جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف شکایات: چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس طارق مسعود سے رائے طلب کرلی

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) کے سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان (سی جے پی) عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ کے موجودہ جج جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف دائر متعدد شکایات پر جسٹس سردار طارق مسعود سے رائے طلب کرلی۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے شکایات میں جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی پر ججوں کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

جسٹس سردار طارق مسعود اِس وقت چیف جسٹس اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بعد سپریم کورٹ کے تیسرے سینیئر ترین جج ہیں اور 5 رکنی سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن ہیں۔

جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف شکایات مسلم لیگ (ن) لائرز فورم، پاکستان بار کونسل (پی بی سی)، سندھ بار کونسل (ایس بی سی)، لاہور سے تعلق رکھنے والے وکیل ایڈووکیٹ میاں داؤد اور ایڈووکیٹ غلام مرتضیٰ خان سمیت دیگر نے دائر کی ہیں۔

سندھ بار کونسل نے اپنی شکایت میں 2014 کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا ہے جس میں اس وقت کے جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس اعجاز احمد چوہدری پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے جسٹس مظاہر نقوی کے طرز عمل کے بارے میں کچھ تبصرے کیے تھے جب وہ لاہور ہائی کورٹ میں جج تھے۔

بینچ نے مشاہدہ کیا کہ فوری طور پر مقدمے میں غیر قانونی حکم کو منظور کرتے ہوئے ماہر جج (جواب دہندہ) کی جانب سے استعمال کی گئی صوابدید ہمیں کچھ الگ دکھائی دیتی ہے کیونکہ اسی بنیاد پر سزا کی معطلی کی دوسری درخواست کو خارج کرنے کے بعد تیسری درخواست میں بھی صرف وکیل کا ہی فرق ہے۔

فیصلے میں مشاہدے کے بعد مدعا علیہ جج نے نظرثانی کی درخواست دائر کی جس میں بینچ کی جانب سے اپنے خلاف عائد کردہ پابندی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا، شکایت میں کہا گیا کہ نظرثانی کی درخواست جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس اعجاز احمد چوہدری اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔

بینچ نے نہ صرف نظرثانی کی درخواست کو مسترد کر دیا اور یہ مشاہدہ بھی کیا کہ ہائی کورٹ کے جج کا ذاتی طور پر اس عدالت سے رجوع کرنا اور نظرثانی کا مطالبہ کرنا یقیناً غیر معمولی بات ہے اور یہ آئین کے آرٹیکل 6 کی دفعات کے پیش نظر بہت سے لوگوں کی نظر میں باعث تشویش ہوسکتا ہے۔

شکایت میں کہا گیا کہ مدعا علیہ جج کے طرز عمل اور سپریم کورٹ کے بینچ کے مشاہدات کو مدنظر رکھتے ہوئے مبینہ طور پر سپریم جوڈیشل کونسل نے ان کے خلاف انکوائری شروع کی تھی لیکن بعد میں کونسل نے انکوائری کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر روک دیا تھا۔

سندھ بار کونسل نے دلیل دی کہ اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کا تقرر انصاف کی فراہمی اور قانون کے تحت ہر ایک کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے کیا گیا تھا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر جواب دہندہ جج کے طرز عمل کی انکوائری کو سپریم جوڈیشل کونسل نے اچانک روک دیا۔

شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس کے باوجود جواب دہندہ جج کو ملک اسد علی کیس میں طے شدہ اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں تعینات کیا گیا۔

شکایت میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مدعا علیہ جج کی تعیناتی اس وقت کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کی تھی، جنہوں نے خود جج کے خلاف پابندیاں عائد کی تھی۔

شکایت میں الزام عائد کیا گیا کہ فیصلے میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا کہ مدعا علیہ جج نے ضابطہ اخلاق کی شق 2، 3، 9، 10 اور 11 کی خلاف ورزی کی ہے۔

مشہور خبریں۔

چین کی فنانسنگ سے پاکستان کو ’چینی قرضوں‘ کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے

?️ 6 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے امریکی ادارے

گرینڈ ہیلتھ الائنس کا پنجاب بھر کے ہسپتالوں کی ایمرجنسی بند کرنے کا اعلان

?️ 28 اپریل 2025لاہور: (سچ خبریں) گرینڈ ہیلتھ الائنس نے پنجاب بھر کے ہسپتالوں کی

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اعزاز میں تقریب، گارڈ آف آنر پیش کیا گیا

?️ 8 دسمبر 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسرز (سی ڈی

گرین لینڈ اور ایران کے ساتھ ناٹو کی موت کی گھنٹی

?️ 6 اپریل 2026سچ خبریں: "ایکسیوس” نے لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی خودسرانہ پالیسیاں،

عالمی بینک کی پاکستان کو موصول ہونے والی ترسیلات زر میں کمی کی پیشگوئی

?️ 19 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) عالمی بینک نے کہا ہے کہ 2023 کی

اسلام آباد میں پولیس پر حملہ دہشتگردانہ کاروائی ہے

?️ 18 جنوری 2022اسلام اباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ

صیہونی مقبوضہ بیت المقدس میں 1300 نئے ہاؤسنگ یونٹس تعمیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

?️ 30 اکتوبر 2025سچ خبریں: صہیونی جارحیت اور مغربی کنارے کو الحاق کرنے کی تحریکوں

کرم: درجنوں اموات کے بعد حکومتی جرگے کی کوششوں سے فریقین 7 روزہ سیز فائر پر آمادہ

?️ 24 نومبر 2024 کرم: (سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں کئی روز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے