آئینی ترمیم کا معاملہ: سینیٹ اجلاس کا وقت تیسری بار تبدیل، قومی اسمبلی اجلاس بھی 7 بجے ہوگا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) 26 ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر اب تک اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے، جس کے نتیجے میں سینیٹ اجلاس کا وقت تیسری بار تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس بھی وقت تبدیلی کے بعد اب شام 7 بجے طلب کیا گیا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق اجلاس 3 بجے کی بجائے اب 6 بج کر 30 منٹ پر ہوگا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ اجلاس آج (ہفتہ) صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔

آج علی الصبح بتایا گیا تھا کہ سینیٹ اجلاس آج صبح 11 کے بجائے دوپہر 12 بج کر 30 منٹ پر منعقد ہوگا، تاہم ایک بار پھر سینیٹ اجلاس کا وقت تبدیل کر دیا گیا تھا، جاری نوٹی فکیشن میں بتایا گیا تھا کہ اجلاس اب دوپہر 12 بج کر 30 منٹ کے بجائے سہ پہر 3 بجے ہوگا۔

بعد ازاں، آئینی ترمیم کے معاملے پر اب تک اتفاق رائے نہ ہونے کے سبب سینیٹ کا اجلاس تیسری بار تبدیل کر دیا گیا ہے، اور اب یہ شام 6 بج کر 30 منٹ پر منعقد ہوگا۔

ادھر، مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا تھا کہ آئینی مسودہ تیار ہے، وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد سینیٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔

عرفان صدیقی نے کہا تھا کہ وسیع تر اتفاق رائے کی کوششیں ہو رہی ہیں، تیرہویں ترمیم کے بعد روایت رہی کہ آئینی ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کی اتفاق رائے سے ہو۔

دوسری طرف، مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے ہیں لیکن سیاسی جماعتوں میں اتفاق کی کوشش کر رہے ہیں۔

ادھر، کچھ دیر قبل بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی-مینگل) کے سربراہ اختر مینگل نے کہاکہ بزور طاقت خفیہ طریقے سے لائی جانے والی آئینی ترمیم کا حصہ نہیں بنیں گے۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی رہائشگاہ پر پی ٹی آئی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے وفد سے ملاقات ہوئی۔

ملاقات کے بعد اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بی این پی کے سربراہ اختر مینگل نے کہا کہ ایک ماہ سے ہنگامی صورتحال ہے، آئینی ترامیم خفیہ طریقے سے لائی جارہی ہیں، حکومت کی تمام تر توجہ آئینی ترمیم پر لگی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز ایوان بالا کے اجلاس کے دوران جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر مولانا عطا الرحمٰن نے کہا تھا کہ آئینی ترمیم کے لیے ہمارے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے ورکرز، ایم این ایز اور سینیٹرز کو لاپتا کیا گیا ہے، ایک ترمیم کے لیے پتا نہیں کون کون سے حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔

سینیٹر عرفان صدیقی نے مولانا عطاالرحمٰن کی جانب سے اراکین پر آئینی ترمیم کے حوالے سے دباؤ سے متعلق تقریر پر مسائل کے حل کی یقین دہانی کروائی تھی۔

بعد ازاں، اجلاس آج (ہفتہ) صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔

گزشتہ روز پاکستان پیپلزپارٹی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ اتفاق رائے تقریباً ہوچکا ہے، اپنی سیاسی قوت سے آئینی ترمیم کرکے دکھائیں گے، کوشش ہے جلد از جلد اتفاق رائے سے آئینی ترمیم منظور کرا لیں۔

آئینی ترمیم پر مشاورت کے لیے قائم خصوصی کمیٹی کے چیئرمین سید خورشید شاہ نے دعویٰ کیا تھا کہ آئینی ترمیم کے مسودے کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔

مشہور خبریں۔

ڈنمارک کے صحافی: مسئلہ فلسطین نے ڈنمارک کے جمہوریت کے دعوے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے

?️ 4 جون 2025سچ خبریں: دی گارڈین کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں ڈنمارک

پاکستان سمیت 8 ممالک کی اسرائیل کے مغربی کنارے پر قبضے کی شدید مذمت

?️ 17 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ،

فردوس اعوان کی اپوزیشن پر تنقید، حکومت اکیلے مافیاز سے نہیں لڑ سکتی

?️ 14 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں) ڈاکٹر فردوس اعوان نے اپوزیشن کو ہدف تنقید

غزہ میں بین الاقوامی فورسز کی تعیناتی پر اسرائیل اور امریکہ میں اختلافات

?️ 2 نومبر 2025غزہ میں بین الاقوامی فورسز کی تعیناتی پر اسرائیل اور امریکہ میں

اگر میں ہوتا تو روس کے ساتھ کیا کرتا؟ ٹرمپ کا بیان

?️ 1 جون 2024سابق امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے حامیوں کے درمیان

حکومت نے بحریہ ٹاؤن افسران کو جہاز سے اتارنے کا جواز پیش کرنے کیلئے وقت مانگ لیا

?️ 31 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو یہ

یورپی یونین اور امریکہ کی ایران کے خلاف نئی پابندیاں

?️ 25 جولائی 2026سچ خبریں:یورپی یونین اور امریکہ نے ایران سے متعلق متعدد افراد اور

ہیبرون کے جنوب میں صیہونی فوج کا حملہ

?️ 5 جولائی 2022سچ خبریں:   ہیبرون کے جنوب میں واقع قصبے دورامیں صیہونی فوج کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے