چیف جسٹس نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ تک رسائی سب کا حق ہے، صحافی قتل ہوگیا، سامنے آنا چاہیے کہ کس نے قتل کیا، چیف نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو واپس آئے کافی عرصہ ہوگیا، ارشد شریف کی والدہ کے خط پر انسانی حقوق سیل کام کر رہا ہے، حکومتی کمیشن کی حتمی رپورٹ تاحال سپریم کورٹ کو کیوں نہیں ملی؟ یہ کیا ہو رہا ہے، رپورٹ کیوں نہیں آرہی؟
عدالت عظمیٰ نے ارشد شریف قتل کیس کی رپورٹ کو آج ہی سپریم کورٹ میں جمع کروانے کی ہدایت کر دی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ ابھی تک ہمیں کیوں فراہم نہیں کی گئی، کیا آپ نے اس میں کوئی تبدیلی کرنی ہے، اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کل تک رپورٹ سپریم کورٹ کو جمع کروا دیں گے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آج جمع کرائیں تاکہ کل اس پر سماعت ہو سکے، 43 دن سے رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کی میڈیکل رپورٹ غیر تسلی بخش ہے، معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، 5 رکنی بینچ حالات کی سنگینی کی وجہ سے ہی تشکیل دیا ہے، صحافیوں کے ساتھ کسی بھی صورت بدسلوکی برداشت نہیں کی جائے گی، کوئی غلط خبر دیتا ہے تو اس حوالے سے قانون سازی کریں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا یہ درست ہے کہ قتل کا مقدمہ نہ کینیا میں درج ہوا نہ پاکستان میں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا، سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا علم نہیں، کینیا سے معلومات لے کر آگاہ کریں گے۔
عدالت نے دفتر خارجہ سے کینیا میں تحقیقات اور مقدمہ درج ہونے سے متعلق کل تک جواب مانگ لیا، چیف جسٹس نے کہا کہ ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ درج کیوں نہیں ہوا؟ سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کا جائزہ لے کر مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ ہوگا، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ کیا مقدمہ درج کرنے کا یہ قانونی طریقہ ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مقدمہ درج کیے بغیر تحقیقات کیسے ہوسکتی ہیں؟
چیف جسٹس نے کہا کہ صحافی سچائی کی آواز ہیں، انسانی زندگی کا معاملہ ہے، ارشد شریف نامور صحافی تھے، صحافی ہی معلومات کا ذریعہ ہیں، قتل سے متعلق عوام کو بہت خدشات ہیں، ارشد شریف قتل کے تمام حقائق کو سامنے لانا ہوگا، ارشد شریف کے قتل پر کس کس پر انگلی نہیں اٹھائی گئی۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا کینیا والے اپنی رپورٹ شیئر کریں گے؟ اس دوران صدر پی ایف یو جے افضل بٹ نے کہا کہ 2 ہفتے قبل ایک درخواست دی گئی، ارشد شریف قتل سے متعلق قوم سپریم کورٹ کی جانب دیکھ رہی ہے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ معاملے میں وزارت خارجہ کا کردار سب سے اہم ہے۔
عدالت عظمیٰ نے متعلقہ حکام کو آج رات تک ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے انکوائری رپورٹ آج (6 دسمبر کو) ہی جمع کرانے کا حکم دیا اور کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔
قبل ازیں آج صبح ہی سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل کا از خود نوٹس لیا تھا، یہ پیش رفت پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جانب سے چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھنے کے 3 روز بعد سامنے آئی ہے، اپنے خط میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ چیف جسٹس صحافی ارشد شریف کے قتل کی آزادانہ جوڈیشل انکوائری کرائیں۔
مشہور خبریں۔
نیتن یاھو کے ہاتھ میں بھی آخر کار موبائل
?️ 21 جون 2021سچ خبریں:سابق اسرائیلی وزیر اعظم جو موبائل فون رکھنے پر یقین نہیں
جون
جنگ بندی کے بعد غزہ کی پٹی میں جاسوسوں کو پھنسانے کے لیے وسیع مزاحمتی کارروائیاں
?️ 14 اکتوبر 2025سچ خبریں: غزہ کی پٹی کے سیکورٹی ذرائع نے اعلان کیا کہ
اکتوبر
امریکہ کے چھ بڑے شہروں میں پرتشدد جرائم میں اضافے کے چونکا دینے والے اعدادوشمار
?️ 23 جون 2022سچ خبریں: 2021 کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چھ بڑے
جون
بارزانی کا شام میں استحکام پر زور
?️ 6 فروری 2026 سچ خبریں: نیچروان بارزانی، عراقی کردستان خطے کے صدر، نے داعش
فروری
عالمی عدالت انصاف کا اسرائیل کو رفح پر حملہ روکنے کا حکم
?️ 25 مئی 2024سچ خبریں: دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف نے حق میں 13
مئی
ایرانی صدر کا روسی پارلیمنٹ سے خطاب
?️ 21 جنوری 2022سچ خبریں:اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے جمعرات کے
جنوری
جعفر ایکسپریس پر ایک بار پھر حملہ، ٹرین کو دوزان ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا
?️ 4 اگست 2025کوئٹہ: (سچ خبریں) کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر ٹرین جعفر ایکسپریس
اگست
میرے مخالفین مجھے 2024 کا الیکشن جیتنے سے روکنا چاہتے ہیں:ٹرمپ
?️ 6 اپریل 2023سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے کیس کی سماعت اور نیویارک
اپریل