لانگ مارچ سے عمران خان کی روانگی نے قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا پارٹی کے لانگ مارچ سے غروب آفتاب کے فوراً بعد اچانک غائب ہو جانا اور پارٹی کے سیکریٹری جنرل اسد عمر کے اس اعلان نے کہ عمران خان ایک ’انتہائی اہم اجلاس‘ میں شرکت کے لیے لاہور روانہ ہو گئے ہیں، میڈیا اور شرکا کو قیاس آرائیوں کی لپیٹ میں لے لیا۔

 پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری اور پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد نے پارٹی سربراہ کے کسی میٹنگ کے لیے روانہ ہونے کی تردید کی اور اصرار کیا کہ یہ پہلے سے طے شدہ ایس او پی ہے کہ مارچ ’سیکیورٹی وجوہات‘ کی وجہ سے اندھیرے میں سفر نہیں کرے گا۔

اچانک مارچ سے چلے جانے کے بعد پی ٹی آئی کے سربراہ اور طاقتوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بارے میں بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کے درمیان عمران خان نے خود ہی ان افواہوں کو ’بے بنیاد‘ قرار دے دیا۔

ٹوئٹر پر ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’ان سب کے لیے جو لاہور میں میری ملاقات کی افواہیں پھیلا رہے ہیں، ہماری واپسی کی وجہ یہ تھی کہ لاہورقریب تھا، ہم پہلے ہی رات کو سفر نہ کرنے کا فیصلہ کرچکے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 6 ماہ سے میرا واحد مطالبہ صاف شفاف انتخابات کے فوری انعقاد کی تاریخ رہی ہے، اگر مذاکرات ہوئے بھی تو میرا واحد مطالبہ یہی رہے گا۔

اس سے قبل بول نیوز سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی نقل و حرکت سست ہے کیونکہ ’ہزاروں لوگ‘ عمران خان کے کنٹینر کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا کوئی رہنما حکومت سے کوئی بات چیت نہیں کر رہا کیونکہ یہ کام صدر عارف علوی کو سونپا گیا ہے، انہوں نے جو اتفاق رائے یا حل نکالا ہم اسے قبول کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بات چیت صرف بادشاہوں سے ہوگی پیادوں سے نہیں، مذاکرات تبھی ہوں گے جب مخلوط حکومت جلد انتخابات کے اعلان کو قبول کرے گی۔

دریں اثناء وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے بھی یہ کہا کہ عمران خان کسی حکومتی کمیٹی سے مذاکرات نہیں کریں گے اور دعویٰ کیا کہ حکمران اتحاد کے ساتھ اگلے انتخابات پر مذاکرات جاری ہیں۔

دنیا نیوز کے اینکرز اجمل جامی اور مجیب الرحمٰن شامی سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ انتخابات تھے، لانگ مارچ نے اس حوالے سے امید کی کرن فراہم کی ہے۔

پرویز الہٰی نے کہا کہ حکمران اتحاد، وزیر اعظم، عمران خان اور مجھ سمیت ہر کوئی جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع چاہتا ہے۔

بعد ازاں شام کو وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بھی اسد عمر کے اعلان پر رد عمل کا اظہار کیا اور کہا کہ ’مسترد شدہ غیر ملکی فنڈڈ فتنے‘ کے ساتھ کوئی ’مذاکرات‘ نہیں کیے جارہے بلکہ صرف مذاق رات جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب لوگ ’لانگ ڈرائیو‘ سے واپس آنا شروع ہوئے تو عمران خان ’فرار ہو گئے‘۔

پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے ڈان کو بتایا کہ عمران خان اب چاہتے ہیں کہ مارچ صرف دن کے وقت آگے بڑھے تاکہ دنیا بڑے ہجوم کو دیکھ سکے۔ فواد چوہدری نے ہفتے کی شام ٹوئٹ کیا کہ آج کا مارچ فوراً ختم ہو رہا ہے، جو (کل) اتوار کی صبح 11 بجے مریدکے سے دوبارہ شروع ہوگا۔

مشہور خبریں۔

ابو مازن کی فلسطینیوں کے ساتھ بہت بڑی غداری

?️ 9 مئی 2024سچ خبریں: فلسطینی طلباء تحریکوں کے خلاف صہیونیوں کے ساتھ مل کر

خطے میں امن کے لئے بین الاقومی کانفرنس 17 مارچ سے ہوگی

?️ 13 مارچ 2021اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان میں خطے میں قیام امن سیکیورٹی چیلنجز

اسرائیلی فورس کو تصویر لینا مہنگی پڑی

?️ 5 اکتوبر 2024سچ خبریں: صیہونی فوج نے ایک تصویر شائع کی ہے جس میں

پاکستان اور روس کے درمیان گیس پائپ لائن پر دستخط ہو گئے

?️ 16 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق پاکستان اورروس کے درمیان کراچی

چور، کرپٹ شخص کی ’تاج پوشی‘ کیلئے تمام قوانین کی دھجیاں اڑا دی گئیں، شیخ رشید

?️ 31 دسمبر 2023راولپنڈی: (سچ خبریں) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ، سابق وزیر داخلہ شیخ

طالبان نے الظواہری کی رہائش گاہ کو امریکہ کو لیک کیا

?️ 7 اگست 2022سچ خبریں:    ایک ہندوستانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان

اڈیالہ جیل کے اطراف سیکیورٹی مزید سخت، خاردار تاریں نصب، اضافی نفری تعینات

?️ 16 مارچ 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اڈیالہ جیل کے اطراف

مفرور یمنی صدر اقتدار سے دستبردار

?️ 7 اپریل 2022سچ خبریں:  مستعفی اور مفرور یمنی صدر عبد المنصور ہادی نے آج

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے