انٹرپول نے شواہد کی کمی کے باعث مونس الٰہی کی حوالگی کی حکومتی درخواست مسترد کردی

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) انٹرپول نے حکومت پاکستان کی سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما مونس الٰہی کی منی لانڈرنگ اور قتل کے مقدمات میں حوالگی کی درخواست کو ‘شواہد کی کمی’ کے باعث مسترد کر دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مونس الٰہی تقریباً 3 سال سے اسپین میں مقیم ہیں، جس کی وجہ عمران خان کی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف کارروائی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی انٹرپول کے سامنے اس حوالگی کی درخواست پر سرگرمی سے کام کر رہے تھے، اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے گزشتہ دو سال کے دوران منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات سے متعلق مبینہ شواہد فراہم کیے تھے۔

پاکستان حکومت کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے انٹرپول نے کہا کہ ’انٹرنیشنل کرمنل پولیس آرگنائزیشن (انٹرپول) کے جنرل سیکرٹریٹ کی طرف سے اس بات کی تصدیق کی جاتی ہے کہ آج کے دن تک مونس الٰہی انٹرپول نوٹس یا ڈفیوزن کے تحت نہیں ہیں۔

منی لانڈرنگ، قتل اور دیگر کیسز میں شواہد کی کمی

ایف آئی اے کے ایک ذرائع نے بتایا کہ انٹرپول نے مونس کے خلاف تحقیقات شواہد کی کمی کے باعث ختم کر دی ہیں۔

اگرچہ ایف آئی اے تقریباً 2 سال سے اس کے پیچھے تھی، لیکن لگتا ہے کہ انٹرپول نے اس موقف کو تسلیم نہیں کیا کیوں کہ زیادہ تر کیسز سیاسی نوعیت کے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گجرات پولیس نے مونس الٰہی کو ایک قتل کے کیس میں ملوث کیا، جسے حکومت نے انٹرپول کے سامنے اپنی درخواست میں پیش کیا تھا، تاہم مقامی عدالت نے کیس جعلی ثابت ہونے پر گرفتاری کے وارنٹ اور پروکلیمیشن واپس لے لیے تھے، جس سے مونس کو حکومت کے کمزور موقف کو بے نقاب کرنے میں مدد ملی۔

مونس کے وکیل عامر راون نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ انٹرپول نے اپنے مکمل فیکٹ فائنڈنگ جائزے کے بعد ان کے مؤکل کو پی ایم ایل-ن کی حکومت کی جانب سے لگائے گئے بے بنیاد الزامات سے بری کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انٹرپول کی کلین چٹ سے ثابت ہو گیا کہ قتل، منی لانڈرنگ، فراڈ اور کرپشن سمیت تمام الزامات مونس کے خلاف سیاسی نوعیت کے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ الٰہی خاندان عمران خان کے وفادار رہنے کی وجہ سے ہدف بنے۔

وکیل نے کہا کہ مونس الٰہی کو جعلی مقدمات کے ذریعے ہدف بنانے پر پاکستانی حکام سے معافی ملنی چاہیے، الٰہی خاندان پی ایم ایل-ن کی حکومت کے بعد مسلسل ہدف بنتا رہا ہے۔

وکیل نے کہا کہ مونس پی ایم ایل-ن کے دور حکومت، خاص طور پر محسن نقوی اور پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز پر شدید تنقید کرتے رہے، جس کی وجہ سے وہ ہدف بن گئے، حکمران پارٹی کی جانب سے جعلی مقدمات، گرفتاریوں اور دباؤ کے اقدامات اپوزیشن کے خلاف ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کیس واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ ریاستی اداروں کو سیاسی مخالفین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے خطرات کتنے سنگین ہیں۔

وزارت داخلہ کے ترجمان قادریار تیوانہ نے اس بارے میں ’ڈان‘ کے سوال پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

مشہور خبریں۔

جنین میں قدس بٹالین کی صیہونی مخالف کاروائی

?️ 3 جون 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے نابلس، جنین اور الخلیل کے علاقوں پر حملے

پنجاب اسمبلی سے سینیٹ کی جنرل نشست پر رانا ثناءاللہ کو ٹکٹ جاری

?️ 18 اگست 2025لاہور (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ ن نے رانا ثنااللہ خان کو

ٹرمپ اقوام متحدہ میں ‘ٹرپل اسبوٹیج’ کی تحقیقات کے خواہاں

?️ 25 ستمبر 2025سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر

اماراتی حمایت یافتہ فورسز نے یمن کے مشرقی علاقوں سے پسپائی اختیار کر لی

?️ 31 دسمبر 2025 اماراتی حمایت یافتہ فورسز نے یمن کے مشرقی علاقوں سے پسپائی

مریم نواز نے جنگ کے دنوں میں سب سے متحرک وزیراعلی کا رول ادا کیا۔ عظمی بخاری

?️ 15 مئی 2025لاہور (سچ خبریں) وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ

نوازشریف اور محمود اچکزئی کے رابطے کا علم نہیں۔ رانا ثناءاللہ

?️ 16 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور

ناٹو اور مصنوعی سیکورٹائزیشن؛ مغرب کی حکمت عملی کے طور پر خوف کو دوبارہ پیدا کرنا

?️ 11 نومبر 2025سچ خبریں: پچھلی تین دہائیوں کے دوران، نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے