بلوچستان میں حکمران جماعت میں اندرونی اختلافات مزید بڑھ گئے

بلوچستان میں حکمران جماعت میں اندرونی اختلافات مزید بڑھ گئے

?️

کوئٹہ (سچ خبریں) بلوچستان میں حکمران جماعت میں اندرونی اختلافات زور پکڑنے لگ گئے ہیں جس کے پیش نظر ایک اور استعفیٰ تیار ہو گیا ہے، مشیرفشریزاکبرآسکانی نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وزیر اعلی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ انہوں نے وعدوں پر عمل نہیں کیا۔

تفصیلات کے مطابق حکمران جماعت کےاسپیکرعبدالقدوس بزنجو بھی وزیراعلیٰ سے نالاں ہیں۔ وزیرتعلیم بلوچستان سرداریارمحمدرند بھی استعفیٰ دے چکے ہیں ، اس کے علاوہ بی اے پی کے ہی صالح بھوتانی بھی قلمدان واپس لینے پراستعفیٰ دے چکے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ مشیرفشریزاکبرآسکانی نے بھی مستعفی ہونےکا فیصلہ کیا۔ اکبرآسکانی نے بھی وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سےوعدوں پرعمل نہیں ہورہا ہے۔ واضح رہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال اور اسپیکر عبدالقدوس بزنجو کے درمیان سرد مہری تو پچھلے دو سالوں سے ہے، جو اس وقت پیدا ہوئی جب وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے آواران میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کی جانچ پڑتال کے لیے وزیر اعلیٰ کی معائنہ ٹیم کو بھجوایا۔

اسپیکر صوبائی اسمبلی قدوس بزنجو نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ تین سال سے وزیراعلیٰ میرے حلقے میں مسلسل مداخلت کر رہے ہیں، میں پارٹی کے مفاد میں خاموش رہا لیکن اسے میری مجبوری سمجھا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے رویے کی وجہ سے پارٹی محدود ہو گئی ہے، اگر وزیراعلیٰ بلوچستان اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لائے تو ہم خاموش نہیں رہیں گے۔

اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے کہا کہ تین سال قبل حکومت گر ا کر بلوچستان عوامی پارٹی اس لیے بنائی تھی کہ صوبے کے لیے کام کریں اور عوام کی محرومیاں دور کریں، ہم نے مل کر وزیراعلیٰ جام کمال خان کو اس لیے پارٹی صدر بنایا تھا کہ وہ چیزوں کو بہتر بنائیں گے لیکن پارٹی کو اندورنی طور پر نقصانات بہت زیادہ ہورہے ہیں۔

قدوس بزنجو کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بجائے اس کے اپنے اندر تبدیلی لاتے انہوں نے مجھے اپنا مخالف تصور کیا، میں ان کا مخالف نہیں تھا ہم پارٹی کو مضبوط، بہتراور فعال بنانے کے لیے کام کرتے تھے لیکن تین سال سے مسلسل میرے حلقے میں مداخلت ہورہی ہے اور مجھے سیاسی نقصانات دینے کی کوشش کی گئی۔

مشہور خبریں۔

211 روزہ جنگ کے دوران غزہ میں کتنے فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے؟

?️ 5 مئی 2024سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارت صحت نے گذشتہ سال

نگران حکومت کا پیٹرول، ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

?️ 1 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی

محمد ضعیف کی تصاویر کی اشاعت صیہونی حکومت کے لیے بنی دردسر

?️ 10 جنوری 2024سچ خبریں:صیہونی حکومت کی جانب سے حماس کے فوجی کمانڈر محمد ضعیف

یونیورسٹی ملازمین کی ڈگریاں بھی جعلی نکلیں

?️ 19 ستمبر 2021پشاور (سچ خبریں)خیبرپختونخوا میں صوابی یونیورسٹی سے جعلی ڈگریاں جاری ہونے کا

کالعدم ٹی ٹی پی سے بات چیت نہیں ہو رہی، ایسی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

?️ 14 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا

کوئی صیہونی عہدیدار وزیر جنگ بننے کو تیار نہیں؛ وجہ؟

?️ 22 ستمبر 2024سچ خبریں: عبرانی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ صیہونی کنیسٹ کے

بھارتی اقدام پر آج عالمی عدالت انصاف روانگی تھی لیکن منسوخ کردی، اٹارنی جنرل

?️ 28 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اٹارنی جنرل

ایران اسرائیل جنگ میں فتح کس کی ہوئی؛رأی الیوم کی زبانی

?️ 25 جون 2025 سچ خبریں:رأی الیوم نے اپنے تازہ تجزیے میں کہا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے