حکومت بدنیتی اور عجلت میں ترمیم نہ لاتی تو جوڈیشل پیکج پر ضرور غور کرتے: علی ظفر

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سینیٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پارلیمانی لیڈر علی ظفر نے کہا ہے کہ حکومت بدنیتی اور عجلت میں ترمیم نہ لاتی تو پی ٹی آئی جوڈیشل پیکج پر ضرور غور کرتی۔

جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم کے حوالے سے حکومت کا نمبر گیم اوور ہو گیا ہے، ہمارے تمام آزاد ارکان پارٹی وابستگی کا سرٹیفکیٹ جمع کروا چکے ہیں۔

سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینیٹر شبلی فراز بولے کہ حکومت نے آئینی ترامیم کو چھپا کر متنازع بنا دیا ہے۔

پارلیمانی لیڈر  علی ظفر کا کہنا تھا کہ حکومت کے نمبر پورے نہیں ہو رہے اس لیے وہ دوسری تدابیر اختیار کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئینی ترامیم کا مجوزہ پیکج آج پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق آئینی ترمیم کے ذریعے آئینی عدالت قائم کی جائے گی، آئین کے آرٹیکل 63 اے میں بھی ترمیم کی جائے گی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس آج دن ساڑھے گیارہ بجے اور سینیٹ کا اجلاس آج شام چار بجے طلب کیا گیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی اجلاس سے پہلے کابینہ کا اجلاس بھی آج ہی طلب کیا ہے، اجلاس میں آئينی ترمیم کے مسودے کی منظوری دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق عدلیہ سے متعلق آئینی ترمیم میں سپریم کورٹ کے ججوں کی مدتِ ملازمت 65 سال سے بڑھا کر 68 سال کرنے اور ہائی کورٹس کے ججوں کی مدتِ ملازمت 62 سال سے بڑھا کر 65 سال کرنے کی تجویز شامل ہے جبکہ جج تقرری کے طریقۂ کار میں بھی تبدیلی کا امکان ہے۔

ممکنہ قانون سازی کے مسودے میں جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کو ایک بنانے کی تجویز آئینی ترمیم کا حصہ ہوگی۔

قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کیلئے 224 ووٹ درکار ہوں گے جبکہ حکومتی گنتی 211 ہے۔ سینیٹ میں 64 ووٹ درکار ہوں گے جبکہ حکومتی گنتی 54 ووٹ موجود ہیں۔

مجموعی طور پر قومی اسمبلی کی 211 حکومتی نشستوں میں مسلم لیگ ن کے 110، پیپلز پارٹی کے 68، ایم کیو ایم کے 22، آئی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ ق کے 4-4 ارکان شامل ہیں۔ مسلم لیگ ضیا اور بی اے پی کے 1-1 رکن بھی حکومتی اتحاد میں شامل ہیں۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن بینچوں پر 101 ارکان موجود ہیں جن میں سنی اتحاد کونسل کے 80، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ 8 آزاد ارکان، جے یو آئی ف کے 8، بی این پی، مجلس وحدتِ مسلمین اور پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے 1-1 رکن بھی اپوزیشن بینچوں کا حصہ ہیں۔

آئینی ترمیم کیلئے حکومت کو مزید 13 ارکان کی حمایت درکار ہے، جے یو آئی ف کے 8 اراکین شامل ہونے پر بھی 5 ووٹ مزید درکار ہوں گے۔

مشہور خبریں۔

مغرب G20 اجلاس کی ترتیب کو تبدیل کرنے میں ناکام رہا

?️ 11 ستمبر 2023سچ  خبریں: روسی وزیر خارجہ نے یوکرین میں جنگ، ماسکو اور یریوان

بلوچستان کے علاقے وڈھ میں دستی بم پھٹنے سے بچہ جاں بحق

?️ 17 اکتوبر 2023کوئٹہ: (سچ خبریں) بلوچستان کے علا قے وڈھ میں دستی بم پھٹنے

‏صدر مملکت نے ریکوڈک ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کر دیا

?️ 18 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف کی سفارش پر صدر مملکت

امریکہ کی سعودی عرب کو 3.5 ارب ڈالر کے میزائل فروخت کرنے کی منظوری

?️ 4 مئی 2025 سچ خبریں:امریکی محکمہ خارجہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع دورہ ریاض

ایران کا اسلامی انقلاب، اسلامی حکومت کی کامیاب مثال ہے: طالبان

?️ 9 فروری 2025سچ خبریں: ہرات میں طالبان کی وزارت خارجہ کے نائب نمائندے رحمت

سعودی ولی عہد کے بھائی بھی بھائی کے عتاب کا شکار

?️ 1 مئی 2021سچ خبریں:سعودی سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اس ملک کے

پاکستانی پارلیمنٹ کے اسپیکرنے ایران اور چین کے ساتھ پارلیمانی سفارتکاری کی حمایت

?️ 14 اکتوبر 2021سچ خبریں: اسد قیصرایک نیوز رپورٹر جنہوں نے اسلامی مشاورتی اسمبلی میں

صیہونیوں کے شر کے خلاف انتھک جدوجہد کا وقت آ پہنچا

?️ 26 دسمبر 2021سچ خبریں: فلسطین کی اسلامی جہاد موومنٹ نے مقبوضہ فلسطین میں تازہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے