?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) بلوم برگ نے کہا ہے کہ رواں سال 30 جون کے آخر تک پاکستان کو مزید 3 ارب 70 کروڑ ڈالر کا بیرونی قرضہ ادا کرنا ہوگا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اس پورے مالی سال کے دوران پاکستان دوست ممالک اور کثیر الجہتی قرضہ دینے والے اداروں کی مدد سے دیوالیہ ہونے سے بچنے کی جدوجہد کرتا رہا لیکن آئندہ مالی سال بھی ڈالر کی شدید ضرورت کے ساتھ شروع ہونے والا ہے۔
بلوم برگ کے ساتھ ایک انٹرویو میں فچ ریٹنگ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ پاکستان کو جون 2023 تک 3 ارب 70 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کرنی ہوگی۔
فِچ کے عہدیدار کو توقع ہے کہ چین اگلے ماہ 2 ارب 40 کروڑ ڈالر کا قرض رول اوور کردے گا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کو مئی میں 70 کروڑ ڈالر اور جون میں 3 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حمایت کے باوجود آئی ایم ایف غیر مطمئن رہا اور ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کے لیے عملے کی سطح کا معاہدہ ہو نہ سکا۔
وزیر اعظم اور وزیر خزانہ اعلان کرتے آرہے ہیں کہ پاکستان نے نویں جائزے کو مکمل کرنے کے لیے تمام پیشگی شرائط پوری کر دی ہیں لیکن آئی ایم ایف غیر متحرک ہے۔
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام شرائط پوری ہونے کے بعد آئی ایم ایف کو قسط جاری کردینی چاہیے، قسط کے اجراء میں تاخیر سے معیشت پر برا اثر پڑے گا۔
تاہم فِچ ریٹنگز کو توقع ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف ایک معاہدے تک پہنچ جائیں گے کیوں کہ پاکستان کو پہلے ہی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے مالی وعدے مل چکے ہیں۔
آزاد معاشی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ڈیفالٹ اور بیرونی قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ دونوں ہی معیشت کے لیے بہت نقصان دہ ہوں گے اور پاکستان چین کے تعاون دونوں صورتوں سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
حال ہی میں پاکستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے معیشت کو سہارا دینے کے لیے بظاہر چین کا دورہ کیا جبکہ پاکستان کا دورہ کرنے والے چینی وزیر خارجہ کی جانب سے ملک کی تباہ حال معیشت کے لیے کچھ اچھی خبروں کا اعلان متوقع ہے۔
خیال رہے کہ بیجنگ اسلام آباد کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے لیکن تجارت کا توازن مجموعی طور پر چین کے حق میں ہے، پاکستان کے پاس اپنی برآمدات کو دنیا کی دوسری بڑی معیشت تک بڑھانے کی بڑی گنجائش ہے۔
تاہم، بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی پاور کمپنیاں ادائیگیوں میں تاخیر سے خوش نہیں ہیں، بجلی کا بڑھتا ہوا قرضہ چین کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے اور پاکستان زرمبادلہ کے انتہائی کم ذخائر کی وجہ سے منافع باہر بھیجنے کی بھی اجازت نہیں دے رہا ہے۔


مشہور خبریں۔
ٹرمپ کا ارجنٹائن سے صیہونی حکومت کا وعدہ
?️ 26 نومبر 2025سچ خبریں: بیونس آئرس میں صیہونی حکومت کے وزیر خارجہ گڈیون سعیر سے
نومبر
ٹک ٹاک کی جانب سے نابالغ بچوں کو جنسی مواد دیکھنے کی ترغیب دیے جانے کا انکشاف
?️ 12 اکتوبر 2025سچ خبریں: شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کے الگورتھم کی
اکتوبر
سمندر سے دریا تک صیہونیت کے خاتمے کے لیے سب سے بڑا چیلنج
?️ 17 جولائی 2022سچ خبریں: یایر لاپیڈ کو یکم جولائی کو صیہونی حکومت کے
جولائی
اسرائیل صحافیوں کا بدترین دشمن ہے: رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز
?️ 9 دسمبر 2025سچ خبریں:رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے اپنی سالانہ رپورٹ میں اسرائیل کو غزہ
دسمبر
غزہ جنگ میں صہیونی فوج کے چونکا دینے والے رویے
?️ 20 دسمبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کی چھاتہ بردار بٹالین کے کمانڈر کے پہلے دنوں
دسمبر
وزیراعظم شہباز شریف 26 اور 27 نومبر کو بحرین کا دورہ کرینگے۔ دفتر خارجہ
?️ 25 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف 26 اور 27 نومبر
نومبر
پاکستانی وزیر اعظم کا دورہ تہران؛ متحدہ حکومت کی پڑوسی سفارت کاری کو مضبوط بنانا
?️ 25 مئی 2025سچ خبریں: پاکستانی وزیر اعظم کا آئندہ دورہ تہران، علاقائی تعاملات کو
مئی
اب ایک اور قاتل انسانوں کی جانیں لینے کے لئے تیار
?️ 24 جون 2021نیویارک (سچ خبریں) کورونا وائرس کے بعد ایک اور قاتل انسانوں کی
جون