حکومت کی وعدہ خلافی پر بلاول ناراض، احتجاجاً جوڈیشل کمیشن سے اپنا نام واپس لیا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیٹی میں مساوی نمائندگی کے وعدے کو پورا نہ کرنے پر احتجاجاً گزشتہ ہفتے جوڈیشل کمیشن سے اپنا نام واپس لے لیا۔

میڈیا کے مطابق حکومت کی اہم اتحادی جماعت پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اہم معاملات پر وعدہ خلافی اور مشاورت سے راہ فرار اختیار کرنے کا الزم عائد کرتے ہوئے ناراضی کا اظہار کردیا۔

ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت نے جوڈیشل کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی مساوی نمائندگی کے وعدے کو پورا نہیں کیا۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ بلاول بھٹو زرداری نے بطور احتجاج گزشتہ ہفتے جوڈیشل کمیشن سے اپنا نام واپس لیا۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت کے ساتھ پی پی پی کے مستقبل کا فیصلہ اب پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کرے گی، بلاول بھٹو وطن واپسی پر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلائیں گے جس میں اہم فیصلے ہوں گے۔

یاد رہے کہ ابتدائی طور پر حکومتی اتحاد کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے لیے ایوان زیریں (قومی اسمبلی) سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جب کہ ایوان بالا (سینیٹ) سے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی کو نامزد کیا گیا تھا۔

بعد ازاں، قومی اسمبلی سے مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی شیخ آفتاب کو نامزد کیا گیا جب کہ اپوزیشن سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب اور خاتون نشست پر روشن خورشید بروچہ کو نامزد کیا گیا۔

علاوہ ازیں، سینیٹ سے جوڈیشل کمیشن کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر فاروق نائیک اور پی ٹی آئی کے سینیٹر اور اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نامزد کیے گئے۔

کمیشن کے ارکان میں وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور کم از کم 15 سالہ تجربے کا حامل پاکستان بار کونسل کا ایک نمائندہ بھی شامل ہوگا۔

26ویں آئینی ترمیم کے مطابق 13 رکنی جوڈیشل کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس پاکستان ہوں گے جب کہ عدالت عظمیٰ کے 3 سینیئر ترین ججز بھی کمیشن کا حصہ ہوں گے اور آئینی بینچ کا سینئیر ترین جج بھی جوڈیشل کمیشن کا رکن ہوگا۔

آئینی بینچز کی تشکیل کے بعد آئینی بینچ کا سب سے سینئر جج جوڈیشل کمیشن کا رکن بن جائے گا، اگر آئینی بینچ کا سینئر ترین جج پہلے سے کمیشن کا رکن ہوا تو اس کے بعد کا سینئر جج رکن بن جائے گا۔ یوں 26ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں جوڈیشل کمیشن 13 ارکان پر مشتمل ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا انتخاب کیا گیا ہے، اس سے قبل الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے کی روشنی میں سپریم کورٹ کا سب سے سینیئر جج ہی ملک کا چیف جسٹس ہوتا تھا۔

مشہور خبریں۔

پاکستان نے ایک بار پھر فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھنے اعلان کیا

?️ 7 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) عالمی یوم قدس کے موقع پر دفتر خارجہ کے

ایران اور امریکہ کے مذاکرات کے پس پردہ تفصیلات کا انکشاف 

?️ 24 جون 2026سچ خبریں: وال اسٹریٹ جرنل کی ایک تازہ رپورٹ میں ایران اور امریکہ

عمران خان کی 9مئی کے 4 مقدمات میں ضمانت کا تحریری فیصلہ جاری

?️ 16 نومبر 2024 لاہور: (سچ خبریں) لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے پاکستان تحریک

ایف بی آر میں عالمی معیار کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی تشکیل کی منظوری

?️ 26 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف

شیریں مزاری کا اقوام متحدہ کے خصوصی مندوبین کو خط

?️ 5 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)پی ٹی آئی کی رہنما اور شیریں مزاری نے خط

حکومتی شخصیات کو توہین عدالت کا مرتکب ٹھہرانے کی کوشش کی جارہی ہے، اعظم نذیر تارڑ

?️ 25 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ  نے سابق چیف

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ، متاثرہ سکھ برادری سے ملاقات

?️ 29 اگست 2025گوجرانوالہ: (سچ خبریں) پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

اسپیکر قومی اسمبلی کا مذاکراتی کمیٹیاں برقرار رکھنے کا فیصلہ

?️ 1 فروری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے حکومت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے