?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) جمیت علمائے اسلام (ف) نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت کی درخواست پر ’آئینی پیکیج‘ کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پارٹی ذرائع نے موجوزہ آئینی ترامیم پر مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے اتحادی حکومت کو حمایت کا یقین دلانے کی افواہوں کو مسترد کر دیا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ آئینی ترامیم کی مخالفت کرنے کے مؤقف میں تبدیلی نہیں آئی اور اسے ’متنازع‘ معاملہ قرار دیا، جے یو آئی (ف) کے ذرائع کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے مطالبے پر حکومت نے ترامیم کو ملتوی کرنے پر اتفاق کیا ہے، اب اس معاملے کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سمٹ کے بعد دیکھا جائے گا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے پیر کو فلسطین سے اظہار یکجہتی کے لیے منعقد کثیر الجماعتی کانفرنس صدر اور وزیراعظم کی دعوت پر شرکت کی تھی، جس میں اتحادی جماعتوں کے ساتھ ملاقات بھی کی گئی تھی، اس کے بعد قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ سربراہ جے یو آئی (ف) حکومت کی حمایت کرنے پر راضی ہیں۔
تاہم پارٹی ترجمان نے بتایا کہ ان رپورٹس میں کوئی سچائی نہیں ہے، جبکہ اندرونی ذرائع نے ترامیم کو متنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ ’موجودہ حالات میں‘ حمایت نہیں کریں گے۔
سینئر پارٹی رہنما نے گزشتہ مہینے حکومت اور پارٹی کے درمیان ڈائیلاگ کے بعد بتایا تھا کہ جمیت علمائے اسلام (ف) نے علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کی حمایت کی ہے لیکن آئینی ترامیم کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے، مزید کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں مسودہ دکھایا جائے لیکن مذاکراتی ٹیمیں اس میں ناکام رہی ہیں۔
دوسری جانب، حکومت آئینی ترامیم پیش کرنے کے لیے تقریباً تیار ہے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) میں ذرائع کو یقین ہے کہ اس بار معاملے کو جلد بازی میں پارلیمنٹ میں نہیں لایا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ 18 اکتوبر بروز جمعہ کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے علیحدہ علیحدہ اجلاس طلب کیے جانے کے امکانات ہیں۔
امکان ہے کہ ایک ہی روز قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس الگ الگ بلائے جائیں گے اور ایک ایوان سے منظوری کے بعد اسی روز دوسرے اجلاس میں ترمیم پیش کی جائے گی۔
دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے حکومتی اتحاد مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے متعدد قانون سازوں کو بھی منانے کی کوشش کر رہا ہے، جن کے پارٹی کی ہدایت کے خلاف ڈالے گئے ووٹ کو سپریم کورٹ کے آرٹیکل 63 (اے) کے فیصلے کے بعد شمار کیا جائے گا۔
پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) اختر مینگل کے ساتھ رابطے میں ہیں، جو بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی۔ایم) مینگل ہے، انہیں امید ہے کہ وہ بی این پی کے 2 سینیٹرز کی حمایت حاصل کر لیں گے۔
حال ہی میں قومی اسمبلی سے استعفیٰ دینے والے سردار مینگل ابھی تک ایوان کے رکن ہیں کیونکہ ان کا استعفیٰ اسپیکر قومی اسمبلی نے قبول نہیں کیا ہے۔


مشہور خبریں۔
کیا حزب الله لبنان کے سیاسی عمل سے باہر ہو گئی ہے؟
?️ 14 فروری 2025 سچ خبریں:لبنان کی نئی کابینہ کی تشکیل سے ظاہر ہوتا ہے
فروری
ہم اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کے خواہاں نہیں ہیں: لبنانی وزیراعظم
?️ 4 دسمبر 2025سچ خبریں: لبنان کے وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ
دسمبر
آئی فون کے ٹکر کا ون پلس 12 متعارف
?️ 6 دسمبر 2023سچ خبریں: اسمارٹ موبائل فون بنانے والی چینی کمپنی ون پلس نے
دسمبر
بغداد میں یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟
?️ 11 ستمبر 2023سچ خبریں:عراق کے وزیر اعظم محمد شیاع السوڈانی نے اتوار کے روز
ستمبر
وزیر اعظم نے خاندانوں کو غربت سے نکالنے کا منصوبہ تیار کر لیا
?️ 4 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں)وزیر اعظم نے لاکھوں خاندانوں کو غربت سے نکالنے
اگست
افغان طالبات کا اسکولوں کی بندش کے خلاف مظاہرہ
?️ 27 مارچ 2022سچ خبریں:افغانستان کے دارالحکومت کابل میں افغان طالبات نے لڑکیوں کے اسکولوں
مارچ
سعودی عرب میں عازمین حج کے لیے 100 حفظ قرآن نشستوں کا انعقاد
?️ 3 جولائی 2022سچ خبریں:مسجد الحرام اور مسجد النبی کی انتظامیہ نے بیت اللہ الحرام
جولائی
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، پاکستان کسی بھی ممکنہ اثر سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے، محمد اورنگزیب
?️ 17 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے
جون