جے یو آئی( ف ) اور جماعت اسلامی کا فلسطینی مسلمانوں کیلئے مشترکہ جدوجہد پر اتفاق

?️

لاہور: (سچ خبریں) سربراہ جمعیت علمائے اسلام ( ف ) مولانا فضل الرحمٰن اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ فلسطین کی صورتحال امت مسلمہ کے لیے باعث تشویش ہے، سیاسی جماعتیں اس حوالے سے اپنا مؤقف واضح کریں اور مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہوں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے ہمراہ لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی صورتحال امت مسلمہ کے لیے باعث تشویش ہے، فلسطینیوں کے لیے ملک بھر میں ہم بیداری کی مہم چلائیں گے، تاکہ ہماری قوم، امت مسلمہ اور اس کے حکمران یکسو ہوکر مظلوم فلسطینیوں کے مداوے کے لیے کچھ کردار ادا کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے 27 اپریل کو مینارپاکستان پر بہت بڑا جلسہ اور مظاہرہ ہوگا، جس میں مذہبی جماعتیں شرکت کریں گی۔

سربراہ جے یو آئی ( ف ) نے کہا کہ ’ مجلس اتحاد امت ’ کے نام سے ایک پلیٹ فارم تشکیل دے رہے ہیں، لاہور میں اجتماع بھی اسی پلیٹ فارم کے تحت ہوگا، جس میں تمام مذہبی پارٹیاں اور تنظیمیں شریک ہوں گی اور مینار پاکستان جلسے میں فلسطینیوں سےاظہاریکجہتی کریں گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں کہا کہ فلسطین کے معاملے پر امت مسلمہ کا بڑا واضح موقف ہونا چاہیے مگر ایسا نہیں ہے اور یہ امت مسلمہ کی کمزوریاں ہیں، امت مسلمہ کو اپنے حکمرانوں کے رویے سے شکایت ہے کہ وہ اپنا حقیقی فرض کیوں ادا نہیں کررہے۔

ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ صوبائی خودمختاری کے حوالے سے جے یو آئی کا منشور بڑا واضح ہے، ہر صوبے کے وسائل اس صوبے کے عوام کی ملکیت ہیں، ہمارا آئین بھی یہی کہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے لوگ اگر اپنے حق کی بات کرتے ہیں تو انہیں روکا نہیں جاسکتا، بہتر ہوتا کہ ہم مرکز میں تمام صوبوں کو بٹھاتے اور متفقہ لائحہ عمل طے کرتے، یہ حکمرانوں کی نااہلی ہے کہ ہر مسئلے کو متنازع بنادیتے ہیں۔

26 ویں ترمیم کے حوالے سے اظہارخیال کرتے ہوئے مولانا نے کہا اس ترمیم پر ہمارا اختلاف تھا اسی لیے 56 شقوں میں سے حکومت کو 34 شقوں سے دستبردار کرایا گیا۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ اس وقت امت مسلمہ اور انسانیت کا سب سے بڑا مسئلہ فلسطین اور غزہ ہے، اسرائیل امریکا کی سرپرستی میں ظلم کررہا ہے، اس پر ہمارا اتفاق ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں اس حوالے سے اپنا موقف واضح کریں، اور مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہوں اور ظالموں کی مذمت کریں، چاہے وہ امریکا ہو یا اسرائیل ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں سب کو آئین اور جمہوریت کی بالادستی ہونی چاہیے اور سب کو قبول کرنی چاہیے، اور تمام اداروں کو اپنی اپنی آئینی حدود میں کام کرنا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی کا اپنا ایک نظام ہے، 26 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے جماعت اسلامی کا اپنا ایک موقف ہے اور ہم نے اس ترمیم کو کلیتاً مسترد کیا تھا، اپنے اپنے پلیٹ فارم سے ہم جدوجہد کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا الیکشن کے حوالے سے موقف تھوڑا سا مختلف ہے، ہم الیکشن میں دھاندلی کے موقف پر جے یو آئی سے اتفاق کرتے ہیں مگر ہم فوری طور پر نئے الیکشن کا مطالبہ نہیں کررہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اس پر ہمارا موقف ہے کہ چونکہ فارم 45 اکثر لوگوں کے پاس موجود ہے اور انتخاب کو ابھی ایک سال ہوا ہے، تو ہمارا موقف یہ ہے کہ اتفاق رائے سے ایک جوڈیشل کمیشن بنایا جائے جو فارم 45 کی بنیاد پر فیصلے کرے۔

مشہور خبریں۔

پاکستان کی طرف سوچ سمجھ کر دیکھنا، وزیر خارجہ کا مودی کو پیغام

?️ 27 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور وزیر

پان منجوم سے آبنائے ہرمز تک؛ وہ سبق جو امریکہ نے کوریا کی جنگ سے نہیں سیکھے

?️ 6 اپریل 2026سچ خبریں: امریکہ کو کوریا کی جنگ میں اسٹریٹجک شکست ہوئے سات

جسٹس مظاہر نقوی کی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد

?️ 9 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس مظاہر نقوی

اسرائیل کا اسماعیل ہنیہ کے قتل کا اعتراف

?️ 24 دسمبر 2024سچ خبریں:اسرائیلی وزیر جنگ نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ صیہونی

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی تشکیل نو کا نوٹیفکیشن جاری

?️ 23 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر قومی ادارہ

امریکہ کے ساتھ کسی بھی فوجی تنازع کے لیے تیار ہیں:شمالی کوریا

?️ 29 جولائی 2022سچ خبریں:شمالی کوریا کے رہنما نے کہا کہ پیانگ یانگ امریکہ کے

چین کا امریکی عہدیدار کو تلخ جواب

?️ 1 جولائی 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ میں سابق امریکی سفیر، بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان

G-7 کی پالیسیوں کے خلاف جرمنوں کا احتجاج

?️ 28 جون 2022سچ خبریں:جرمن شہریوں کی ایک بڑی تعداد G-7 سربراہی اجلاس کی جگہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے