?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 ججز جسٹس بابر ستار اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے عدالتی عملے کی جانب سے سائلین یا ان کے وکلا سے بخشش مانگنے کے حالیہ عمل اور سینئر جج کو اختیارات سے محروم کرنے کا سبب بننے والے قوانین کی تبدیلی پر الگ الگ تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
میڈیا کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس اور تمام ججز کے سیکریٹریز کو لکھے گئے خط میں جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے ہیں کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ میں عدالتی عملے کی جانب سے انعام اور بخشش طلب کرنے کے لیے وکلا یا سائلین کا تعاقب کرنے کا مہلک عمل حال ہی میں سر اٹھانا شروع ہو گیا ہے‘۔
جج نے لکھا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ کا عملہ عدالت کا کل وقتی ملازم ہے اور قانون کے مطابق ان کی خدمات اور فرائض کے لیے مناسب معاوضہ ادا کیا جاتا ہے، کسی ملازم کے لیے عدالت کی جانب سے کچھ ریلیف ملنے پر وکیل یا درخواست گزار فریق سے بخشش حاصل کرنا بدتمیزی ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ سب جانتے ہیں کہ عدالتی عملہ دیگر ہائی کورٹس میں فریقین یا ان کے وکلا سے انعام اور بخشش کا مطالبہ کرتا ہے، بدقسمتی سے یہ عمل ان عدالتوں کے کلچر میں شامل ہو گیا ہے، البتہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایسی کوئی روایت نہیں ہے اور یہ بڑی راحت کی بات ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کےکلچر میں اس طرح کی پریکٹس نے کبھی جڑ نہیں پکڑی‘۔
ان کا کہنا تھا کہ کہ یہ تشویش ناک ہے کہ حال ہی میں بعض عدالتی عملے کی جانب سے انعام یا بخشش مانگنے کی اطلاع سامنے آئی ہے اور یہ عمل دیگر ہائی کورٹس سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں در آیا ہے۔
جج نے تجویز دی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار گزشتہ چند ہفتوں کی ویڈیو فوٹیج کا جائزہ لے کر اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ آیا کسی عدالتی عملے نے اس طرح کی انعام یا بخشش کا مطالبہ کیا ہے یا نہیں، اور اس عمل میں ملوث عملے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
سینئر ترین جج کے اختیارات
اسی طرح کی ایک پیش رفت میں، جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں انتظامی کمیٹی کی جانب سے قواعد میں تبدیلی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
قواعد میں تبدیلی کے بعد جسٹس محسن اختر کیانی، جو پہلے فیصلہ سازی کی کلیدی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے، اپنے اختیارات کھو چکے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی چیف جسٹس، سینئر پیونی جج اور ایک سینئر جج پر مشتمل انتظامی کمیٹی کی تشکیل نو کی گئی ہے اور اس میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور ان کے دو نامزد ججز شامل کیے گئے تھے۔
ان تبدیلیوں کو ہائی کورٹ رولز کے قاعدہ 237، باب 10 میں ترمیم کے ذریعے باضابطہ شکل دی گئی تھی۔
نظر ثانی شدہ شق میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں انتظامی کمیٹی عام طور پر 3 ججز پر مشتمل ہوگی، تاہم اگر مناسب سمجھا جائے تو چیف جسٹس کمیٹی کے مزید ارکان کو نامزد کر سکتے ہیں۔
مزید برآں، رول 239 اب کہتا ہے کہ ’انتظامی کمیٹی کا ہر رکن انتظامی جج کے طور پر کام کرے گا اور ہر انتظامی جج کے اختیارات اور فرائض وقتاً فوقتاً چیف جسٹس کی طرف سے متعین کیے جائیں گے۔‘
اس سے پہلے سینئر جج خود بخود ایڈمنسٹریشن جج کے عہدے پر فائز ہو جاتے تھے جس کی وجہ سے انہیں عدالتی معاملات پر کافی اختیار حاصل ہوتا تھا۔
تاہم نئے قوانین چیف جسٹس کو انتظامی فرائض تفویض کرنے کے صوابدیدی اختیارات دیتے ہیں جس سے جسٹس محسن اختر کیانی کے کردار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
جج کے مطابق اس قانون میں ترمیم صرف فل کورٹ میٹنگ میں کی جا سکتی ہے جیسا کہ آئین میں کہا گیا ہے، آئین کے آرٹیکل 202 کے مطابق آئین اور قانون کے تابع، ہائی کورٹ، عدالت یا اس کی ماتحت کسی بھی عدالت کی پریکٹس اور پروسیجر کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قواعد بنا سکتی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک سینئر عہدیدار نے واضح کیا کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں انتظامی کمیٹی قواعد میں ترمیم کے لیے متعلقہ فورم ہے کیونکہ فل کورٹ اجلاس میں قواعد بنانے یا تبدیل کرنے کی کوئی شق نہیں ہے۔


مشہور خبریں۔
نوازشریف کی طرح عمران خان کی سزاؤں کا فیصلہ بھی عدالتوں میں ہوگا۔ رانا ثناءاللہ
?️ 21 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ
فروری
فلسطین کا حامی اور یورپی یونین کی پالیسیوں کا مخالف آئرلینڈ کا صدر بنا
?️ 26 اکتوبر 2025سچ خبریں: کترین کانولی نے آئرلینڈ کے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل
اکتوبر
برازیلی 8 سالہ لڑکی نے ماہرین فلکیات کو حیران کردیا
?️ 3 اکتوبر 2021ساؤ پالو(سچ خبریں) آٹھ سالہ برازیلی لڑکی نے اہم کارنامہ انجام دیتے
اکتوبر
افغان فوج کی نابودی کی کہانی امریکیوں کی زبانی
?️ 1 مارچ 2023سچ خبریں:افغانستان کی تعمیر نو کے لیے امریکی دفتر برائے معائنہ (SIGAR)
مارچ
روس کی جانب سے امریکی الزامات کی تردید
?️ 21 ستمبر 2021سچ خبریں امریکہ میں روسی سفارت خانے نے امریکی فریق کے اسٹیٹ ڈوما
ستمبر
سپریم کورٹ نے عمران خان کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق اپیلیں نمٹا دیں
?️ 23 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی
اپریل
غزہ سے امریکہ کو نقصان
?️ 13 فروری 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ میں روس کے پہلے نائب مستقل مندوب نے
فروری
دہشت گردی اور جنگ؛ صیہونی حکومت کے دو ناکام ورژن
?️ 6 جنوری 2024سچ خبریں: شام میں جنرل موسوی کے قتل کے بعد صیہونی حکومت
جنوری