?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) مالیاتی شعبے کے ماہرین اور تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ حکومتی دعوے کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی تمام پیشگی شرائط ماسوائے زرمبادلہ کے ذخائر کو پورا کردیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود مرکزی بینک کی جانب سے اگلے زری پالیسی اجلاس میں شرح سود میں 200 بیسس پوائنٹس اضافے کا امکان ہے۔
اس بات کا واضح اشارہ 22 مارچ کو منعقد ہونے والی ٹریژری بل کی نیلامی میں دیا گیا، جب قلیل مدتی سرکاری سرٹیفکیٹس پر نفع بڑھ کر تقریباً 22 فیصد ہوگیا۔
مارچ کے پہلے ہفتے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے شرح سود 300 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 20 فیصد کر دی تھی، سود کی شرح میں اس بڑے اضافے سے چند دن قبل حکومت نے ٹریژری بل کی شرح کو بڑھا کر تقریباً 20 فیصد کر دیا تھا۔
مقامی مالیاتی ڈیٹا پورٹل ٹریس مارک کے چیف ایگزیکٹو افسر فیصل مامسا نے بتایا کہ حقیقت یہ ہے کہ وزارت خزانہ نے شرح نفع میں اضافہ کیا، اس کا مطلب پالیسی ریٹ میں اضافہ ہے۔
مرکزی بینک کا اگلا زری پالیسی اجلاس 4 اپریل کو شیڈول ہے۔
حالیہ ٹریژری بل نیلامی میں تین مہینے، 6 مہینے اور 12 مہینے کے سرٹیفکیٹس کا منافع بالترتیب 100 بیسس پوائنٹس، 114 بیسس پوائنٹس اور 50 بیسس پوائنٹس بڑھایا گیا ہے، جس کی وجہ مارکیٹ کو توقع ہے کہ شرح سود میں مزید 200 بیسس پوائنٹس اضافہ کیا جائے گا۔
مالیاتی شعبے کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شرح سود میں مزید اضافہ حکومت کے لیے ضروری ہو سکتا ہے کیونکہ مہنگائی قابو سے باہر ہو چکی ہے، فروری میں افراط زر 31.5 فیصد پر پہنچ چکی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدمات مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہے۔
پاک۔کویت انویسٹمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ کمپنی کے ہیڈ آف ریسرچ سمیع اللہ طارق نے بتایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اگلی زری پالیسی میں 200 بیسس پوائنٹس کا اضافہ متوقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مارچ میں مہنگائی تقریباً 34 فیصد ہوسکتی ہے لہٰذا افراط زر اور شرح سود میں فرق بہت زیادہ ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور مرکزی بینک کے پاس مہنگائی پر قابو پانے کا ایک ہی طریقہ شرح سود بڑھانا ہے، زیادہ منافع کے حصول کے لیے مارکیٹوں کے لالچ کو روکنے کے لیے کوئی انتظامی اقدامات نہیں کیے جارہے۔
منافع کمانے پر کوئی چیک نہ ہونے سے بھی مہنگائی بڑھی ہے، خاص طور پر اشیائے خورونوش کی مہنگائی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹو افسر سہیل احمد نے بتایا کہ ٹریژری بل کی نیلامی نے پہلے ہی شرح سود میں اضافے کا عندیہ دیا ہے، اگلی زری پالیسی میں شرح سود 100 سے 200 بیسس پوائنٹس بڑھ سکتی ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے ہیڈ آف ریسرچ طاہر عباس نے بتایا کہ انہیں اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس اضافے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ آنے والے مہینوں میں افراط زر کے بلند رہنے کا امکان ہے کیونکہ بیرونی اور مالیاتی ایڈجسٹمنٹ (بشمول اضافی ٹیکس، ٹیرف میں اضافہ، کرنسی کی کمزوری اور ’رمضان فیکٹر‘) کے اثرات سامنے آئیں گے۔
اے ایچ ایل کے سروے کے مطابق 30.8 فیصد افراد نے شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس، 26.9 فیصد نے 200 بیسس پوائنٹس اضافے کی توقع ظاہر کی ہے، تاہم 42.3 فیصد کو لگتا ہے کہ پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔


مشہور خبریں۔
جمہوریہ آذربائیجان پاکستان کے GF-17 لڑاکا طیاروں سے مسلح
?️ 2 نومبر 2024سچ خبریں: جمہوریہ آذربائیجان کی فضائیہ نے پاکستان کے تیار کردہ 4th
نومبر
پاکستان اور طالبان کے درمیان جنگ بندی کی صورتحال؛ خواجہ آصف کی زبانی
?️ 22 اکتوبر 2025سچ خبریں:پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے جنگ بندی کے
اکتوبر
دنیا کے میڈیا میں ایران کے خلاف جنگ جنگ کا روزانہ منظر نامہ
?️ 25 اپریل 2026 سچ خبریں:امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف
اپریل
ایران سے تیل کی خریداری کم کرنے کے لیے چین اور امریکہ کے درمیان مذاکرات
?️ 30 ستمبر 2021سچ خبریں:روئٹرز نیوز ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ امریکہ نے ایران سے
ستمبر
ایران اور روس کا امریکہ کو واضح پیغام
?️ 22 جولائی 2025ایران اور روس کا امریکہ کو واضح پیغام امریکی جریدے نیوزویک نے
جولائی
کویت میں ڈرون حملے ہونے کی تصدیق، فوج کی جوابی کارروائی
?️ 20 جولائی 2026سچ خبریں: کویت کی فوج نے اپنے ملک کے خلاف ڈرون حملوں
جولائی
چیٹ جی پی ٹی کا سرچ انجن گوگل کی طرح استعمال کرنا ممکن
?️ 7 فروری 2025سچ خبریں: آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے
فروری
نفتالی بینٹ کی کابینہ تباہی کے دہانے پر ہے: رائٹرز
?️ 14 جون 2022سچ خبریں: وزیر اعظم نفتالی بینٹ کی جانب سے کنیسٹ میں سیکیورٹی
جون