اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل چوتھے ہفتے کمی

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر مسلسل چوتھے ہفتے تنزلی کے بعد 4 ارب 20 کروڑ ڈالر رہ گئے ہیں، جس سے بمشکل ایک مہینے کی کنٹرولڈ درآمدات کی جاسکتی ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 19 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر 11 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کم ہو گئے جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں 8 کروڑ 75 لاکھ ڈالر گر کر 5 ارب 54 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔

ملک کے مجموعی ذخائر 9 ارب 73 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے، جن میں کُل 20 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تنزلی ہوئی۔

کرنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کے لیے ایک ایک ڈالر اہم ہے، جس سے شرح تبادلہ پر نمایاں اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

زرمبادلہ میں حالیہ کمی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولنے کے لیے سخت شرائط لگا کر درآمدات پر سخت کنٹرول رکھا ہوا ہے۔

مالیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ سخت کنٹرول کے 2 نتائج ظاہر ہوتے ہیں، درآمدات کرنے کے لیے درآمدکنندگان ڈالر غیرقانونی منڈیوں سے خریدنا شروع کر دیتے ہیں اور دوسری طرف بڑے پیمانے پر اشیا کی اسمگلنگ بھی شروع ہو جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستانی منڈیاں اسمگل شدہ ایرانی اور چینی مصنوعات سے بھری پڑی ہیں جبکہ بنگلہ دیش سے ٹیکسٹائل مصنوعات بھی آرہی ہیں۔

اشیا کی اسمگلنگ اور غیر قانونی منڈیوں سے ڈالر خریدنے کی وجہ سے انٹربینک اور اوپن مارکیٹ کے درمیان ڈالر کا فرق زیادہ ہو گیا ہے۔

یہ فرق 22 روپے تک پہنچ چکا ہے، جس کی وجہ سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اس بڑے فرق سے فائدہ اٹھانے کے سبب قانونی ذرائع کا استعمال کرنا روک دیا ہے، اپریل میں دوسرے ملک میں مقیم پاکستانیوں نے 29 فیصد کم ترسیلات زر بھیجیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈالرز کی آمد قانونی سے غیر قانونی ذرائع کی طرف منتقل ہوئی ہے۔

اگر یہ فرق برقرار رہتا ہے تو اسٹیٹ بینک آف پاکستان مجبور ہو جائے گا کہ وہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کرے۔

مشہور خبریں۔

یمنی اماراتی کارندے کون سا ڈھول پیٹ رہے ہیں؟

?️ 20 جون 2023سچ خبریں:یمن کی جنوبی عبوری کونسل کے عسکریت پسندوں نے ایک بار

صیہونی جیلوں میں فلسطینیوں پر بدترین تشدد

?️ 12 جون 2021سچ خبریں:صہیونی اخبار ہارتیز نے 24 مارچ 2019 کو النقب صحرا میں

لبنان میں جنگ بندی؛ نیتن یاہو کے لیے آگ کا آغاز

?️ 2 دسمبر 2024سچ خبریں: 27 نومبر 2024 لبنان کی حزب اللہ اور صیہونی حکومت

مقبوضہ علاقوں میں خوف کا غلبہ

?️ 29 جنوری 2023سچ خبریں:2023 میں قدس شہر نے ایک ایسی کارروائی کا مشاہدہ کیا

جرمنی نے صیہونی ریاست کو ہتھیاروں کی فروخت کیوں روکی؟

?️ 19 ستمبر 2024سچ خبریں: جرمنی کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کے قوانین کی

ایرانی حملوں اور غزہ جنگ سے صہیونی ریاست کی 7 بڑی کمپنیوں کو تاریخی مالی نقصان

?️ 26 جون 2025 سچ خبریں:ایرانی میزائل حملوں اور غزہ کی جنگ نے اسرائیل کی

افغانستان پر قبضے کے خاتمے پر یمن کا رد عمل

?️ 31 اگست 2021سچ خبریں:یمنی سپریم انقلابی کمیٹی کے سربراہ نے افغانستان پر قبضے کے

عبرانی میڈیا: ۳۰ فیصد صہیونی نوجوان اسرائیل چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں

?️ 29 مارچ 2026سچ خبریں: ایک صہیونی میڈیا نے اسرائیلی علاقوں میں جاری جنگ کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے