?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے گزشتہ روز سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) کی کارروائیوں میں واضح خامیوں پر روشنی ڈالی، جس میں خاص طور پر سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف شکایات یا ریفرنسز کو سماعت کے لیے مقرر کرنے، فہرست میں شامل کرنے اور سماعت کے عمل میں نقائص کا تذکرہ کیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز جاری کردہ ایک اختلافی نوٹ میں جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے لکھا کہ یہ مسائل نہ صرف کونسل کی ذمہ داریوں کی مؤثر ادائیگیوں میں رکاوٹ ہیں بلکہ عدلیہ کی آزادی کے لیے بھی خطرہ ہیں، جس کے نتیجے میں اس اعلیٰ ترین عدالتی ادارے پر عوام کا اعتماد ختم ہو رہا ہے۔
اُن کا یہ اختلافی نوٹ 19 فروری کو سپریم کورٹ کے 4:1 کے فیصلے کا حصہ ہے جس میں کہا گیا تھا کہ بدعنوانی پر اعلیٰ عدالت کے ججوں کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے زیر التوا کارروائی کسی جج کے استعفیٰ یا ریٹائرمنٹ کی صورت میں ختم نہیں ہوگی، جسٹس حسن رضوی فیصلے سے اختلا فک کرنے والے واحد جج تھے۔
جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ ماضی میں مخصوص شکایات کو چننے کا رجحان رہا ہے اور جواب دہندہ جج کے ریٹائر ہونے کی وجہ سے بہت سی شکایات ختم ہوجاتی ہیں۔
علاوہ ازیں ’سپریم جوڈیشل کونسل پروسیجر آف انکوائری 2005‘ چیف جسٹس آف پاکستان (سی جے پی) اور چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل کو موصول ہونے والی معلومات پر بحث اور انکوائری کے لیے کونسل کا اجلاس بلانے کے ل بلا روک ٹوک اختیارات دیتا ہے۔
جسٹس حسن رضوی نے لکھا کہ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل کے طریقہ کار کی انکوائری 2005 میں اس کے مطابق ترمیم کرنے کی ضرورت ہے لیکن سپریم جوڈیشل کونسل کو کوئی خاص ہدایت دینا نامناسب ہوگا۔
تاہم یہ توقع کی جاتی ہے کہ کونسل شکایات کو سماعت کے لیے مقرر کرنے، فہرست میں شامل کرنے اور سماعت کے لیے واضح اور شفاف طریقہ کار کو نافذ کرے گی تاکہ غیر ضروری تاخیر یا ہیرپھیر کو روکا جاسکے۔
جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ اپیل کنندگان کی شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے ریٹائرمنٹ کے بعد سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف دائر کی گئی شکایت پر کارروائی شروع کرنے سے انکار کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔
اس کے بعد آرٹیکل 209 کی تشریح کی گئی جوکہ اس عدالت کے 2 رکنی بینچ نے غیرقانونی فیصلے میں شامل کیا، اس میں کہا گیا کہ آرٹیکل 209 کا اطلاق ایسے شخص پر نہیں ہوتا جو سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے جج کے عہدے سے ریٹائر یا مستعفی ہو چکا ہو۔
ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ وفاقی حکومت اور عافیہ شہربانو کی جانب سے موجودہ اپیلیں مقررہ مدت کے اندر دائر نہیں کی گئیں۔


مشہور خبریں۔
شہباز گل کی جانب سے فیصل آباد میں ریلی کا انعقاد
?️ 9 فروری 2022فیصل آباد(سچ خبریں) معاون خصوصی شہباز گل کی جانب سے فیصل آباد
فروری
اسٹیٹ بینک نے کرنسی مارکیٹ سے 5.5 ارب ڈالر خرید لیے
?️ 28 مارچ 2025کراچی: (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جون سے دسمبر کے
مارچ
بولٹن: وائٹ ہاؤس مادورو کا تختہ الٹنا چاہتا ہے
?️ 18 نومبر 2025سچ خبریں: وائٹ ہاؤس کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن
نومبر
ماہرہ خان کا اکثر انٹرویوز میں جھوٹ بولنے کا انکشاف
?️ 26 ستمبر 2021کراچی (سچ خبریں)معروف و مشہور اداکارہ ماہرہ خان کہ جنہوں نے پاکستان
ستمبر
وزیراعظم کا معرکہ حق کے دوران آپریشن بنیان مرصوص کی فرنٹ لائنز کا دورہ
?️ 14 مئی 2025سیالکوٹ (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے معرکہ حق کے دوران آپریشن
مئی
یمنیوں کا سعودی حکام کے نام اہم پیغام
?️ 15 مئی 2021سچ خبریں:یمنی سپریم پولیٹیکل کونسل کے ایک رکن نے اس بات پر
مئی
صیہونی نئی پناہ گاہ کی تلاش میں
?️ 18 مارچ 2022سچ خبریں:ایک اسرائیلی عہدہ دار یونانی جزائر خریدنے کی کوشش کر رہا
مارچ
مظاہرین نے برطانوی وزیراعظم کی تقریر میں خلل ڈالا
?️ 5 اکتوبر 2022سچ خبریں: ایسی صورت حال میں جب زندگی گزارنے کے اخراجات اور
اکتوبر