جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ میں 6 ججز تعینات کرنےکی منظوری دی

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق، سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شفیع صدیقی،بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہاشم کاکڑ اور پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم سمیت 6 ججز کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی منظوری دے دی۔

ڈان نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں 8 نئے ججز کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا۔

ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق، سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شفیع صدیقی،بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہاشم کاکڑ اور پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی منظوری دے دی ہے۔

اس کے علاوہ جسٹس خلیل احمد اور جسٹس صلاح الدین پنہور کی بھی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی منظوری دی گئی۔

ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ میں 6 ججز تعینات کرنےکی منظوری دی ہے جبکہ جسٹس گل حسن اورنگزیب قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ مقرر کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کمیشن اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا ہے، دونوں ججز جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں سپریم کورٹ میں 8 نئے ججز کی تقرری کے لیے 25 ناموں پر غور کیا جارہا ہے، ان ججز میں تمام ہائی کورٹس کے 5 سینئر ترین ججز کے نام شامل ہیں۔

یاد رہے کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس سے چند روز قبل سپریم کورٹ کے 4 ججز، جن میں جوڈیشل کمیشن کے 2 ارکان جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر بھی شامل ہیں، نے اجلاس موخر کرنے کے لیے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا، جب کہ کمیشن میں شامل پی ٹی آئی کے رکن علی ظفر نے بھی اجلاس مشروط طور پر موخر کرنے کے لیے خط تحریر کیا تھا۔

سینیٹر علی ظفر نے خط میں لکھا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ججز کی سنیارٹی کا معاملہ حل ہونے تک اجلاس مؤخر کیا جائے۔

خط میں کہا گیا تھا کہ ججز کے ٹرانسفر سے اسلام آباد ہائی کورٹ کی سنیارٹی لسٹ تبدیل ہوگئی ہے، ججز کے تبادلے سے تاثر ہے کہ یہ سارا بندوبست بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں کے لیے کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ وکلا ایکشن کمیٹی کی جانب سے 26 ویں آئینی ترمیم اور جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے، اب سے کچھ دیر قبل احتجاجی وکلا نے اسلام آباد کے سرینا چوک سے سپریم کورٹ جانے کی کوشش کی تو وکلا اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپ ہوگئی، پولیس نے احتجاجی وکلا پر لاٹھی چارج بھی کیا۔

وکلا نے احتجاج کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی جانب مارچ کا آغاز کیا، اس دوران انتظامیہ نے سرینا چوک کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا تھا، انتظامیہ نے ریڈ زون کو بھی مکمل سیل کر رکھا ہے، وکلا اس وقت ڈی چوک پہنچ چکے ہیں جہاں انہوں نے دھرنا دے دیا ہے۔

پولیس اور وکلا کے درمیان جھڑپ کے بعد احتجاجی وکلا منتشر ہوگئے اور سری نگر ہائی وے پر دھرنا دے دیا، بعد ازاں پولیس نے انہیں وہاں سے بھی منتشر کر دیا، جس کے بعد وکلا ڈی چوک پر پہنچ کر دھرنا دے کر بیٹھ گئے تھے۔

مشہور خبریں۔

جرمن قانون ساز نے اپنے ہی ملک کی حکومت کے جنگی عہدوں پر حملہ کیا

?️ 29 اگست 2022سچ خبریں:   برلن میں جرمن نمائندے سیوِم ڈاگڈیلن نے زور دے کر

پی ڈی ایم کے تمام فیصلے اتفاق رائے سے ہوتے ہیں: یوسف رضا گیلانی

?️ 13 فروری 2021اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر

کیا یوکرین والے فلسطینیوں سے زیادہ انسان ہیں؟

?️ 28 اکتوبر 2023اقوام متحدہ میں فلسطین کے مستقل نمائندے نے غزہ اور یوکرین کے

بیلا حدید کا فلسطینیوں کی حفاظت اور حمایت جاری رکھنے کا فیصلہ

?️ 16 مئی 2021نیویارک(سچ خبریں)فلسطینی نژاد امریکی ماڈل بیلا حدید نےفلسطینیوں کی حفاظت اور حمایت

حماس کا بین الاقوامی عدالت کے نام پیغام

?️ 11 جنوری 2024سچ خبریں: غزہ میں نسل کشی کے الزام میں صیہونی حکومت کے

اسلامی ممالک کے سربراہی اجلاس میں کیا ہوا؟

?️ 12 نومبر 2023سچ خبریں: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں اسلامی ممالک کے سربراہان

عرب مالیاتی فنڈ کی عرب ممالک کے معاشی نقطہ نظر پر رپورٹ

?️ 3 جون 2023سچ خبریں:عرب مالیاتی فنڈ نے پیش گوئی کی ہے کہ عرب ممالک

ٹرمپ کی دلدل حکمت عملی؛ ایران کے خلاف بحری محاصرہ، ناکامی کی قیمت میں اضافہ

?️ 15 اپریل 2026سچ خبریں:لبنانی اخبار الاخبار کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے