?️
اسلام آباد ( سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ریاستِ مدینہ میں میرٹ کی بالادستی تھی، قابلیت پر لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے تھے کیونکہ قانون کی بالادستی اور متفرق قانون کے خاتمے کے ساتھ ہی طرز معاشرت میں فکری انقلاب لاسکتے ہیں۔
اسلام آباد میں قومی رحمت اللعالمین ﷺ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اللہ کا خاص شکر ادا کرتا ہوں کہ ہم آج بھر پور طریقے سے نبی آخر الزمان ﷺ کے یومِ ولادت کا جشن مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منا رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری نوجوان نسل کو اپنے پیارے نبی ﷺ کی سیرت کے بارے میں علم ہونا چاہیے۔اس موقع پر 5 منٹ دورانیے کی ایک فیچر فلم بھی نشر کی گئی جس کا مقصد مغربی ممالک کو آگاہ کرنا تھا کہ ایک مسلمان حضرت محمد ﷺ سے عشق کیوں کرتا ہے۔
بعدازاں عمران خان نے کہا کہ اسلام تلوار کے زور پر نہیں بلکہ فکری انقلاب سے پھیلا تھا، سوچ بدلی اور ذہن بدلے تھے۔انہوں نے کہا کہ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان جب تک نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر گامزن رہے کامیابی ان کا مقدر بنی اور جو لوگ منحرف ہوئے انہیں پستی نصیب ہوئی، اس طرح مدینہ کی ریاست ایک ماڈل بنی۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تین سال اقتدار میں رہتے ہوئے مجھے حیرت ہوئی کہ اللہ نے پاکستان کو کتنی نعمتیں بخشی ہیں لیکن ہمیں اپنا راستہ ٹھیک کرنا ہے اور اس کوشش میں مجھے اور میری پارٹی کو 25 سال ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاستِ مدینہ کا پہلا اصول اخلاقی معیار تھا، حضرت محمد ﷺ نے معاشرے میں اچھے اور برے کے فرق سے متعلق آگاہ کیا اور دنیا نے ایسے معاشرے اور فرد کو اہمیت دی۔عمران خان نے کہا کہ قانون کی بالادستی اور متفرق قانون کے خاتمے کے ساتھ ہی طرز معاشرت میں فکری انقلاب لاسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاستِ مدینہ کے اہم ستون میں فلاحی ریاست کا تصور بھی شامل ہے، حضرت محمد ﷺ نے دنیا کی پہلی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی اور ریاست نے نچلے طبقے کو بنیادی حقوق دیے اور انصاف اور انسانیت کی بدولت قومیں ایک ہوجاتی ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ملک میں جاگیردانہ نظام کو کیا فرق پڑتا ہے کہ بیرونی طاقت آکر ملک میں اپنی حکمرانی کا جھنڈا نصب کردے، اس لیے برصغیر کو فتح کرنا آسان تھا لیکن افغانستان کو فتح نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ادھر جاگیردانہ نظام نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں میرٹ کی بالادستی تھی، قابلیت کی بنیاد پر لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے تھے اور اسی معاشرے میں لیڈرز پیدا ہوئے، شخصیت سازی کی بدولت صحابہ لیڈر بن گئے اور جو جنرل اچھا کام کرتا تھا وہ اوپر آجاتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ سمیت تمام دیگر شعبہ جات میں اگر لیڈر صادق و امین نہ ہو تو اس کی عزت نہیں ہوتی، مدینہ کی ریاست میں پہلی مرتبہ خواتین کو وراثت اور غلاموں کو حقوق فراہم کیے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جس طرح مغرب میں ملازمین کو رکھا جاتا ہے اور جو صورتحال یہ یہاں ہے، اس کو دیکھ کر شرم آتی ہے۔
انہوں نے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک جھوٹ بولنے پر مقامی بااثر شخص کو جیل بھیج دیا گیا اور اگر میں پاناما کی بات کروں تو ہر روز نئے جھوٹ کہے گئے اور قطری خط آگیا، قطری خط 2007 میں آتا ہے اور 2006 کا فونٹ استعمال کیا جاتا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اگر انگلینڈ میں قطری خط آجاتا تو اسی وقت کیس رکنا تھا، اس طرح حلف نامے پر جھوٹ بولا گیا، برطانیہ کا عدالتی نظام اور پاکستان کے عدالتی نظام سے بہت مختلف ہے، اگر مورل اتھارٹی نہ ہو تو انصاف نہیں ہوسکتا یہاں سب کو معلوم ہے کہ سینیٹ میں بھی پیشہ چلتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 90 لاکھ پاکستانی بیرون ملک موجود ہے، اگر 30 سے 40 ہزار پاکستان آکر سرمایہ کاری کردیں تو آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں پڑے گی، میں ایک ایسے پاکستانی کو جانتا ہوں جس کی اتنی دولت ہے جتنا پاکستان پر آئی ایم ایف کا قرض ہے۔
عمران خان نے کہا کہ لیکن پاکستان کا سسٹم انہیں پاکستان نہیں آنے دیتا، وہ پاکستان آنے کے لیے بے قرار رہتے ہیں۔انہوں نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ امیر اور غریب ممالک کے مابین واضح فرق کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان جیسے ممالک سے ہر سال ایک ہزار ڈالر منی لانڈنگ کے ذریعے برطانیہ، امریکا جیسے ممالک میں پہنچتا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے ملک کے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کو صحیح راستے پر لگانا چیلنج ہے، سوشل میڈیا کے بعد نوجوانوں کو بامقصد کام میں لانا بہت بڑا چیلنج ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اکثر کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے خود کو زندگی کے مزے لے لیے اور اب ہمیں ریاست مدینہ کا درست دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رحمت اللعالمین ﷺ اتھارٹی کا مقصد یہ ہے کہ نوجوان نسل کو ریاست مدینہ کے اصول بتائے جائیں، انہیں نبی کریم ﷺ کی اسوہ حسنہ سے متعلق آگاہی دیں، کم از کم ہم نوجوانوں صحیح اور غلط راستوں کی نشاندہی تو کرواسکتے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ جب تک زندہ رہوں گا انصاف کی بالادستی کے لیے لڑتا رہوں گا، میری زندگی محض ایک دائرے میں نہیں ہے بلکہ ہمارا منشور ہی یہ ہے اور اتھارٹی کے ذریعے ہم راستہ دکھائیں گے کیونکہ دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ احساس اور کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ زندگی کے میدان میں خود کچھ کرسکیں، قرضے بلاسود ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ برس مارچ تک پنجاب میں تمام لوگوں کو ہیلتھ کارڈز مل جائیں گے، ایک متوسط گھر کے پاس 10 لاکھ روپے کا علاج کرانے کی سہولت ہوگی، گندم پر سبسڈی دیں گے۔
علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ معاشرے میں ریپ کیسز کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے، جو یقیناً ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔
ایک مرتبہ پھر انہوں نے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس معاشرے میں فحاشی بتدریج متعارف کرائی گئی، جس کا براہ راست اثر ادھر ہونے والی شادیوں اور خاندانی نظام پر پڑا اور پھر جب وہ نظام برباد ہوا تو ہمیں سمجھ آیا کہ پردے کا تصور کسی بھی معاشرے میں کیوں ضروری ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جو ثقافت بالی ووڈ سے ہالی ووڈ اور اس کے بعد پاکستان پہنچ رہی ہے، یہ کلچر ہمارے خاندانی نظام کو برباد کردے گا۔
انہوں نے کہا کہ بچوں سے موبائل فون نہیں لے سکتے، سوشل میڈیا پر پابندی نہیں لگا سکتے لیکن اپنے بچوں کو موبائل کے استعمال کے معاملے میں ان کی تربیت کرسکتے ہیں، اسکول کے اندر 9 اور 10 ویں کلاس میں سیرت نبی ﷺ میں کورس شروع کیا ہے اور اس کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کل ٹی وی پر ایسے پروگرام آرہے ہیں جس کے بارے میں متعدد شکایات موصول ہوتی ہیں، انہیں رکنا مشکل ہے۔عمران خان نے کہا کہ رحمت اللعالمین ﷺ کے نام پر اسکالرشپ دی جائیں گی اور بتدریج اس کا دائرہ کار کو وسعت دیں گے۔


مشہور خبریں۔
ٹیریان وائٹ کیس: عمران خان کی نااہلی سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار
?️ 21 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے مبینہ بیٹی ٹیریان وائٹ
مئی
فلسطین کے لیے ہماری کی حمایت کمزور نہیں ہوگی:ترک صدر
?️ 25 اگست 2022سچ خبریں:ترکی کے صدر نے دعویٰ کیا کہ انقرہ کے تل ابیب
اگست
جنوبی لبنان پر صہیونی حملے جاری، جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں
?️ 15 اپریل 2026سچ خبریں:جنوبی لبنان میں صہیونی افواج کی گولہ باری اور فضائی حملے
اپریل
سعد رضوی ٹی ایل پی کے مرکز مسجد رحمت اللعالمین میں خطاب بھی کریں گے
?️ 18 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ترجمان
نومبر
بجلی چوری میں ملک کی بڑی بڑی کمپنیاں بھی ملوث ہیں، وزیر توانائی کا انکشاف
?️ 10 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے انکشاف کیا
جولائی
جولانی حکومت کا ایک سال؛ شام کو اسرائیل کے کھیل کے میدان میں تبدیل کرنے سے لے کر دھوئیں میں اٹھنے والے وعدوں تک
?️ 8 دسمبر 2025سچ خبریں: دمشق میں جولانی حکومت کے برسراقتدار آنے کے ایک سال
دسمبر
اسرائیل پہلے سے زیادہ الگ تھلگ
?️ 9 اپریل 2024سچ خبریں: صہیونی اخبار Haaretz نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ
اپریل
ڈاکٹر کے بیٹے کو ڈاکٹر بننے پراقربا پروری نہیں سمجھا جاتا تو اداکاروں کے ساتھ ایسا کیوں؟ علی سفینا
?️ 29 اکتوبر 2023کراچی: (سچ خبریں) مقبول اداکار و میزبان علی سفینا نے کہا ہے
اکتوبر