?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ کل سنایا جائے گا۔میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ایڈیشنل رجسٹرار کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ جمعرات کو محفوظ کیا تھا۔
سپریم کورٹ میں بینچز کے اختیارات کا کیس مقرر نہ کرنے پر توہینِ عدالت کی سماعت جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی تھی۔
اس کے علاوہ، بینچز کے اختیارات کیس میں فل کورٹ کی تشکیل پر بھی عدالت نے دلائل طلب کیے تھے۔
ایڈیشنل رجسٹرار نے شوکاز نوٹس واپس لینے کی استدعا کر رکھی ہے، ایڈیشنل رجسٹرار کی شوکاز کے خلاف انٹراکورٹ اپیل بھی لارجر بینچ میں کل سماعت کے لیے مقرر ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ نے ججز کمیٹی کو خط لکھ کر انٹراکورٹ اپیل کے بینچ پر اعتراض کیا تھا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ججز کمیٹی کو ارسال کردہ خط میں جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر کی انٹرا کورٹ اپیل کے بینچ میں شمولیت پر اعتراض کیا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں موقف اپنایا ہے کہ 23 جنوری کو جوڈیشل کمیشن اجلاس ہوا، اجلاس کے بعد چیف جسٹس نے اپنے چیمبر میں کمیٹی کا غیر رسمی اجلاس بلایا، اجلاس میں تجویز دی کہ سنیارٹی کے اعتبار سے اپیل پر 5 رکنی بینچ بنایا جائے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں مزید لکھا ہے کہ انہوں نے تجویز دی کہ ان ججز کو شامل نہ کیا جائے جو کمیٹی کے رکن بھی ہیں، چیف جسٹس نے کہا وہ 4 رکنی بینچ بنانا پسند کریں گے۔
جسٹس منصور شاہ نے لکھا کہ رات 9 بجکر 33 منٹ پر میرے سیکریٹری کا واٹس ایپ میسج آیا، سیکریٹری نے مجھ سے 6 رکنی بینچ کی منظوری کا پوچھا، میں نے سیکریٹری کو بتایا کہ مجھے اس پر اعتراض ہے، صبح جواب دوں گا۔
سینئر جج نے خط میں مزید لکھا ہے کہ رات 10 بجکر 28 منٹ پر سیکریٹری نے بتایا 6 رکنی بینچ بن گیا ہے، انہوں نے لکھا کہ میرا بینچ پر دو ممبران کی حد تک اعتراض ہے۔
واضح رہے کہ 21 جنوری کو سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نے بینچز اختیارات کا کیس مقرر نہ ہونے کے معاملے پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین کو خط لکھا تھا۔
خط میں لکھا تھا کہ کمیٹی، جوڈیشل آرڈر کے خلاف نہیں جاسکتی تھی اور کیس 20 جنوری کو مقرر کرنے کی پابند تھی، ہمیں کمیٹی کے فیصلے کا معلوم نہیں، پورے ہفتے کی کاز لسٹ بھی تبدیل کردی گئی اور آرڈر جاری کیے بغیر کیسز کو بینچ کے سامنے سے ہٹا دیا گیا۔
خط میں کہا گیا تھا کہ عدالتی حکم کی تعمیل نہ کرنے پر آفس کی ناکامی اور ادارے کی سالمیت مجروح ہوئی، عدالت کے طے شدہ قانون کی خلاف ورزی کی گئی، بینچ کے نوٹس لینے کے دائرہ اختیار کو نہیں چھینا جاسکتا، بینچز کی آزادی کے بارے میں بھی سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
بعد ازاں، سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کو عہدے سے ہٹا دیا، اس حوالے سے جاری کیے گئے اعلامیہ میں کہا گیا کہ ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس سنگین غلطی کے مرتکب ہوئے، رجسٹرار سپریم کورٹ کو معاملے کو دیکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مزید کہا گیا کہ ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے آئینی بینچ کا مقدمہ غلطی سے ریگولر بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا، نتیجتاً سپریم کورٹ اور فریقین کے وقت اور وسائل کا ضیاع ہوا۔


مشہور خبریں۔
صیہونی کابینہ میں اختلاف کی اہم وجوہات
?️ 6 جنوری 2024سچ خبریں: 7 اکتوبر کے آپریشن میں تل ابیب کی ناکامی کے
جنوری
یوکرین کے لیے مغربی ممالک کی خفیہ پالیسی
?️ 30 دسمبر 2023سچ خبریں: پولیٹیکو نے متعدد باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے ایک
دسمبر
احمد شاہ مسعود فاؤنڈیشن کا افغانستان کی موجودہ صورتحال کے لئے افغان حکومت پر الزام
?️ 27 جولائی 2021سچ خبریں:احمد شاہ مسعود فاؤنڈیشن کے سربراہ نے افغان حکومت پر تنقید
جولائی
امریکی صحافی نے کن امریکی سینیٹرز کو پاگل کہا؟ اور کیوں؟
?️ 29 جنوری 2024سچ خبریں: امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے ایران پر حملہ کرنے کے
جنوری
الزیتون اسکول کے خلاف جنگی جرم کس کی سرپرستی ہوا؟ حماس کا بیان
?️ 22 ستمبر 2024سچ خبریں: فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے ایک بیان میں صہیونی
ستمبر
یمن کا علاقائی اور بین الاقوامی کردار
?️ 6 جنوری 2024سچ خبریں:انصاراللہ کے سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے کہا کہ
جنوری
صیہونی حکومت کے ساتھ طولانی جنگ بندی ناممکن : اسلامی جہاد
?️ 13 جون 2023سچ خبریں:اسلامی جہاد موومنٹ کے سیاسی دفتر کے رکن احسان عطایا نے
جون
ریابکوف: ایٹمی تصادم کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے
?️ 27 دسمبر 2025سچ خبریں: روس کے نائب وزیر خارجہ نے ایک انٹرویو میں جوہری
دسمبر