?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹر محمداورنگزیب نے کہاہے کہ بجلی کے شعبہ کے 1225 ارب روپے گردشی قرضہ کاحل مالی نظم و ضبط کو یقینی بنانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے توانائی شعبے کے دیرینہ ترین مسائل میں سے ایک کے حل میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔
جمعرات کویہاں جاری بیان میں وزارتِ خزانہ نے 1225 ارب روپے کے گردشی قرضہ کے کامیاب حل کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم کی ٹاسک فورس برائے پاور کی تاریخی مشترکہ کاوش کے ذریعے اور وزارتِ توانائی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور 18 شراکتی بینکوں کے تعاون سے اسے ممکن بنایا گیا۔
اس تاریخی ری سٹرکچرنگ سے پاکستان میں توانائی کے شعبے کے دیرینہ ترین مسائل میں سے ایک کے حل میں ایک بڑی پیش رفت کی نمائندگی وعکاسی ہورہی ہے۔
بیان میں کہاگیاہے کہ اس کامیابی سے توانائی کے شعبے کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے یکجا ہونے والے اداروں کے باہمی مربوط اندازمیں کام کرنے اور ٹیم ورک کی طاقت کی عکاسی بھی ہورہی ہے ۔ اس کوشش کی قیادت وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی سربراہی میں وزیرِ اعظم کی ٹاسک فورس نے کی جسے وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمداورنگزیب، وزیرِ اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی ، نیشنل کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل محمد ظفر اقبال، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد، سیکرٹری خزانہ امداداللہ بوسال اور ٹاسک فورس کے تمام مخلص اراکین کی بھرپور حمایت حاصل رہی جبکہ پی بی اے اور 18 بینکوں نے مضبوط ومربوط تعاون فراہم کیا۔
بیان میں کہاگیاہے کہ یہ تاریخی ری سٹرکچرنگ موثر اشتراکِ عمل کے ذریعے ممکن ہوئی جہاں ٹاسک فورس اور سرکاری اداروں نے پالیسی قیادت ورہنمائی اور عملدرآمد فراہم کیا جبکہ بینکاری کے شعبے نے پی بی اے کے ذریعے اور سٹیٹ بینک کی فعال معاونت کے ساتھ، توانائی کے شعبے کے مستقبل پر اعتماد کے تحت مالی تعاون کو منظم اور متحرک کیا۔ بیان کے مطابق بجلی پیدا کرنے والے اداروں کو واجب الادا ادائیگیاں کرنے کیلئے معاہدے میں 660 ارب روپے کے موجودہ قرضوں کی ری سٹرکچرنگ اور 565 ارب روپے کی نئی فنانسنگ شامل ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ اس قرض کے حل سے صارفین پر کوئی نیا بوجھ نہیں ڈالا گیاکیونکہ ادائیگی پہلے سے عائد کردہ فی یونٹ 3.23 روپے سرچارج کے ذریعے کی جائے گی۔ اس ڈھانچے کے تحت 660 ارب روپے کی ساورن گارنٹی دی جائے گی جس سے زرعی شعبے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، رہائش، تعلیم اور صحت کے شعبوں کی جانب کیش کو منتقل کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے تاریخی پیش رفت پراپنے تبصرے میں کہاہے کہ یہ تاریخی حل مالی نظم و ضبط کی بحالی، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور توانائی کے شعبے کی پائیداری کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔
محمداورنگزیب نے کہا کہ یہ سنگِ میل اجتماعی قیادت اور موثر ٹیم ورک کی ایک مثال ہےجس کی بنیاد تکنیکی مہارت، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عوامی و نجی تعاون پر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کامیابی اس بات کی نظیر قائم کرتی ہے کہ پاکستان کے ڈھانچہ جاتی مسائل کو جدت، اتحاد اور عزم کے ساتھ حل کیا جا سکتا ہے۔ یہ کامیابی توانائی شعبہ کے دیرینہ رکاوٹوں کو حل کرنے کے حکومت کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہے حکومت مالی استحکام اور توانائی کے شعبے کی اصلاحات کے درمیان توازن قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ اس انتظام کے ذریعے 660 ارب روپے کے ساورن گارنٹی ترجیحی شعبوں زراعت ، رہائش، تعلیم اور صحت جیسے ترجیحی شعبوں میں انتہائی مطلوبہ لیکویڈٹی کے بہاؤ کو یقینی بنائے گی۔


مشہور خبریں۔
امریکہ کی دھوکہ بازیوں سے صیہونی بھی پریشان
?️ 20 اگست 2021سچ خبریں:عبدالباری عطوان نے افغانستان میں امریکی شکست کا ذکر کرتے ہوئے
اگست
غزہ کے بارے میں تل ابیب کی درخواست پر متحدہ عرب امارات کا ردعمل
?️ 11 مئی 2024سچ خبریں: متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے غزہ کی پٹی
مئی
سعودی عرب میں یورینیم کی افزودگی نہیں ہوگی:امریکہ
?️ 20 نومبر 2025سچ خبریں:امریکی وزیر توانائی نے کہا کہ واشنگٹن اور ریاض کے درمیان
نومبر
ٹک ٹاک نے بچوں کی حفاظت اور کریئیٹرز کی سہولت کیلئے نئے فیچرز متعارف کرا دیے
?️ 30 جولائی 2025سچ خبریں: مشہور ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک نے بچوں کی آن
جولائی
گوگل اور ایمازون کے خلاف مظاہرہ
?️ 12 ستمبر 2022سچ خبریں:صیہونیوں کو ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی وجہ سے امریکہ میں گوگل
ستمبر
ہواوے کی نووا سیریز کے 4 فونز متعارف
?️ 31 دسمبر 2023سچ خبریں: اسمارٹ فون بنانے والی چینی کمپنی نووا نے اپنی مقبول
دسمبر
ایسی حکومت جس کی ذات میں وحشی پن شامل ہے
?️ 10 جولائی 2023سچ خبریں:شام کی عوامی اسمبلی کے رکن رافت بیکر نے یہ بیان
جولائی
کسی کرپٹ کو کسی صورت میں این آر او نہیں دیں گے: فیاض چوہان
?️ 3 اپریل 2021لاہور (سچ خبریں) وزیر جیل خانہ جات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے
اپریل