بلوچستان کے ناراض اراکین و اتحادیوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان عدم تحریک کا اعلان کیا

بلوچستان

?️

کوئٹہ(سچ خبریں) بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض اراکین و اتحادیوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے خلاف دو روز بعد تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے صوبائی وزیر سماجی بہبود اسد بلوچ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے بھیجے گئے وفد سے ملاقات ہوئی انہیں نے جام کمال کے لیے مزید وقت مانگا تاہم ہم نے کہا کہ ہم جام کمال کو پہلے ہی تین سال کا وقت دے چکے ہیں اب مزید وقت نہیں دے سکتے.

انہوں نے کہا کہ ناراض اراکین، اتحادیوں اور اپوزیشن کے نمبر پورے ہیں ہمارے پاس 38 سے 40 اراکین کی حمایت حاصل ہے انہوں نے بتایا کہ ہم خیالوں نے اپنے استعفے لکھ رکھے ہیں بس اپنے ساتھیوں کا انتظار اگلے 24 گھنٹے تک کریں گے جس کے بعد استعفے جمع کر وا دیے جائیں گے. بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ جام کمال خان کو تمام قانون سازوں کی حمایت حاصل ہے.

انہوں نے کہا کہ ناراض اراکین کو اپنا احتجاج ختم کرنے اور حکومت میں شامل ہونے پر قائل کرنے کی کوششیں جاری ہیں واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی کے ناراض اراکین صوبائی اسمبلی و وزرا اور اتحادیوں نے بلوچستان کے وزیراعلیٰ کو آج شام 6 بجے تک مستعفی ہونے کی ڈیڈلائن دی تھی. صوبائی اراکین اسمبلی کی جانب سے یہ مطالبہ جام کمال کی جانب سے بلوچستان عوامی پارٹی کی صدارت سے استعفے کے بعد سامنے آیا ہے جہاں جام کمال کو چند صوبائی وزرا اور پارٹی کے اراکین اسمبلی کی مخالفت کا سامنا ہے اور وہ وزیراعلیٰ سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں.

رپورٹ کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض اراکین کا موقف ہے کہ وہ جام کمال عالیانی کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتے ہیں خیال رہے کہ بلوچستان میں سیاسی بحران پہلی مرتبہ رواں برس جون میں اس وقت شروع ہوا تھا جب اپوزیشن نے صوبائی اسمبلی کے باہر جام کمال کی قیادت میں کام کرنے والی حکومت کے خلاف کئی دنوں تک احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جو ان کے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے بجٹ میں فنڈز مختص کرنے کے حوالے سے تھا.

احتجاج بعد میں شدت اختیار کر گیا تھا اور پولیس نے اس واقعے کے حوالے سے اپوزیشن کے 17 اراکین کو مقدمے میں نامزد کردیا تھا بعد ازاں اپوزیشن نے جام کمال کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کروائی تھی ذرائع کا کہنا ہے کہ جام کمال کو پارٹی کے اندر بھی بعض معاملات میں مخالفت کا سامنا ہے، خاص کر بھرتیوں اور تبادلوں پر وزرا کے اختیارات اور ان کو ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے.

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی وزیر بلدیات سردار محمد صالح بھوتانی نے وزیراعلیٰ سے اختلافات پر استعفیٰ دے دیا تھا اور دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صوبائی پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند نے بھی ہائر ایجوکیشن کی وزارت سے استعفیٰ دیا تھا اور صوبائی اسمبلی میں وزیراعلیٰ سے اختلافات پر تلخ تقریر کی تھی. بلوچستان عوامی پارٹی میں اختلافات کے باعث جام کمال نے گزشتہ ہفتے پارٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا تھا اس کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا، جہاں صوبے میں سیاسی بحران پیدا ہونے کے شدید خدشات کا اظہار کیا گیا تھا اور حالات اس نہج پر ناراض اراکین کی وجہ سے پہنچے اور جام کمال سے استعفے کا مطالبہ کردیا.

مشہور خبریں۔

جرمن کیوں صیہونیوں کی حمایت کر رہا ہے؟

?️ 30 اکتوبر 2023سچ خبریں:غزہ کی پٹی پر صیہونی حکومت کے فضائی اور توپخانے کے

سوئٹزرلینڈ نے کس طرح ٹرمپ کو خریدا؟

?️ 17 نومبر 2025سچ خبریں:ٹرمپ کی سوئٹزرلینڈ کے حوالے سے رائے میں تبدیلی اس بات

 نیتن یاہو کے مشیر اور ترجمان گرفتار

?️ 1 اپریل 2025 سچ خبریں:اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ وزیراعظم بنیامین نیتن

اسٹریٹ ہنگامے استقامتی ممالک کے خلاف امریکہ کا حربہ 

?️ 24 جنوری 2023سچ خبریں:حال ہی میں امریکی جرنل اخبار وال اسٹریٹ میں شائع ہونے

مراکشی اور تیونسی شہریوں کا صیہونی حکومت کے خلاف احتجاج

?️ 16 اکتوبر 2024سچ خبریں: مراکش اور تیونس کے سیکڑوں افراد نے صہیونی حکومت کے

اسرائیل کی نفسیاتی فوج پر ایک ٹریلین کا خرچ 

?️ 20 فروری 2025 سچ خبریں: فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 کو

عمراں خان نے بجٹ کو خوشحالی کا بجٹ قرار دیا

?️ 12 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں )  تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت

راناثناء اللہ بغیر ضمانت کے پنجاب آئے تو ان کے خلاف ایکشن ہو گا۔

?️ 12 ستمبر 2022لاہور: (سچ خبریں) وزیر داخلہ پنجاب ہاشم ڈوگر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے