سائفر کیس: عمران خان، شاہ محمود قریشی مرکزی ملزم قرار، چالان جمع

?️

سچی خبریں:(سچ خبریں) سائفر کیس میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے گزشتہ روز آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت میں چالان (چارج شیٹ) جمع کرادیا، جس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا۔

اس پیشرفت سے باخبر ذرائع نے بتایا کہ مقدمے کے دیگر ملزمان بشمول سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر کو چالان کے کالم 2 میں رکھا گیا ہے، اس کالم میں ٹرائل کے لیے نہ بھیجے گئے ملزمان کے نام شامل ہیں اور مفرور افراد کے نام بھی سرخ سیاہی سے درج ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو کالم 3 میں رکھا گیا ہے جس میں ٹرائل کے لیے بھیجے گئے ملزمان کے نام اور ایڈریس بتائے گئے ہیں۔

ایف آئی اے نے چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5 اور 9 کے تحت کیا جس کے تحت جرم ثابت ہونے پر سزائے موت یا 2 برس سے 14 برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

تفتیشی ایجنسی نے چالان میں 27 گواہوں کا حوالہ دیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سے تقریباً ایک درجن گواہوں کو گواہوں کے خانے میں پیش کیے جائے گا، مرکزی گواہ اعظم خان پہلے ہی عمران خان کے خلاف گواہی دے چکے ہیں، ان کا یہ بیان ان کی کئی مہینوں کی گمشدگی کے بعد سامنے آیا۔

اعظم خان نے مبینہ طور پر کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے اُس وقت پارلیمنٹ میں اپنے خلاف جمع کروائی گئی تحریک عدم اعتماد سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے سائفر کا استعمال کیا۔

بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ عمران خان نے اعظم خان کو بتایا کہ وہ اس سائفر کو عوام کے سامنے رکھیں گے اور یہ بیانیہ توڑ مروڑ کر پیش کریں گے کہ مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اُن کی حکومت کے خلاف غیر ملکی سازش رچی جا رہی ہے۔

بیان کے مطابق اعظم خان نے سائفر عمران خان کے حوالے کیا تھا جنہوں نے بعد میں اسے کھو دیا اور بار بار درخواست کے باوجود واپس نہیں لوٹایا۔

ایف آئی اے نے ٹرائل کورٹ میں چالان ایسے وقت میں جمع کروایا ہے جب عمران خان نے سائفر کیس میں بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست دائر کر رکھی ہے، اُن کے وکیل نے دیگر دلائل کے علاوہ نشاندہی کی کہ استغاثہ نے چالان پیش نہیں کیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ایف آئی اے کے چالان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے خفیہ سازش کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کے عدالتی کمیشن کی تشکیل کے مطالبے کو دہرایا تاکہ حقیقت کو سامنے لایا جا سکے۔

ترجمان پی ٹی آئی نے کہا کہ پارٹی سربراہ عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف ایف آئی اے کا چالان ’جعلی اور بوگس سائفر کیس کی طرح بے معنی اور بے سود ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ دفتر خارجہ میں یہ سائفر اب تک اپنی اصل حالت میں موجود ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سابق وزیر اعظم پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے دفتر خارجہ کی جانب سے فراہم کردہ سائفر کو ڈی کلاسیفائی کیا تھا لہٰذا آفیشل سیکرٹس ایکٹ کا اطلاق نہیں ہو سکتا اور کیس اپنی موت آپ مر گیا کیونکہ اصل سائفر کوڈڈ ہے اور صرف دفتر خارجہ کو اُس تک رسائی حاصل ہے۔

انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے بارہا اس سائفر کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جس کے لیے صدر پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان کو خطوط بھی بھیجے گئے لیکن آج تک کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔

مشہور خبریں۔

امریکی اور برطانوی ہتھیاروں سے یمنیوں کو ہلاک کیا جا رہا ہے:آکسفیم

?️ 14 جنوری 2023سچ خبریں:آکسفیم نے اپنی نئی رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ یمنی

وزیراعظم محمد شہباز شریف کل کوئٹہ کا دورہ کریں گے

?️ 7 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف کل کوئٹہ کا دورہ کریں

نومبر میں مہنگائی 6 فیصد تک رہیگی، ایل ایس ایم سیکٹر اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، وزارت خزانہ

?️ 29 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزارت خزانہ کے مطابق نومبر میں مہنگائی کی

بائیڈن کے دورے کے دوران سعودی صیہونی دوستی کے لیے اقدامات کے اعلان کا امکان

?️ 14 جولائی 2022سچ خبریں:بائیڈن کی سعودی عرب کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے بعد

مقبوضہ کشمیر نہ ہی بھارت کا حصہ ہے اور نہ ان کا اندرونی معاملہ ہے

?️ 26 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں

پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

?️ 21 ستمبر 2024لاہور: (سچ خبریں) سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 کو

شمالی وزیرستان میں سکیورٹی خدشات کے باعث دوسرے روز بھی کرفیو نافذ

?️ 21 اپریل 2025شمالی وزیرستان: (سچ خبریں) شمالی وزیرستان میں سکیورٹی خدشات کے باعث دوسرے

آگ سے کھیل رہے ہو؛حماس کا صیہونیوں سے خطاب

?️ 22 اگست 2022سچ خبریں:حماس کے ایک عہدیدار نے اس بات پر زور دیا کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے