?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے فیصلے کے خلاف سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی، جس پر سماعت بروز پیر (31 اکتوبر) ہوگی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق پیر کو سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر سماعت کریں گے، اس سے قبل عمران خان کی قانونی ٹیم نے رجسٹرار آفس کے تمام اعتراضات دور کردیے۔ عمران خان کی نااہلی کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کر رکھی ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر نے 22 اکتوبر کو درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی تھی جس میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی۔
سابق وزیر اعظم کی جانب سے دائر درخواست میں عدالت سے آج ہی درخواست پر سماعت کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
عمران خان کی درخواست پر رجسٹرار آفس کی جانب سے متعدد اعتراضات عائد کیے گئے تھے جس میں کہا گیا کہ عمران خان نے بائیو میٹرک تصدیق نہیں کرائی اور عمران خان کے نااہلی کے فیصلے کی مصدقہ نقل درخواست کے ساتھ منسلک نہیں۔
خیال رہے کہ 24 اکتوبر کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کی جانب سےعمران خان کی نااہلی کا فیصلہ آج ہی معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی تھی اور کہا تھا کہ آپ اعتراضات دور کریں اس کے بعد درخواست کو سنیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے عمران خان کے خلاف دائر کردہ توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں نااہل قرار دے دیا تھا۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے متفقہ فیصلہ سنایا تاہم فیصلہ سناتے وقت 4 ارکان موجود تھے کیونکہ رکن پنجاب بابر حسن بھراونہ طبعیت خرابی کے باعث کمیشن کا حصہ نہیں تھے۔
فیصلے سناتے ہوئے کہا گیا تھا کہ عمران خان کو جھوٹا بیان جمع کرانے پر آرٹیکل 63 (ون) (پی) کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہے جہاں اس آرٹیکل کے مطابق وہ رکن فی الوقت نافذ العمل کسی قانون کے تحت مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) یا کسی صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب کیے جانے یا چنے جانے کے لیے اہل نہیں ہوگا۔
الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں عمران خان کو عوامی نمائندگی کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان نے اپنے مالی اثاثوں سے متعلق حقائق چھپائے اور حقیقت پر پردہ ڈالنے کے لیے جھوٹا بیان جمع کرایا، جھوٹ بولنے پر عمران خان عوامی نمائندگی کے اہل نہیں رہے۔
الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کرنے کی بھی سفارش کی۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان آرٹیکل 63 ون پی کے تحت نا اہل ہیں، سابق وزیراعظم نے جھوٹا بیان اور ڈیکلیئریشن جمع کروائی، الیکشن ایکٹ کے سیکشن 167 اور 173 کے تحت کرپٹ پریکٹس کے مرتکب ہوئے اور توشہ خانہ سے حاصل تحائف اثاثوں میں ڈیکلیئر نہ کرکے دانستہ طور پر حقائق چھپائے۔
الیکشن کمیشن نے عمران خان کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 63 کی شق ’ایک‘ کی ذیلی شق ’پی‘ کے تحت نااہل کیا جبکہ آئین کے مذکورہ آرٹیکل کے تحت ان کی نااہلی کی مدت موجودہ اسمبلی کے اختتام تک برقرار رہے گی۔
یوں فیصلے کے تحت عمران خان کو قومی اسمبلی سے ڈی سیٹ کر دیا گیا اور ان کی نشست خالی قرار دے کر الیکشن کمیشن ضمنی انتخاب کروائے گا۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے دائر کیا جانے والا توشہ خانہ ریفرنس حکمراں اتحاد کے 5 ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔
ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف فروخت کرکے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔
آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اپنایا تھا کہ 62 (ون) (ایف) کے تحت نااہلی صرف عدلیہ کا اختیار ہے اور سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں۔
واضح رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس کے سلسلے میں 7 ستمبر کو الیکشن کمیشن میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا، جواب کے مطابق یکم اگست 2018 سے 31 دسمبر 2021 کے دوران وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے۔
بتایا گیا کہ یہ تحائف زیادہ تر پھولوں کے گلدان، میز پوش، آرائشی سامان، دیوار کی آرائش کا سامان، چھوٹے قالین، بٹوے، پرفیوم، تسبیح، خطاطی، فریم، پیپر ویٹ اور پین ہولڈرز پر مشتمل تھے البتہ ان میں گھڑی، قلم، کفلنگز، انگوٹھی، بریسلیٹ/لاکٹس بھی شامل تھے۔
جواب میں بتایا کہ ان سب تحائف میں صرف 14 چیزیں ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی جسے انہوں نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم کی ادا کر کے خریدا۔
اپنے جواب میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں 4 تحائف فروخت کیے تھے۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2 کروڑ 16 لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد سرکاری خزانے سے تحائف کی فروخت سے تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ روپے حاصل کیے، ان تحائف میں ایک گھڑی، کفلنگز، ایک مہنگا قلم اور ایک انگوٹھی شامل تھی جبکہ دیگر 3 تحائف میں 4 رولیکس گھڑیاں شامل تھیں۔


مشہور خبریں۔
الرملہ جیل میں فلسطینی قیدیوں کی سنگین صورتحال؛خوراک کی کمی اور علاج میں تاخیر کا انکشاف
?️ 23 فروری 2026سچ خبریں:فلسطینی قیدیوں کے امور کے کلب نے انکشاف کیا ہے کہ
فروری
پنجاب میں عوامی رابطہ کمیٹیاں قائم کرنے کی ہدایت کردی گئی
?️ 13 اپریل 2025لاہور: (سچ خبریں) محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبہ بھر میں عوامی رابطہ
اپریل
امریکی اور چینی جنگی طیارے آمنے سامنے
?️ 21 فروری 2026سچ خبریں:امریکی اور چینی جنگی طیارے کوریائی جزیرہ نما کے قریب بین
فروری
ماضی کے مقبول ڈرامے ’سنو چندا‘ کا تیسرا سیزن بنائے جانے کا امکان
?️ 31 جولائی 2025کراچی: (سچ خبریں) اداکار و گلوکار فرحان سعید نے انکشاف کیا ہے
جولائی
اسرائیلی وزیراعظم کے نسل کشی کے دفاع کے بیانات ناقابل قبول:پاکستانی وزارت خارجہ
?️ 13 ستمبر 2025اسرائیلی وزیراعظم کے نسل کشی کے دفاع کے بیانات ناقابل قبول:پاکستانی وزارت
ستمبر
تیران اور صنافیر جزائر کی ملکیت سعودی عرب کو منتقل کرنے کا عمل معطل
?️ 24 دسمبر 2022سچ خبریں:امریکی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ مصری حکام نے بحیرہ
دسمبر
یمن کی سرزمین پر امریکہ اور انگلستان کی نئی جارحیت
?️ 18 جنوری 2024سچ خبریں:خبر رساں ذرائع نے یمن کے مختلف صوبوں میں امریکہ اور
جنوری
ایرانیوں کے پاس اب بھی میزائل موجود ہیں: ہیگسیٹ
?️ 28 مئی 2026 سچ خبریں:امریکی وزیر دفاع پیت ہیگست نے وائٹ ہاؤس میں کابینہ
مئی