آئین کے تحت چلنے کی ضرورت ہے‘ کوئی بہانہ تلاش نہیں کرنا چاہیے، چیف جسٹس

?️

لاہور: (سچ خبریں) چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ عدالتیں ایگزیکٹو آرڈر پاس نہیں کرسکتیں، عدالتی فیصلہ چیلنج نہیں کیا جاتا تو یہ حتمی فیصلہ ہوجاتا ہے، آئین کے تحت چلنے کی ضرورت ہے‘ کوئی بہانہ تلاش نہیں کرنا چاہیے، آئین 90 روز میں الیکشن کا کہتا ہے تو اس پر عملدرآمد کرانا ہمارا فرض ہے، ہمارے فیصلے پر آج عمل نہیں ہوتا تو وقت ثابت کرے گا اور کل اس پر عمل کرنا پڑے گا، اللہ انصاف کے لیے جج کا انتخاب کرتا ہے، جج کے سامنے سچ اور جھوت ہو تو اسے یقین ہونا چاہیے خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے۔

لاہور میں مینارٹی رائٹس فورم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جسٹس اے آر کار نیلیئس نے بہترین خدمات انجام دیں، جسٹس اے آر کار نیلیئس نے 23 سال کی عمر میں آئی سی ایس پاس کیا، وہ سول سروس عہدے پر تعینات ہو سکتے تھے مگر قانون وانصاف کا انتخاب کیا، جسٹس اے آر کار نیلیئس نے سپریم کورٹ کو 17 سال دیئے، جسٹس اے آر کار نیلیئس ایک اچھے قانون دان اورسادگی پسند تھے، انہیں قانون کے علاوہ دیگر بہت سے علوم پر کمال حاصل تھا، جسٹس اے آر کار نیلیئس جوڈیشل سسٹم کیلئے طرہ امتیاز تھے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جسٹس اے آر کار نیلیئس کی زندگی ججز کیلئے مثال ہے، جسٹس اے آر کار نیلیئس جب ریٹائر ہوئے تو ان کے کوئی اثاثے نہیں تھے، پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے، آئین پاکستان اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا ضامن ہے، 1964ء میں 2 صوبوں نے جماعت اسلامی پر پابندی لگائی تھی، مولانا مودودی کیس میں پابندی ہٹا دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہے، پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد جانیں گنوائیں، عدالت ایگزیکٹو آرڈر پاس نہیں کرسکتیں، پاکستان کے ہرشہری کو بنیادی حقوق حاصل ہیں، بنیادی انسانی حقوق پر فیصلہ سپریم کورٹ کا اختیار ہے، جب سچائی سے گریز کیا جائے تو انصاف سے گریز کیا جاتا ہے،عدالتوں کے فیصلوں کی اخلاقی اتھارٹی ہوتی ہے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال ںے کہا کہ کم شرح خواندگی اور اجتہاد کے باعث مذہبی انتہا پسندی کو فروغ ملا، انسانی بنیادی حقوق کی حفاظت عدلیہ کی بنیادی ذمے داری ہے، آئین کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کے لیے عدلیہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، انسانی حقوق کا نفاذ ریاست کی اولین ترجیح ہے، عدالتی احکامات پر عمل درآمد ریاستی اداروں کی اولین ترجیح ہے۔

مشہور خبریں۔

امریکی فوج کا 2026 میں عراق سے مکمل انخلاء

?️ 9 ستمبر 2024سچ خبریں: بغداد اور بین الاقوامی اتحاد کے درمیان معاہدے کی خبروں

امریکی عوام کا اسرائیل سے نفرت میں اضافہ؛ نتن یاہو کا اعتراف

?️ 11 مئی 2026سچ خبریں:صیہونی وزیراعظم نتن یاہو نے امریکی نوجوانوں میں اسرائیل کے بارے

معید یوسف کی امریکی ہم منصب سے ملاقات،دوطرفہ تعاون پر زور

?️ 30 جولائی 2021واشنگٹن(سچ خبریں) مشیر قومی سلامتی معید یوسف اور امریکی ہم منصب جیک

مریم نواز کا چیف جسٹس عمر بندیال سے مستعفی ہونے کا مطالبہ، موجودہ بحران کا ذمہ دار قرار دے دیا

?️ 15 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے

واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ

?️ 23 مارچ 2023سچ خبریں:Axios ویب سائٹ نے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی

حکومت رواں ماہ کامیاب پاکستان پروگرام متعارف کرائے گی

?️ 4 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) حکومت نے رواں ماہ اصولی طور پر ‘کامیاب پاکستان

ترکیہ کے ساتھ ترجیحی تجارت کا معاہدہ نافذ العمل ہو گیا

?️ 5 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تقریباً 7 سال کے

قیدیوں کے تبادلے میں حماس کیسے صیہونیوں کو ذلیل کرتی ہے؟ امریکی اخبار کی زبانی

?️ 4 فروری 2025سچ خبریں:امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے