افغانستان ڈرون حملے میں پاکستانی زمین نہیں بلکہ فضا کے استعمال کا ‘سوال’ ہے، فواد چوہدری

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی  کے رہنما فواد چوہدری نے متعلقہ وزارتوں سے واضح بیان کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی ڈرون حملے میں پاکستان کی زمین استعمال ہونے کا سوال نہیں ہے جس میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری مارے گئے تھے بلکہ سوال یہ ہے کہ پاکستان کی فضا استعمال کرنے کی اجازت دی گئی یا نہیں؟

سابق وفاقی وزیر، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل بابر افتخار کے حالیہ بیان کا حوالہ دے رہے تھے، جنہوں نے گزشتہ شب ‘جیو نیوز’ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ پاکستان کی سرزمین اس قسم کی چیز کے لیے استعمال ہوئی ہو’۔

فواد چوہدری نے ٹوئٹ میں کہا کہ سوال یہ ہے کہ پاکستان کی فضا استعمال کرنے کی اجازت دی گئی یا نہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ بار بار یہ بیان کہ پاکستان کی سرزمین استعمال نہیں ہوئی، غیر واضح بات ہے، متعلقہ وزارتوں کو واضح بیان جاری کرنا ہو گا۔

گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے مطالبہ کیا تھا کہ یہ بتایا جائے کہ آیا افغانستان میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کو نشانہ بنانے والے ڈرون کے لیے پاکستان کا فضائی راستہ استعمال ہوا ہے یا نہیں۔

فواد چوہدری نے کہا تھا کہ پاکستان کی وزارت خارجہ اور وزارت دفاع واضح طور پر اس معاملے پر اپنی پوزیشن بتائیں کیونکہ پہلے بھی افغانستان کے معاملات میں پاکستان نے بھاری قیمت ادا کی ہے۔

جیو نیوز کےپروگرام میں بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ وزارت خارجہ نے اس حوالے سے مکمل طور پر وضاحت کر دی ہے کہ اس میں دوسری کوئی شک والی بات نہیں ہے، ہمیں قیاس آرائیوں اور اس طرح کی چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے، جس کے دل میں جو آتا ہے وہ سوشل میڈیا پر لکھ دیتا ہے، خاص طور پر دشمن ممالک کی طرف سے یہ چیزیں فیڈ کی جاتی ہیں۔

امریکی صدر نے بیان میں کہا تھا کہ امریکا نے اتوار کی صبح افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ڈرون حملہ کیا جس میں ایمن الظواہری مارے گئے تھے، مصر سے تعلق رکھنے والے سرجن کے سر کی قیمت ڈھائی کروڑ ڈالر رکھی گئی تھی کہ انہوں نے 11 ستمبر 2001 کے حملے میں مدد کی تھی جس میں تقریبا 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جیسے ہی اس حملے کی رپورٹ آئیں، متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس حملے میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے سوالات اٹھانا شروع کیے، جس کے بعد آئی ایس پی آر نے وضاحت دی۔

رواں ہفتے کے آغاز میں ‘ایکسپریس نیوز’ کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا کو پاکستان کی فضا استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تو اس سے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچے گا۔

انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ اگر ہم فضائی راستہ دیتے ہیں، اور اگر امریکا افغانستان میں ڈرون حملہ کرتا ہے تو اس سے ہمارے قبائلی علاقے متاثر ہوں گے، کیا ہم موجودہ بحرانوں کے باوجود کسی اور کی جنگ کا حصہ بننا چاہتے ہیں؟

دوسری جانب، پی ٹی آئی کے رہنما علی حیدر زیدی نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کے بلوچستان میں حالیہ ہیلی کاپٹر کریش میں شہید ہونے والے 6 فوجی افسران کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنے کے بارے میں سوال پر جنرل افتخارکے ردعمل پر کہا تھا کہ اس سے غلط تاثر گیا۔

گزشتہ رات ڈی جی آئی ایس پی آر سے انٹرویو میں اینکر میں پوچھا تھا کہ یہ سوال صدر کے بارے میں ہے، جو مسلح افواج کے کمانڈر ہیں کہ شہدا کے اہل خانہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ نماز جنازہ میں شریک ہوں۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے اس معاملے پر بیان دینے سے منع کر دیا تھا، اور کہا تھا کہ بہتر ہے کہ میں اس معاملے پر کوئی بیان نہ دوں۔

علی زیدی نے کہا تھا کہ اس معاملے کو باوقار اور پیشہ ورانہ انداز میں ہینڈل کیا جا سکتا تھا اور کیا جانا چاہیے تھا۔

سابق وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی کہا تھا کہ صدر پاکستان مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں، ان کا دفاع کیا جانا چاہیے تھا۔

دریں اثنا، جمعہ کی رات ڈاکٹر عارف علوی نے ٹوئٹ کیا تھا کہ ان کے جنازے میں شرکت نہ کرنے پر ‘غیر ضروری تنازع’ کھڑا ہو گیا۔

صدر عارف علوی نے کہا تھا کہ اس سے مجھے ان لوگوں کی ٹوئٹس کی مذمت کرنے کا موقع ملتا ہے جو ہماری ثقافت اور نہ ہی ہمارے مذہب سے واقف ہیں۔

قبل ازیں، آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا تھا کہ ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر چند لوگوں نے غلط قسم کا پروپیگنڈا کیا، تضحیک آمیز اور غیر حساس تبصرے شروع کر دیے جو انتہائی تکلیف دہ ہے، بے حسی کا رویہ ناقابل قبول ہے اور ہر سطح پر اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔

مشہور خبریں۔

صورتحال تشویشناک ہے، تمام اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، نیئر بخاری

?️ 29 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سینئر قانون دان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے

ڈی جی آئی ایس پی آرنے شہیدوں کے اہلخانہ کے جذبے کو سلام پیش کیا

?️ 1 ستمبر 2021راولپنڈی (سچ خبریں)یوم دفاع و شہداء کے حوالے سے  ڈی جی آئی

شہباز شریف اقوام متحدہ کی کانفرنس میں شرکت کیلئے قطر پہنچ گئے

?️ 5 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف امیر قطر کی دعوت پر دوحہ

میر واعظ کی طرف سے بجلی کے بحران پر قابض انتظامیہ پر کڑی تنقید

?️ 26 اپریل 2024سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل

نیٹو کی دشمنانہ پالیسی ہمیں سلامتی کے اقدامات پر مجبور کر رہی ہے:روس

?️ 19 جولائی 2025 سچ خبریں:کرملین نے نیٹو کی روس مخالف پالیسیوں کو دشمنی قرار

امریکہ کا افغانستان میں رہنے کا بہانہ

?️ 11 جولائی 2021سچ خبریں:امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے حال ہی میں

ایکس پر فیس بک میسینجر جیسا مکمل الگ چیٹنگ سسٹم متعارف کرائے جانے کا امکان

?️ 21 اپریل 2025سچ خبریں: مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ڈائریکٹ میسیج

پاکستان کی کاربن مارکیٹ پالیسی تیار، سمری منظوری کےلیے وفاقی کابینہ کو ارسال

?️ 3 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے کاربن مارکیٹ پالیسی تشکیل دے دی،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے