?️
بنوں: (سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں کو سیکیورٹی فراہم کرنے والے 100 سے زائد پولیس اہلکار نے پولیو ٹیموں پر حملوں کے بعد ہڑتال پر چلے گئے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی ’ کے مطابق پولیو مہم کے دوران گھر گھر جاکر بچوں کو قطرے پلانے والے ورکرز کی حفاظت کے لیے تعینات پولیس اہلکاروں پر عسکریت پسندوں کی جانب سے حملے کیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران سیکڑوں پولیس اور پولیو ورکرز ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایک پولیس اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ بنوں میں احتجاج کرنے والی پولیس اور اعلیٰ حکام کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں جس کے بعد جس پولیس اہلکار کو بھی احتجاج کے بارے میں معلوم ہوتا ہے تو وہ اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر مظاہرے میں شامل ہوجاتا ہے۔
یاد رہے کہ پیر کو پولیو مہم کی نئی مہم کے آغاز کے بعد سے کم از کم 2 پولیس افسران اور ایک پولیو ورکر کو افغانستان کے ساتھ سرحد کے قریب دیہی اضلاع میں الگ الگ حملوں میں گولی مار کر قتل کیا گیا۔
اس کے علاوہ پیر کو پولیو ٹیم پر بم حملے میں 9 افراد زخمی بھی ہوئے تھے جس کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) گروپ نے قبول کی تھی۔
پولیو ٹیمیوں پر زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے جب کہ تازہ ترین حملے میں دو موٹر سائیکل سواروں نے پولیس افسر پر فائرنگ کی۔
ضلعی پولیس افسر ضیا الدین احمد نے اے ایف پی کو بتایا کہ پولیو ٹیم اس وقت قریبی گلی میں تھی، اس لیے وہ محفوظ رہے۔
پاکستان میں اس سال پولیو کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے، 2024 میں اب تک 17 کیسز ریکارڈ کیے گئے، حالانکہ گزشتہ سال ان کیسز کی تعداد 6 تھی۔
پاکستان اور افغانستان دنیا کے واحد ممالک ہیں جہاں موثر ویکسینیشن کے باوجود پولیو اب بھی وبائی مرض ہے۔
محکمہ صحت کے حکام نے ایک ہفتہ تک جاری رہنے والی مہم میں 3 کروڑ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف رکھا ہے۔
ایک اور احتجاج کرنے والے پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ یہاں پولیو کی جزوی مہم چل رہی ہے لیکن کئی پولیس اہلکاروں نے دھرنے میں شامل ہونے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ترک کر دی ہیں۔
بچوں کے لیے خدمات پر وقف اقوام متحدہ کے ادارے (یونیسیف) کے مطابق 1990 کی دہائی کے اوائل میں پولیو کے کیسز کی تعداد 20 ہزار سالانہ کے مقابلے میں ڈرامائی طور پر کم ہوئی ہے۔
تاہم، پہاڑی سرحدی علاقوں میں غلط معلومات، سازشی نظریات اور کچھ مولویوں کی جانب سے اسے غیر اسلامی قرار دینے کے نتیجے میں لوگ پولیو ویکسین لگوانے میں مزاحمت کرتے ہیں۔


مشہور خبریں۔
سعودی عرب کی سلامتی غیر مستحکم
?️ 24 ستمبر 2023سچ خبریں:عبدالباری عطوان نے اپنے نئے نوٹ میں سعودی ولی عہد محمد
ستمبر
مغربی کنارے میں صیہونی جارحیت کا سلسلہ جاری
?️ 16 فروری 2025 سچ خبریں:مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت کی جارحیت اور فوجی سرگرمیوں
فروری
فائزر کے منیجر نے کورونا ویکسین سے متعلق صحافیوں کے سوالات کو ٹالا
?️ 22 جنوری 2023سچ خبریں:امریکی کمپنی فائزر کے ڈائریکٹر نے کورونا وائرس کی وبا کے
جنوری
حکومت نے چیئرمین سینیٹ کا امیدوار کے نام کا اعلان کر دیا
?️ 4 مارچ 2021 اسلام آباد (سچ خبریں) حکومت نے موجودہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو
مارچ
نواز شریف حفاظتی ضمانت لے کر وطن واپس آئیں گے اور عدالت کے سامنے سرینڈر کریں گے، رانا ثنا اللہ
?️ 3 اکتوبر 2023لاہور: (سچ خبریں) سابق وزیر داخلہ و صدر مسلم لیگ (ن) پنجاب
اکتوبر
تنازعہ کشمیر حل نہ ہونے کی وجہ سے کشمیری شدید مشکلات کا شکار ہیں، حریت کانفرنس
?️ 13 نومبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں
نومبر
غزہ میں جنگ بندی کب ہو گی؟ ؛صیہونی رپورٹر کی زبانی
?️ 2 فروری 2024سچ خبریں: ایک عبرانی صحافی نے ایک رپورٹ میں کہا کہ ہمیں
فروری
امریکہ کی جانب سے مزاحمتی محاذ کی ویب سائٹس کو بلاک کرنے کا معاملہ، عراقی تجزیہ کار نے شدید رد عمل کا اظہار کردیا
?️ 23 جون 2021بغداد (سچ خبریں) امریکہ نے بین الاقومی قوانین کی خلاف ورزی کرتے
جون