?️
اسلام آباد(سچ خبریں)وفاقی وزیر برائے ماحولیات سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ اتحادی حکومت کے پاس عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) کی ہدایات اور شرائط پر بجٹ بنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں مالی سال 23-2022 کے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے شیری رحمٰن نے یہ بات واضح کی کہ ’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ آئی ایم ایف بجٹ تھا‘۔ قومی اسمبلی کا بجٹ سیشن کورم نا مکمل ہونے کے باوجود 3 گھنٹے تک جاری رہا۔
شیری رحمٰن سمیت تقریباً تمام قانون سازوں نے عمران خان کی زیر قیادت حکومت پرملک کی معیشت تباہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
وزیر ماحولیات نے کہا کہ ’اگر یہ آئی ایم ایف بجٹ تھا تو ہمیں آئی ایم ایف سے کس نے باندھا تھا؟ساتھ ہی الزام لگایا کہ پی ٹی آئی حکومت اپنے 4 سال کے دوران ملک کو دیوالیہ ہونے کی طرف لے گئی، اب ملک کی معیشت وینٹی لیٹر پر چھوڑنے کے بعد بھی انتشار پھیلا رہے ہیں۔
شیری رحمٰن نے اتحادی جماعتوں کے حکومت بنانے اور یہ علم ہونے کے باوجود کے اس کی سیاسی قیمت ادا کرنی پڑے گی، تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو ہٹانے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک سری لنکا کی طرح دیوالیہ کی طرف جارہا تھا۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ ’پاکستان اتنی تیزی سےتنزلی کی جانب بڑھ رہا تھا جس طرح ٹرین ڈھلان سے اترتی ہے، اب اتحادی حکومت نے اسے روک دیا ہے اور کچھ نہیں ہوا، اسے بحران سے نمٹنا کہا جاتا ہے‘۔
شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ کوئی حکومت عوام پر بوجھ نہیں ڈالناچاہتی لیکن قوم کو ابھی مزید مشکل فیصلے برداشت کرنے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے نئی حکومت کو آئی ایم ایف کے بدترین معاہدے سے باندھ دیا اور پھر اس کی خلاف ورزی کی۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ ’بدقسمتی سے معیشت کو خستہ حال کرنے کے بعد یہ ملک میں مسلسل سیاسی عدم استحکام کی کوشش کر رہے ہیں، جو پاکستان کے لیے انتہائی خطرناک ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ جب پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تھی تو انہوں نے کرپشن ختم کرنے کا کہا تھا اس کے برعکس ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کرپشن انڈیکس کی رپورٹ میں پاکستان 117 سے 140 ویں نمبر پر آگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں غیر ملکی تحائف کو نہیں بھولنا چاہیے جو سستے داموں خریدے گئے تاکہ اسے بیرونِ ملک میں فروخت کیا جائے۔
سینیٹر شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف سے وعدے کیے، قرض لیے اور اس رقم کو غیر مستحکم پروگرامز پر خرچ کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ زہر کا پیالہ ہے جو پی ٹی آئی ہمارے لیے چھوڑ کر گئی ہے، لیکن یہ حکومت مشکل فیصلے لے گی جیسا کہ گزشتہ دو ماہ میں ہوا، یہ سخت وقت ہوگا اور استحکام تک پہنچنے کے لیے ہمیں سخت ترین وقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ قرضوں کے جال کو توڑنے اور اقتصادی ماڈل میں تبدیلی لانے کے لیے حکومت مشکل فیصلے لے گی تاکہ ملک کو واپس صحیح سمت میں لایا جاسکے۔
پیپلز پارٹی رہنما کا کہنا تھا کہ 70 سال کے دوران مختلف حکومتوں نے آئی ایم ایف کے 23 پروگرامز پر بات کی لیکن انہوں نے ہمیشہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی کوشش کی۔


مشہور خبریں۔
ہم نے سعودی وزارت دفاع اور شاہ خالد ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا: یمنی فوج
?️ 7 دسمبر 2021سچ خبریں:یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے بتایا کہ گذشتہ رات کی
دسمبر
ایٹمی شعبے کے فوجی نظریے میں تبدیلی کا امکان ہے: خرازی
?️ 2 نومبر 2024سچ خبریں: سینئر ایرانی سفارت کار کمال خرازی نے لبنان کے المیادین
نومبر
اپوزیشن نے وزیردفاع کی تقریر میں خلل کیوں ڈالا؟
?️ 26 جون 2024سچ خبریں: وزیر دفاع خواجہ آصف کی تقریر کے دوران سنی اتحاد
جون
نیتن یاہو وائٹ ہاؤس جانے کے لئے بے صبری سے منتظر
?️ 28 جون 2023سچ خبریں:یدیعوت احارانوت اخبار کے مطابق اسرائیل میں بنجمن نیتن یاہو کی
جون
صہیونیوں نے جادو کی چھڑی کا سہارا کیوں لیا؟
?️ 25 مئی 2023سچ خبریں:غزہ پر فوجی جارحیت کے دوران فلسطینی مزاحمت کے ساتھ محاذ
مئی
ہم یورپی یونین کی اسٹریٹیجک آزادی کی حمایت کرتے ہیں:چین
?️ 10 مئی 2023سچ خبریں:چین کا کہنا ہے کہ وہ یورپی یونین کے عوام کی
مئی
صدر مملکت کی سیاسی گرما گرمی کم کرنے کیلئے ایک بارپھر ثالثی کی پیشکش
?️ 15 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) شدید سیاسی بے یقینی کی صورتحال کے درمیان صدر
مارچ
اسپین کا غزہ پر اسرائیلی حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ / "غزہ فلسطینیوں کا ہے”
?️ 24 مئی 2025سچ خبریں: اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ "غزہ فلسطینیوں کا
مئی