-100 انڈیکس میں منفی رجحان دیکھا گیا۔

چیس سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ یوسف ایم فاروق نے نوٹ کیا کہ سیاسی بے یقینی کے علاوہ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی) اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے حصص پر دباؤ ہے، جس کی وجہ گردشی قرضے کے مسائل حل کرنے کے حوالے سے تاخیر ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے بعد کے ایس ای-100 انڈیکس میں 1133 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی تھی، جس کے بعد انڈیکس 61 ہزار 20 پر بند ہوا تھا۔

اس سے ایک روز قبل (14 فروری) پاکستان مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ق) اوردیگر اتحادی جماعتوں کی جانب سے مل کر حکومت بنانے کے اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی کا رجحان تھا، اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 926 پوائنٹس بڑھ گیا تھا۔

13 فروری کو سیاسی بے یقینی کے سبب ٹریڈنگ کے آغاز پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کمی کا رجحان مثبت میں تبدیل ہو گیا تھا، اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 161 پوائنٹس بڑھا تھا۔

12 فروری کو کاروباری ہفتے کے پہلے روز ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران شدید مندی کا رجحان رہا تھا، بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں 1878 پوائنٹس کی کمی ہوئی تھی، ماہرین نے اس کی وجہ ’سیاسی بے یقینی‘ کو قرار دیا تھا۔

چیس سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ یوسف ایم فاروق نے کہا تھا کہ ’ہفتے کے آخر میں سیاسی بے یقینی ’ کے سبب آج مارکیٹ کا آغاز دباؤ کے ساتھ ہوا۔

انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ سیاسی محاذ پر واضح ہونے تک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہے گا۔

گزشتہ ہفتے انتخابات کے بعد اگلے روز (9 فروری) انڈیکس میں 2300 پوائنٹس کی شدید مندی دیکھی گئی تھی، تاہم یہ بحالی کے بعد 1200پوائنٹس کی تنزلی پر بند ہوا تھا۔

الیکشنز سے ایک روز قبل (7 فروری) انڈیکس 344.85 پوائنٹس اضافے کے بعد 64 ہزار 143 پر پہنچ گیا تھا، جبکہ 6 فروری کو بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں 796 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا تھا۔

مشہور خبریں۔

صیہونی حکومت کے فوجی بجٹ میں اضافہ

?️ 27 دسمبر 2023سچ خبریں:بلومبرگ ویب سائٹ کے مطابق صیہونی حکومت غزہ پر اپنے فضائی

تحریک انصاف جلد اپنی تجاویز باضابطہ طور پرچیف جسٹس کو دے گی، عمرایوب

?️ 22 فروری 2025سرگودھا: (سچ خبریں) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف

ناممکن ہے کہ ہوانا سنڈروم کی وجہ روس ہو: امریکہ

?️ 2 مارچ 2023سچ خبریں:ریاستہائے متحدہ میں انٹیلی جنس تحقیقات دوسرے ممالک کے خلاف اپنے

پاکستان، ایران اور چین نے روس کے خلاف اقوام متحدہ کی قرارداد کے حق میں ووٹ نہیں دیا

?️ 25 فروری 2023سچ خبریں:پاکستان ، چین، ایران اور دیگر 29 ممالک نے اقوام متحدہ

دنیا میں امریکی مداخلت – 11 | مغربی ایشیا میں 2 سالوں میں بغاوتوں کا سلسلہ

?️ 3 دسمبر 2025سچ خبریں: دنیا میں امریکی مداخلتوں کے سلسلے کی رپورٹس کے گیارہویں

حکومت کے مخالفین بغض و عناد میں جل کر خاک ہو جائیں گے،فواد چوہدری

?️ 1 مارچ 2022لاہور(سچ خبریں)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے لاہور میں صحافیوں

ہم یمن میں جنگ بندی میں توسیع کے لیے کام کر رہے ہیں: اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی

?️ 18 مئی 2022سچ خبریں:  یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈ

غزہ کے لیے امداد؛ جارحیت کو وسعت دینے کا اسرائیل کا مکروہ منصوبہ

?️ 30 جولائی 2025سچ خبریں: غزہ کے لیے امداد کی آمد محض ایک فریب کاری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے