?️
سچ خبریں:بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں ایک پرائیویٹ کمپنی کے مالک کلیپش شاہ شاہ کا کہنا ہے کہ ان کا فون دو دن بند رہنے کے باوجود کمپنی کے بینک اکاؤنٹ سے80 لاکھ روپے چوری ہو گئے۔
کلپیش شاہ جو ایک پرائیویٹ کمپنی کے مالک ہیں نے اپنے ساتھ ہونے والے فراڈ کے بارے میں یہ تفصیلات بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ’میری کمپنی کا موبائل نمبر میری کمپنی کے بینک اکاؤنٹ سے منسلک ہے اور یہ فون ایک شام اچانک بند ہو گیا،اگلے دن میں نے بینک اکاؤنٹ چیک کیا تو معلوم ہوا کہ ہماری کمپنی کے اکاؤنٹ سے راتوں رات لاکھوں روپے مختلف بینکوں میں منتقل ہو چکے ہیں اور ہمارا بینک اکاؤنٹ خالی کر دیا گیا ہے۔
کلپیش شاہ اپنے تین بھائیوں کے ساتھ مل کر ہمت نگر نامی علاقے میں ایک فیکٹری چلاتے ہیں،اس فیکٹری میں دس کاریگر کام کرتے ہیں،کلپیش کی کمپنی کا ہیڈ آفس احمد آباد میں ہے جو ہر ماہ لاکھوں روپے کا لین دین کرتی ہے۔
احمد آباد سائبر کرائم میں شکایت درج کروانے والے 52 سالہ کلپیش شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی فوم بنانے والی کمپنی کا بینک اکاؤنٹس اور دیگر کاموں کی مینیجمنٹ کے لیے ایک خصوصی فون نمبر ہے،یہ فون نمبر 20 سال سے کمپنی کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ بینک میں یہی فون نمبر بینک ٹرانزیکشن کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
سائبر کرائم کے محکمے میں اس کیس کی تحقیق کرنے والے افسر نے بی بی سی کو اس فراڈ میں ملوث گروہ کے بارے میں بتایا کہ ’جب اکاؤنٹ ہینڈل کرنے والا شخص ای میل کھولتا ہے تو اس کے کمپیوٹر میں ایک ’ٹروجن بگ‘ لگا دیا جاتا ہے جس کے بعد ہیکر گینگ اس کے تمام لین دین کو ٹریک کرتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ہیکرز کمپنی کے بلنگ پیٹرن اور ان کی آپس میں ہونے والی بات چیت جیسی معلومات تک رسائی حاصل کرتی ہے لیکن کمپنی کے مالک کو اس کا علم نہیں ہوتا۔ ’ٹروجن بگ کی مدد سے وہ گروہ کمپنی کا پاس ورڈ اور آئی ڈی آسانی سے حاصل کر لیتا ہے۔‘
فراڈ کیسے ہوتا ہے؟
کلپیش شاہ کا کہنا ہے کہ ’ہماری کمپنی کے پاس مہینے کے آخر میں ملازمین کو دینے کے لیے تنخواہ کی رقم موجود ہوتی ہے۔ مہینے کے آخر میں ہمارے بینک اکاؤنٹ میں 80 لاکھ روپے تھے۔ 31 مئی کو بینک اکاؤنٹ سے منسلک فون نمبر اچانک بند ہو گیا۔ آؤٹ گوئنگ سروس سمیت انٹرنیٹ بھی متاثر ہوا اور بند ہو گیا۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’میں نے اپنے اکاؤنٹنٹ چیتن مستری سے فون پر رابطہ کیا۔ جس کے بعد فون کمپنی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ اُن کی کمپنی ہی کی جانب سے موصول ہونے والی ایک میل کے بعد ان کا فون نمبر بند کر دیا گیا ہے،انھوں نے دوبارہ کال کرنے کی درخواست کی تاکہ پرانے سم کارڈ کو ایکٹیویٹ یعنی فعال کیا جا سکے۔
پھر یکم جون کو ہم نے اپنا بینک اکاؤنٹ چیک کیا تو پتا چلا کہ اس سے راتوں رات 79 لاکھ 70 ہزار روپے نکلوائے جا چکے تھے۔
اس کیس کی تفتیش کرنے والے افسر نے کہا کہ ’ایک منظم گینگ اب سم سویپنگ کے ذریعے کمپنیوں سے رقم بٹورنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہ گینگ نائجیریا کے باشندے چلاتے ہیں۔ انھوں نے انڈیا کے مغربی بنگال، دہلی اور بہار میں ہیکرز کا ایک گینگ بنا رکھا ہے۔‘
پولیس کے مطابق یہ گینگ بنیادی طور پر 50 سال سے زائد عمر کے کمپنی مالکان کو نشانہ بناتا ہے کیونکہ اس عمر کے لوگ اکثر ٹیکنالوجی سے خاص واقفیت نہیں رکھتے۔ یہ ہیکرز ایسے افراد کو انکم ٹیکس انوائسز یا جی ایس ٹی انوائسز ان کے آفیشل ای میل آئی ڈیز پر بھیجتے ہیں جو کہ حقیقت میں فراڈ اور اہم معلومات پر رسائی کا ذریعہ ہوتی ہیں۔
بینک سے پیسہ نکل جاتا ہے اور آپ کو پتہ بھی نہیں ہوتا
افسر کے مطابق اس کے بعد ’کمپنی کی رقم کی ادائیگی سے لے کر کمپنی میں آنے والی رقوم تک، ہیکرز کو تمام تر ضروری تفصیلات مل جاتی ہیں،جب کمپنی کے بینک اکاؤنٹ میں زیادہ پیسے آنے لگتے ہیں، یہ گینگ سرکاری ای میل آئی ڈی سے فون کمپنی کو یہ نمبر جو کہ بینک اکاؤنٹ سے منسلک ہوتا ہے کو بلاک کرنے کی درخواست کرتے ہیں اور اس کے بدلے نیا نمبر حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ پھر ایک اور ای میل بھیج کر بینک کو نئے نمبر کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں،ٹروجن بگ یعنی خاص وائرس کی مدد سے انھیں کمپنی کے آفیشل میل آئی ڈی کے پاس ورڈ مل جاتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب یہ گینگ فون کمپنی سے باقاعدہ فون بند کرنے کے لیے درخواست کرتا ہے تو فون بند ہو جاتا ہے اور جو لوگ اس طرح کے گھپلوں سے واقف نہیں ہوتے وہ سمجھتے ہیں کہ فون کے سگنل میں کوئی مسئلہ ہے اور یہ فون دوبارہ بحال ہونے میں وقت لگ جائے گا۔‘
دریں اثنا، گینگ بینک سے مختلف اکاؤنٹس میں رقم منتقل کرتا ہے، دوسری طرف، فون انکرپٹڈ ہے، جس کی وجہ سے رقم کی لین دین کا جلد پتہ نہیں چلتا ہے۔ جب تک پتہ چلتا ہے، رقم پہلے ہی بینک سے باہر نکل چکی ہوتی ہے۔
ایسے گھپلوں سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر
ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے فراڈ کے لیے انسانی غلطی کی وجہ سے ہوتا ہے، لہٰذا کسی بھی مشکوک ای میل یا میل میں کوئی بھی لنک کھولنے سے پہلے اس کے سپیلنگ چیک کر لینے چاہییں تاکہ ’ٹروجن بگ‘ جیسے وائرس سے بچا جا سکے۔
سائبر سکیورٹی کے ماہر جیتن مہتا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہر کمپنی کو اپنے کمپیوٹرز میں ایک اینٹی وائرس سسٹم انسٹال کرنا چاہیے تاکہ ٹروجن بگ جیسے وائرس سے بچا جا سکے۔ سائبر فراڈ کرنے والے گروہ عام طور پر کمپنی کی آفیشل میل آئی ڈی پر جعلی ویب سائٹس بناتے ہیں اور اس طرح کے بگز کے ساتھ میل بھیجتے ہیں۔‘
’یہ لوگ بغیر کسی خاص ترکیب یا ترتیب کے روزانہ بہت سے لوگوں کو میل بھیجتے ہیں، اگر وہ محکمہ انکم ٹیکس یا جی ایس ٹی کی غلط ویب سائٹ بناتے ہیں، تو اس میں سپیلنگ میں ایک چھوٹی سی تبدیلی ہوتی ہے، اب اگر وہ جلدی میں اس میل کو کھولیں اور اس کے لنک پر کلک کریں، اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ایسے میں اگر کمپیوٹر میں اینٹی وائرس نہیں ہے یا پائریٹڈ اینٹی وائرس انسٹال کیا ہوا ہے تو یہ کمپیوٹر میں ایک بگ ہے جو معلومات چرا لیتا ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ عام طور پر کمپنی کا ہر کمپیوٹر ایک ایل اے این میں ایک دوسرے سے جڑا ہوتا ہے، اس لیے ہر کمپیوٹر کو یہ بگ مل جاتا ہے اور ہیکر کے لیے تمام ڈیٹا حاصل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ پیسے بچانے کے لیے پائریٹڈ اینٹی وائرس سسٹم نصب نہیں کرنا چاہیے۔
اس طرح کی دھوکہ دہی سے بچنے کے طریقے کے بارے میں بات کرتے ہوئے اے سی پی یادو کا کہنا ہے کہ ’کمپنی کے اکاؤنٹ کمپیوٹر میں ایک لازمی اینٹی وائرس سسٹم نصب کیا جانا چاہیے، تا کہ اس طرح کے وائرس کو روکا جاسکے۔ اس کے علاوہ کمپیوٹر میں کسی بھی نامعلوم میل آئی ڈی سے انوائسز کو نہیں کھولنا چاہیے۔‘


مشہور خبریں۔
وانا؛ دہشتگردوں کے حملے میں رہنما جے یو آئی مولانا سلطان محمد شہید
?️ 10 جنوری 2026وانا (سچ خبریں) جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں خارجی دہشتگردوں کے
جنوری
وزیر اعظم کی ضرورت مند افراد کیلئے مفت آٹے کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت
?️ 26 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے حکام کو ہدایت کی
مارچ
نویں جائزے کی تکمیل کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ کام کر رہے ہیں، آئی ایم ایف
?️ 6 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مشن چیف
مئی
افغانستان کی موجودہ صورت حال کو لے کر ٹرمپ اور بائیڈن کی زبانی جنگ
?️ 15 اگست 2021سچ خبریں:بائیڈن نے ٹرمپ پر طالبان کو بااختیار بنانے کا الزام لگایا
اگست
عمران خان کا پنجاب میں صحت کارڈ کی اسکیم کو بلاک کرنے کی خبروں پر سخت ردِعمل آ گیا
?️ 6 فروری 2023لاہور: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے معاشی چیلنجز کے پیش نظر پنجاب کی 400
فروری
دفعہ 144 کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواستوں پر الیکشن کمیشن کا اجلاس طلب
?️ 12 مارچ 2023لاہور:(سچ خبریں) لاہور میں دفعہ 144 کے نفاذ کے خلاف پاکستان تحریک
مارچ
ٹویٹر کے سابق مینیجر سعودی عرب کے لیے جاسوسی کے مجرم
?️ 10 اگست 2022سچ خبریں:ٹویٹر کے ایک سابق ایگزیکٹیو کو سعودی عرب کے لیے جاسوسی
اگست
عوام پر آئندہ مالی سال میں 194 ارب روپے کی اضافی پیٹرولیم لیوی کا بوجھ ڈالنے کی تیاری
?️ 19 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) آئندہ مالی سال 26-2025 کے آغاز پر عوام
مئی