برطانوی اخبار نے عدالت میں شہباز شریف کا دفاع کیا

شہباز شریف

?️

(سچ خبریں) برطانوی اخبار ڈیلی میل کی نمائندگی کرنے والے ایک وکیل نے شہباز شریف کی جانب سے دائر ہتک عزت کے مقدمے کے متن پر زور دیا اور جج کو بتایا کہ سیاستدان کے خلاف خبر کے ثبوت انتہائی محدود ہیں تاہم وہ اپنی خبر میں کیے گئے دعووں پر قائم ہیں۔

سماعت ڈیلی میل کی ایک خبر کے خلاف دائر مقدمے کے حوالے سے تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ نے برطانیہ کی امدادی رقم کو استعمال کیا ہے۔

2019 میں شائع ہونے والی خبر میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ شہباز شریف نے برطانیہ کے ٹیکس دہندگان کے پیسے کو ناجائز استعمال کیا، خاص طور پر سرکاری امداد جس کا مقصد پاکستان میں 2005 کے زلزلے کے متاثرین کی مدد تھی۔

جسٹس میتھیو نِکلن نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی جانب سے لائے گئے دعوے، جس میں الفاظ کے معنوں کے حوالے سے شکایت کی گئی تھی، ان کے معنی کا فیصلہ کرنے کے لیے کوینز بینچ ڈویژن میں ’معنی کی سماعت‘ کی صدارت کی۔

دونوں فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد جسٹس میتھیو نِکلن نے کہا کہ شہباز شریف کے حوالے سے خبر کا قارئین نے عام مطلب یہ لیا کہ شہباز شریف ؎لاکھوں پاؤنڈ کی منی لانڈرنگ کے فریق اور اس سے اصل فائدہ اٹھانے والے تھے۔

جج نے کہا کہ شہباز شریف کے معاملے میں چیز لیول 1 کا اطلاق کیا گیا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ ناشر کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اس فعل میں قصوروار ہیں جس کا خبر میں الزام لگایا گیا تھا۔

اصطلاح ‘چیز لیولز’ لندن کی کورٹ آف اپیل کے 2002 کے فیصلے سے ماخوذ ہے جو تین طرح کے ہتک عزت کے الزامات سے متعلق ہے۔

پہلا وہ الزامات جس میں دعوی کنندہ اس فعل کا قصوروار ہو، دوسرا یہ کہ اس پر شبہ کرنے کے لیے مناسب بنیادیں موجود ہیں کہ دعوی کنندہ اس فعل کا قصوروار ہے اور تیسرا یہ کہ تفتیش کی بنیادیں موجود ہیں کہ آیا دعوی کنندہ نے اس عمل کا ارتکاب کیا ہے یا نہیں۔

ابتدائی سماعت ہتک عزت کے دعوے کا حکم نامہ نہیں ہے، آنے والے مہینوں میں ہونے والے ٹرائل سے یہ طے کیا جائے گا کہ کیا واقعی قانون کے مطابق خبر بے عزتی کے لیے تھی۔

دی میل کے وکیل نے خبر کی اشاعت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ‘عوامی مفاد میں ہے’ اور اس طرح کی خبریں شائع ہونے کے بعد تحقیقات کروانا ایک عام بات ہے۔شہباز شریف جو گذشتہ سال لندن میں تھے جب انہوں نے یہ دعوٰی دائر کیا تھا۔

انہوں نے نقصانات کا دعویٰ کرنے کے ساتھ ساتھ اخبار کو ’ہتک آمیز الفاظ‘ شائع کرنے سے روکنے کے حوالے سے حکم امتناعی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔انہوں یہ بھی دعوی کیا ہے کہ یہ اخبار عدالت کے فیصلے کی سمری کو شائع کرے اور کارروائی کے اخراجات برداشت کرے۔

مشہور خبریں۔

امریکہ کی یمن میں امن مذاکرات جاری رکھنے کے لیے سعودی عرب کو گرین

?️ 16 مئی 2024سچ خبریں: امریکہ کے سعودی عرب کو اسرائیل کے ساتھ امن عمل میں

غزہ میں جنگ روکنا کسی بھی مزید کارروائی کے لیے بنیادی شرط ہوگی

?️ 30 جنوری 2024سچ خبریں:طاہر النونو  نے کہا کہ جنگ کے خاتمے اور جنگ بندی

حکومت عراق بین الاقوامی اتحاد کی موجودگی کو ختم کرنے کی کوشش میں

?️ 28 دسمبر 2023سچ خبریں:بغداد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں عراقی وزیر اعظم محمد

ہم اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے لیے فلسطینی عوام کی حمایت کرتے ہیں: دمشق

?️ 20 جون 2022سچ خبریں:   شام کے نائب وزیر خارجہ بشار الجعفری نے پیر کی

بلوچستان میں بھارتی پراکسیز کی سہولت کاری بے نقاب، اسلحہ، تربیت فراہم کرنے لگیں

?️ 26 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) بلوچستان میں بھارتی پراکسیز کی سہولت کاری بے

پی ڈی ایم حکومت عمران خان سے غیرمشروط مذاکرات پر رضامند

?️ 6 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے موجودہ سیاسی

حکومت یا تجارتی کمپنی؟ ٹرمپ انتظامیہ میں ایلون مسک کے DOGE پروجیکٹ کی ناکامی کی وجوہات

?️ 15 جولائی 2025سچ خبریں: نومبر 2024 میں پہلی بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے

حسینہ واجد کا قدم، امیر جماعت اسلامی کی زبانی

?️ 6 اگست 2024سچ خبریں: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم نے کہا ہے کہ حسینہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے