دریاؤں میں پانی کی آمد، ارسا نے صوبوں کا شیئر بڑھا دیا، کپاس کی بہتر بوائی کی امیدیں روشن

?️

کراچی: (سچ خبریں) سندھ طاس معاہدے کے مطابق خریف سیزن کے لیے پانی کی قلت میں دو تہائی سے 27 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے صوبوں کے پانی کے شیئر میں اضافہ کر دیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس سے آنے والے دنوں میں کپاس کی بہتر بوائی کی امیدیں روشن ہوگئی ہیں، کیونکہ پہلے 43 فیصد پانی کی قلت سے خریف کی فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔

توقع ہے کہ ارسا اپنی ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کرے گی جو تقریباً ایک ماہ میں دوسرا اجلاس ہوگا، جس میں تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اور اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا صوبوں کو پانی کے اخراج میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ صوبائی پانی کے شیئر اور اخراج میں اضافے کا فیصلہ 5 رکنی ارسا کے اجلاس میں کیا گیا جس میں دریاؤں کے بہاؤ اور پانی ذخیرہ کرنے کی صورتحال میں نمایاں بہتری کا ذکر کیا گیا۔

ارسا ایڈوائزری کمیٹی نے اس سے قبل صوبائی دباؤ، خاص طور پر سندھ کی جانب سے پانی کی کم فراہمی اور پانی چھوڑنے کے دباؤ کا مقابلہ کیا تھا، اور زیادہ سے زیادہ قلت کے منظر نامے سے صوبوں کو آگاہی دی تھی۔

نتیجتاً صوبوں کو کم سے کم حصہ دیا گیا، زیادہ تر آبپاشی کے بجائے صرف پینے کے مقاصد کے لیے کافی تھا، ایک عہدیدار نے بتایا کہ صوبے عام طور پر جہاں ممکن ہو فصلوں کی بوائی میں تاخیر کرتے ہیں۔

پگھلتی برف، بارش

دریں اثنا اسکردو اور ملحقہ علاقوں میں درجہ حرارت 19 سے 20 فیصد تک پہنچ گیا اور گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران برف پگھلنے سے دریاؤں کے بہاؤ میں بہتری آئی ہے۔

تاہم ارسا نے متنبہ کیا ہے کہ بارشوں کے پیش نظر آئندہ 7 سے 8 دن میں درجہ حرارت میں کمی کی پیشگوئی کی گئی ہے، اور اس کے نتیجے میں ندیوں کا بہاؤ کم ہوجائے گا۔

عہدیدار نے کہا کہ ارسا نے صوبوں کو اپنے ہدف سے کم شیئر جاری کیا ہے، خاص طور پر سندھ کے معاملے میں تاکہ بوائی کے پورے زور و شور سے ہونے کے بعد متوازن فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ احتیاطی حکمت عملی رنگ لائی، اور سیزن کے آغاز میں پانی کی کمی کا تخمینہ 43 فیصد سے 16 فیصد کم ہو کر اب 27 فیصد رہ گیا، اور دریاؤں کے بہاؤ میں بہتری کی وجہ سے بڑے ڈیموں میں اس وقت تقریباً 13 لاکھ ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی ذخیرہ موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر متوقع آب و ہوا کے حالات میں محتاط نقطہ نظر کی ضرورت ہے، ایسے حالات میں موسم کا آغاز زیادہ پانی کے بہاؤ سے کرنے اور پھر کھڑی فصلوں کی قیمت پر اسے کم کرنے کے بجائے انتہائی قلت کے تخمینے سے شروع کرنا اور آہستہ آہستہ بوائی کی رفتار کے مطابق ریلیز میں اضافہ کرنا آسان تھا۔

صوبائی شیئر

ارسا نے آئندہ 10 روز کے لیے پنجاب کے پانی کی ریلیز 41 ہزار کیوسک سے بڑھا کر 64 ہزار 800 کیوسک، جب کہ سندھ کا حصہ 35 ہزار کیوسک سے بڑھا کر 45 ہزار کیوسک کر دیا ہے۔

خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو بالترتیب 1900 اور 500 کیوسک پر برقرار ہے، کیونکہ انہیں اپنے حصص میں کٹوتی کے اطلاق سے استثنیٰ حاصل ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد یکم اپریل سے شروع ہونے والی ایڈوائزری کمیٹی کی جانب سے پانی کی تقسیم کے وقت 22 ہزار کیوسک کے مقابلے میں اتوار کو بڑھ کر 52 ہزار کیوسک ہوگئی۔

اس بہاؤ کے مقابلے میں یکم اپریل کو پانی کا اخراج 15 ہزار کیوسک سے بڑھ کر اس وقت 20 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے، جس سے 4 لاکھ 35 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا رہا ہے، جب کہ ریزروائر میں پانی ذخیرہ کرنے کی سطح 1404 فٹ سے بڑھ کر 1427 فٹ ہو گئی ہے۔

دوسری جانب منگلا ڈیم پر دریائے جہلم میں پانی کا بہاؤ 42 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جب کہ رواں ماہ کے اوائل میں یہ تعداد 27 ہزار کیوسک تھی، اس کے اخراج کو بھی 15 ہزار کیوسک سے بڑھا کر 25 ہزار کیوسک کر دیا گیا۔

اس عرصے کے دوران منگلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی سطح 1074 فٹ سے بڑھ کر 1118 فٹ ہوگئی، جس سے آبی وسائل تقریباً صفر سے بڑھ کر 6 لاکھ 57 ہزار ایکڑ فٹ ہوگئے۔

اتوار کو ریم اسٹیشنز پر مجموعی بہاؤ ایک لاکھ 48 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جو یکم اپریل کو 93 ہزار کیوسک تھا، جب کہ مجموعی اخراج 73 ہزار کیوسک سے بڑھ کر 99 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، اتوار کو لائیو اسٹوریج 1.293 ایم اے ایف ریکارڈ کی گئی، سیزن کے آغاز میں یہ صفر تھی۔

26 مارچ کو ارسا نے پانی کی غیر معمولی قلت کی پیشگوئی کی تھی جس سے پورے سیزن کے لیے پانی کی فراہمی کی منصوبہ بندی کرنا غیر متوقع ہو گیا تھا، اس طرح مشاورتی کمیٹی نے اپریل کے مہینے کے لیے صرف ’پینے کی سپلائی‘ اور پھر صورتحال کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

ارسا ایڈوائزری کمیٹی نے نشاندہی کی تھی کہ تینوں اسٹوریجز میں سے کسی میں بھی اسٹوریج نہ ہونے کی وجہ سے ریم اسٹیشنز پر پانی کا اخراج 51 فیصد تک کم تھا، جو صوبائی نہروں کے ہیڈز تک پہنچتے ہوئے 60 فیصد سے تجاوز کر گیا۔

مارچ کے آخری ہفتے میں جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ارسا ایڈوائزری کمیٹی نے غیر واضح آب و ہوا کے پیرامیٹرز اور محکمہ موسمیات کی جانب سے پیش کردہ موسم گرما 2025 کے موسم گرما کے آؤٹ لُک کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف اپریل کے مہینے کے لیے 43 فیصد سسٹم شارٹ فال کے ساتھ پانی کی دستیابی کی منظوری دی۔

اس سے قبل محکمہ موسمیات نے اپریل، مئی اور جون کے مہینوں میں ملک کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں معمول سے کم بارش اور معمول سے زیادہ بارش کی پیش گوئی کی تھی اور بتایا تھا کہ سندھ اور جہلم کے آبی علاقوں میں موسم سرما کی برفباری معمول کے 49.7 انچ (یعنی 31 فیصد کم) کے مقابلے میں 26.8 انچ ریکارڈ کی گئی تھی، لہٰذا ریم اسٹیشن پر معمول کے مقابلے میں کم آمد ہوئی ہے۔

چاول، گنا، کپاس، مکئی اور ماش خریف سیزن کی کچھ اہم فصلیں ہیں، جو اپریل میں شروع ہوتی ہیں اور ستمبر تک رہتی ہیں۔

مشہور خبریں۔

غیر ملکی افواج کے نکلتے ہی کابل ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبہال لیں گے: طالبان

?️ 29 اگست 2021کابل (سچ خبریں) طالبان نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے نئے

وزیراعظم عمران خان جلد چار اہم وزارتوں میں تبدیلی کرنے جا رہے ہیں

?️ 15 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) سینئر صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے دعویٰ کیا

پاکستان نے بھارت میں کھیلنے کیلئے تحریری یقین دہانی کا مطالبہ کیا

?️ 28 فروری 2021لاہور{سچ خبریں} پاکستان نے ٹی20ورلڈکپ میں شرکت کیلئے بھارت سے ویزوں کیلئے تحریری یقین دہانی مانگ لی ہے۔ چیئرمین پی سی بی احسان مانی

یوکرینی صدر کے توہمات پر روس کا ردعمل

?️ 21 مئی 2025 سچ خبریں:روسی وزارت خارجہ نے زلنسکی کے دعوے کو توہمات بیمارگونه

اداکارہ حرا خان اور ارسلان خان شادی کی تقریبات زور و شور سے جاری

?️ 11 فروری 2023کراچی: (سچ خبریں) پاکستان شوبز انڈسٹری میں حال میں قدم رکھنے والے

یوٹیلیٹی اسٹورز کے آپریشنز بند کرکے اثاثے اور پراپرٹی حکومتی تحویل میں لینے کی تیاری

?️ 22 جنوری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت کی جانب سے سبسڈی روکنے

کراچی کے عوام کا اعتماد ضائع نہیں ہونے دیں گے، خالد مقبول صدیقی

?️ 7 فروری 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر خالد مقبول

تعلیمی اداروں میں چھٹیاں نہیں بڑھائی جائیں گی

?️ 28 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) عالمی وبا کورونا کی صورتحال کو مد نظر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے