?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک بار پھر سابق آرمی چیف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کے ساتھ تنازع ’ذاتی‘ نوعیت کا ہے اور اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آئے تو ان کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے۔
لاہور میں اپنی رہائش گاہ زمان پارک میں کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے وفد سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ جب سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو ملک کی سب سے بڑی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کے عہدے سے ہٹایا گیا تو پی ٹی آئی حکومت کو گرانے کا منصوبہ سامنے آیا۔
عمران خان نے کہا کہ اس وقت وہ قمر جاوید باجوہ کو کہتے رہے کہ اگر حکومت گری تو پھر کوئی بھی ملک کی معیشت کو سنبھال نہیں سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے قمر جاوید باجوہ کو سمجھایا کہ شہباز شریف کرپٹ ہیں اور وہ 16 ارب روپے کے کرپشن کیس میں مطلوب ہیں، اس لیے ان کی حکومت لانے پر غور نہیں کیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کے لیے کرپشن کوئی مسئلہ نہیں تھا اور انہوں نے خود کو بھی کرپٹ ثابت کیا۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں صوبائی اسمبلیاں تحلیل کردی جائیں گی اور عام انتخابات کے بعد اقتدار میں آنے پر تمام بدعنوانوں کا احتساب کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انتخابات میں تاخیر کی گئی تو ملک ڈیفالٹ زون میں چلا جائے گا۔
انہوں نے نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد 90 روز کے اندر انتخابات کا انعقاد ہی غیر جانبداری کا اصل امتحان ہوگا، جب کہ آرمی چیف نے خود کہا اور فیصلہ کیا کہ وہ غیر جانبدار رہیں گے اور سیاست میں مداخلت نہیں کریں گے۔
دوسری جانب، وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ جنرل (ر) باجوہ ہمارے محسن ہیں، آپ کے محسن ہیں، پی ٹی آئی کے محسن ہیں، خدا کا خوف کرو، ان کے خلاف نہ بولیں، عمران خان نے جو زیادتی کی، مجھے ساتھ بٹھا کر جنرل (ر) باجوہ کو برا بھلا کہا، یہ بڑی زیادتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر جنرل (ر) باجوہ کے خلاف کسی نے بات کی، سب سے پہلے میں بولوں گا، اس کے بعد ہماری ساری پارٹی بولے گی، انہوں نے مذاق بنا لیا ہے، بندہ اتنا احسان فراموش ہوسکتا ہے، یہ کیا ہے کہ منہ اٹھا کر جو مرضی آئے شروع ہو جاتا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کے اس انٹرویو کے نشر ہونے کے بعد عمران خان نے مونس الہٰی کو اپنی رہائش گاہ پر بلایا اور ان کے والد کی جانب سے سامنے آنے والے سخت بیان پر تبادلہ خیال کیا، اس دوران مونس الہٰی نے قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے اپنے والد، اپنی پارٹی اور اپنے مؤقف کی وضاحت کی۔
عمران خان سے ملاقات کے بعد مونس الہٰی نے ٹوئٹ کیا کہ انہوں نے پی ٹی آئی چیئرمین سے ملاقات کی اور وضاحت کی کہ پی ٹی آئی-مسلم لیگ (ق) اتحاد برقرار ہے اور ایسے ہی برقرار رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا اتحاد قائم و دائم ہے اور ان شا اللہ رہے گا، مسلم لیگ (ن) اپنا ماتم جاری رکھے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب حکمراں اتحاد، مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کو کثیر الجماعتی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
پرویز الہٰی کے عمران خان کے خلاف ریمارکس سے متعلق سوال پر جواب دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ پرویز الہٰی کی اپنی سیاسی جماعت ہے اور وہ ہمیشہ اپنی پارٹی کے خیالات کا کھل کر اظہار کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے فیصلوں کا احترام بھی کرتے ہیں اور ان پر عملدرآمد بھی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ پی ٹی آئی-مسلم لیگ (ق) کے تعلقات کی خوبصورتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ دونوں جماعتیں اتحادی بن کر آئندہ عام انتخابات میں شرکت کریں گی۔


مشہور خبریں۔
ٹرمپ کے لالچ کا جواب
?️ 1 اپریل 2025سچ خبریں: رائٹرز کی طرف سے شائع ہونے والے ایک بیان میں
اپریل
ترکی کا شامی فوج اور کرد ملیشیا کے مشترکہ ہیڈ کوارٹر پر ڈرون حملہ
?️ 18 جولائی 2022سچ خبریں: شامی اپوزیشن کے ذرائع نے آج پیرکو حلب صوبہ کے
جولائی
سعودی مبلغ کو 40 سال قید کی سزا
?️ 19 نومبر 2022سچ خبریں:انسانی حقوق کی تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب
نومبر
امریکہ کی ایران کے خلاف بدرفتاری اور بدعہدی کی 73 سال سے زیادہ کی تاریخ: بقائی
?️ 20 مئی 2026 سچ خبریں:اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی
مئی
جنسی اسکینڈلز کی وجہ سے اینگلیکن چرچ کے سربراہ کا استعفیٰ
?️ 14 نومبر 2024سچ خبریں: اینجلیکن چرچ کے سربراہ آرچ بشپ آف کنٹربری جسٹن ویلبی
نومبر
بی بی سی کی ٹونی بلیئر سے متعلق انکشاف
?️ 12 اکتوبر 2025بی بی سی کی ٹونی بلیئر سے متعلق انکشاف برطانوی نشریاتی ادارے
اکتوبر
پی ٹی آئی ورکرز کے حقوق پر ایک اور ڈاکا منظور نہیں۔ اکبر ایس بابر
?️ 11 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس
دسمبر
محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر
?️ 16 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ
جنوری