?️
اسلام آباد (سچ خبریں) تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ترجمان نے کہا ہے کہ سعدحسین رضوی کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔ٹی ایل پی کے ترجمان ابن اسمٰعیل نے کہا کہ سعد رضوی ٹی ایل پی کے مرکز مسجد رحمت اللعالمین پہنچ کر کارکنوں سے خطاب بھی کریں گے۔
صوبائی محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری مراسلے میں کہا گیا تھا کہ حافظ محمد سعد ولد خادم حسین کا نام انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی فورتھ شیڈول کی فہرست سے خارج کردیا گیا ہے۔
مراسلے میں کہا گیا تھا کہ ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی (ڈی آئی سی) کی سفارش پر ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کا نام فورتھ شیڈول میں رکھا گیا تھا۔
علاوہ ازیں صوبائی محکمہ داخلہ کے ذرائع نے بتایا تھا کہ حکومت پنجاب نے مزید 487 افراد کےنام بھی فورتھ شیڈول کی فہرست سے نکال دیے ہیں۔
انہوں نے بتایا تھا کہ اس سے قبل بھی ٹی ایل پی کے 90 افراد کے نام فورتھ شیڈول سے نکالے گئے تھے جس کے بعد مجموعی تعداد 577 ہوگئی ہے۔یاد رہے کہ 12 اپریل کو سعد رضوی کو امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے لاہور سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔
ان کی گرفتاری کے بعد جس پر ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جس نے بعدازاں پر تشدد صورت اختیار کرلی تھی جس کے پیشِ نظر حکومت نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کردی تھی۔
حافظ سعد حسین رضوی کو ابتدائی طور پر 3 ماہ تک حراست میں رکھا گیا اور پھر 10 جولائی کو دوبارہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایک وفاقی جائزہ بورڈ تشکیل دیا گیا جس میں 23 اکتوبر کو ان کے خلاف حکومتی ریفرنس لایا گیا۔
قبل ازیں یکم اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے سعد رضوی کی نظر بندی کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے خلاف حکومت نے اپیل دائر کی تھی تاہم لاہور ہائی کورٹ کا ڈویژن بینچ ابھی تک تشکیل نہیں دیا گیا۔
بعدازاں حکومت پنجاب نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر عدالت نے 12 اکتوبر کو سنگل بینچ کے حکم پر عمل درآمد معطل کردیا تھا اور ڈویژن بینچ کے نئے فیصلے کے لیے کیس کا ریمانڈ دیا تھا۔
تاہم 19 اکتوبر کو عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر نکالے گئے جلوس کو کالعدم جماعت نے اپنے قائد حافظ سعد رضوی کی رہائی کے لیے احتجاجی دھرنے کی شکل دے دی تھی۔
بعدازاں 3 روز تک لاہور میں یتیم خانہ چوک پر مسجد رحمت اللعالمین کے سامنے دھرنا دینے کے بعد ٹی ایل پی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
23 اکتوبر کو لاہور میں کالعدم ٹی ایل پی کے قائدین اور کارکنوں کے پولیس کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں 3 پولیس اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔
بعدازاں 28 اکتوبر کو بھی مریدکے اور سادھوکے کے قریب ٹی ایل پی کے مشتعل کارکنوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم 4 پولیس اہلکار جاں بحق اور 263 زخمی ہوگئے تھے۔
حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان مذاکرات ہوئے لیکن دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کا اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ۔
حکومت واضح طور پر اعلان کر چکی ہے کہ وہ پاکستان میں فرانسیسی سفارت خانے کو بند کرنے کے ٹی ایل پی کے مطالبے کو پورا نہیں کر سکتی، ساتھ ہی انکشاف کیا تھا کہ ملک میں فرانس کا کوئی سفیر نہیں ہے۔
اس کے علاوہ کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ ٹی ایل پی کو عسکریت پسند تنظیم قرار دیا جائے گا اور اسے کچل دیا جائے گا جیسا کہ اس طرح کے دیگر گروپس کو ختم کر دیا گیا ہے۔تاہم 30 اکتوبر کو ایک مرتبہ پھر ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔


مشہور خبریں۔
وہ صیہونی جن کو چھپ کر رہنا چاہیے
?️ 30 مئی 2022سچ خبریں: صیہونی حکومت کی حکمت عملی کو ایٹمی میدان سے لے
مئی
ملک بھر میں کورونا کی چوتھی لہر کا قہر جاری مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ
?️ 26 اگست 2021لاہور (سچ خبریں)تفصیلات کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک بھر
اگست
کیا بندوق کے زور پر نظریے کو ختم کیا جاسکتا ہے؟
?️ 18 نومبر 2023سچ خبریں: اردن کے وزیرخارجہ ایمن الصفدی نے یہ کہتے ہوئے کہ
نومبر
صیہونی حکومت نے شام کے کن حساس مقامات کو نشانہ بنایا؟
?️ 11 دسمبر 2024سچ خبریں:صیہونی حکومت نے حالیہ دنوں میں اپنے سب سے بڑے میزائل
دسمبر
ٹک ٹاک فحاشی پھیلانے کا سبب، پابندی عائد کی جائے، پنجاب اسمبلی میں قراداد جمع
?️ 16 ستمبر 2025لاہور: (سچ خبریں) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن رکن نے شارٹ ویڈیو شیئرنگ
ستمبر
یمنی ہمارے 70000 افراد کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں:امریکہ
?️ 25 دسمبر 2021سچ خبریں:سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے نے دعویٰ
دسمبر
عراق میں ترکی کے فوجی اڈے پر راکٹ حملہ
?️ 16 جنوری 2022سچ خبریں:شمالی عراق کے صوبہ موصل میں واقع ترکی کے ایک فوجی
جنوری
ٹرمپ کے بارے میں رہبر ایران کے بیانات بالکل ٹھیک ہیں:امریکی پروفیسر
?️ 19 جنوری 2026سچ خبریں:کیلیفورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر رامون گروسفوگوئلا نے امریکی صدر کے بارے
جنوری