?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی احتساب بیورو (نیب) نے صدر مملکت آصف زرداری اور سابق وزرائے اعظم نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور دیگر کے خلاف توشہ خانہ گاڑیوں کا ریفرنس اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت منتقل کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ اب نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
اسلام آباد احتساب عدالت میں توشہ خانہ گاڑیوں سے متعلق ریفرنس کی سماعت ہوئی، جج عابدہ سجاد نے مقدمے کی سماعت کی۔
فاضل جج نے کہا کہ نیب نے اپنا جواب جمع کروا دیا ہے، ڈپٹی ڈی جی پراسیکیوٹر نیب بھی کمرہ عدالت میں پیش ہوئے۔
آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آخر میں نیب نے ہاتھ سے معلوم نہیں کیا لکھا، فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ نیب زبانی کہہ رہا تھا کیس اسپیشل جج سینٹرل کو بھیجیں جس پر میں نے ہدایت کی لکھ کر دیں۔
فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، ان کیسز میں بہت سے ججز کو ریٹائرڈ ہوتے دیکھا ہے، آخر میں ہم ہی بچیں ہیں، میری استدعا ہے کہ کیس ایف آئی اے ایجنسی کو بھیجا جائے وہی عدالت بھیجے، ابھی تک اس کیس میں چالان بھی پیش نہیں ہوا۔
ڈپٹی ڈی جی نیب نے کیس ایف آئی اے ایجنسی کو بھیجنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسی کیسے ایگزمن کرے گی۔
فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ یہ کیس نیب سیکشن-9 کے تحت ہوا اور بیان بھی ریکارڈ ہوئے، اس کیس میں دوبارہ انکوائری ہو گی اور انکوائری ایجنسی ہی کرے گی۔
فاضل جج نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے کیس میں کیا ہوا تھا، وکلا نے بتایا کہ اس میں چالان آگیا تھا اس وجہ سے عدالت کو منتقل کیا گیا تھا۔
یوسف رضا گیلانی، نوازشریف و دیگر ملزمان کے وکلا نے فاروق ایچ نائیک کے دلائل سے اتفاق کیا۔
عدالت نے ریفرنس ایف آئی اے ایجنسی یا اسپیشل جج سینٹرل کو بھیجنے پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو 21 نومبر کو سنایا جائے گا۔
احتساب عدالت میں قومی احتساب بیورو کے دائر کردہ ریفرنس کے مطابق یوسف رضا گیلانی پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف پر غیر قانونی طور پر گاڑیاں الاٹ کرنے کا الزام ہے۔
اس ریفرنس میں اومنی گروپ کے سربراہ خواجہ انور مجید اور خواجہ عبدالغنی مجید کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ آصف زرداری اور نواز شریف نے کاروں کی صرف 15 فیصد قیمت ادا کر کے توشہ خانہ سے گاڑیاں حاصل کیں۔
بیورو نے الزام عائد کیا کہ یوسف رضا گیلانی نے اس سلسلے میں نواز شریف اور آصف زرداری کو سہولت فراہم کی اور تحائف کو قبول کرنے اور ضائع کرنے کے طریقہ کار کو غیر قانونی طور پر نرم کیا۔
ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ آصف زرداری نے ستمبر اور اکتوبر 2008 میں متحدہ عرب امارات سے مسلح گاڑیاں (بی ایم ڈبلیو 750 لی ماڈل 2005، لیکسز جیپ ماڈل 2007 اور لیبیا سے بی ایم ڈبلیو 760 لی ماڈل 2008) حاصل کیں۔
مذکورہ ریفرنس کے مطابق وہ فوری طور پر اس کی اطلاع دینے اور کابینہ ٖڈویژن کے توشہ خانہ میں جمع کروانے کے پابند تھے لیکن انہوں نے نہ تو گاڑیوں کے بارے میں مطلع کیا نہ ہی انہیں نکالا گیا۔
نیب ریفرنس میں الزام لگایا گیا تھا کہ سال 2008 میں نواز شریف کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا اس کے باوجود اپریل تا دسمبر 2008 میں انہوں نے اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو کوئی درخواست دیے بغیر اپنے فائدے کے لیے کابینہ ڈویژن کے تحت طریقہ کار میں بے ایمانی اور غیر قانونی طور پر نرمی حاصل کی۔
ریفرنس کے مطابق خواجہ انور مجید نے ایم ایس انصاری شوگر ملز لمیٹڈ کے اکاؤنٹس استعمال کرتے ہوئے آواری ٹاور کے نیشنل بینک کے ایک اکاؤنٹ سے 92 لاکھ روپے آصف زرداری کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے۔
اس کے علاوہ انہوں نے ایک اکاؤنٹ کے ذریعے آصف زرداری کی جانب سے ایک کروڑ 11 لاکھ 17 ہزار 557 روپے کی ادائیگی کی، ملزم نے اپنی غیر قانونی اسکیم کے سلسلے میں آصف زرداری کے ناجائز فوائد کے لیے مجموی طور پر 2 کروڑ 3 لاکھ 17 ہزار 557 روپے ادا کیے۔
دوسری جانب خواجہ عبدالغنی مجید نے آصف زرداری کو ناجائز فائدہ پہنچانے کے لیے 3 ہزار 716 ملین (371 کروڑ 60 لاکھ) روپے کی خطیر ادائیگیاں کیں۔
نیب نے ان افراد پر بدعنوانی کا جرم کرنے اور نیب قوانین کے تحت واضح کی گئیں کرپٹ پریکٹسز میں ملوث رہنے کا الزام لگایا۔
نیب نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان ملزمان پر مقدمہ چلا کر سخت ترین جیل کی سزا دی جائے۔


مشہور خبریں۔
صدر مملکت کی طرف سے قومی اقتصادی کونسل کی تشکیل نو کی منظوری
?️ 7 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 156
جون
یمن کا علاقائی اور بین الاقوامی کردار
?️ 6 جنوری 2024سچ خبریں:انصاراللہ کے سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے کہا کہ
جنوری
وزیراعظم سے عرفان صدیقی کی ملاقات، تعلیمی اداروں بارے گفتگو
?️ 1 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے سینیٹر عرفان صدیقی
جولائی
فوجی ساز و سامان مین مغرب کا چین سے کوئی مقابلہ نہیں
?️ 21 جولائی 2023سچ خبریں:سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز نے تائیوان پر امریکہ اور
جولائی
جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کرنا قانونی طور پر جائز ہے
?️ 22 اپریل 2026 سچ خبریں:فرا جنگ پروگرام کی اکیسویں قسط نے آبنائے ہرمز میں
اپریل
ایران، عراق اور شام کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت
?️ 5 نومبر 2021سچ خبریں: قبل ازیں عراقی وزیر خارجہ فواد حسین اور شام کے وزیر
نومبر
افغان قونصل جنرل نے مؤقف دے دیا، ایسی بات نہیں کہ وہ قومی ترانے کی عزت نہیں کرتے، علی امین گنڈاپور
?️ 18 ستمبر 2024پشاور: (سچ خبریں) وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے
ستمبر
صہیونی حکومت نے ایک بار پھر بحری قزافی کو دہرایا کشتی حنظلہ پر حملہ
?️ 27 جولائی 2025صہیونی حکومت نے ایک بار پھر بحری قزافی کو دہرایا کشتی حنظلہ
جولائی