?️
سچ خبریں:اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانچسکا آلبانیز نے خبردار کیا ہے کہ غزہ سے ملبہ ہٹانے کی صہیونی کوششیں جنگی جرائم کے شواہد ضائع کرنے اور ملبے تلے دبے شہدا کی لاشوں کی شناخت میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانچسکا آلبانیز نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے ملبہ ہٹانے کی صہیونی حکومت کی ممکنہ کارروائی اس حکومت کی جانب سے فلسطینی شہریوں کے خلاف کیے گئے سنگین جرائم کے اہم شواہد ضائع کر سکتی ہے اور ملبے تلے دبے شہدا کے جسد خاکی نکالنے اور ان کی شناخت کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
عربی 21 کے مطابق فرانچسکا آلبانیز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ غزہ کی پٹی سے ملبہ ہٹانے کا جامع آپریشن شروع کرنے سے پہلے شواہد اکٹھے کرنا اور متاثرین کی شناخت ضروری ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملبہ ہٹانے کے منصوبوں کی تیاری اور ان پر عمل درآمد میں فلسطینیوں کا کردار اور ذمہ داری یقینی بنائی جانی چاہیے۔
اقوام متحدہ کی عہدیدار نے کہا کہ غزہ کا ملبہ ’’صرف تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ نہیں بلکہ جرم کے منظر، قبرستان اور ایک اہم مادی دستاویز کا حصہ ہے۔‘‘
آلبانیز نے مزید بتایا کہ متعدد ذرائع نے انہیں اطلاع دی ہے کہ صیہونی کمپنیاں غزہ سے ملبہ ہٹانے کی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔
آلبانیز کا یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ نے غزہ کی پٹی میں جمع ہونے والے ملبے اور تباہ شدہ ڈھانچوں کی مقدار تقریباً 61 ملین ٹن بتائی ہے۔ اقوام متحدہ نے اندازہ لگایا ہے کہ اس وسیع پیمانے پر تباہی کا ملبہ صاف کرنے میں تقریباً 7 سال لگ سکتے ہیں۔
صہیونی حکومت کی وزارت خارجہ، وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر اور صیہونی فوج کی جانب سے اب تک آلبانیز کے بیانات پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ تینوں ادارے اس سے قبل غزہ کی پٹی میں صہیونی حکومت کی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے آلبانیز کے مؤقف کو کئی مرتبہ سختی سے مسترد کرچکے ہیں۔
دوسری جانب حماس نے آلبانیز کے انتباہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ سے ملبہ اس انداز میں ہٹایا جائے جس سے لاپتا افراد کے جسد خاکی نکالنے اور جرائم کے شواہد محفوظ رکھنے کو یقینی بنایا جاسکے۔
اسی سلسلے میں غزہ کی پٹی کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کے خلاف صہیونی حکومت کی جارحیت کے دوران 73000 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
فلسطینی حکام کا اندازہ ہے کہ 8000 سے زائد شہدا اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ گزشتہ ماہ غزہ شہر میں ملبہ تلاش کرنے والی ایک فلسطینی ٹیم نے ایک ہی خاندان کے 112 افراد کے جسد خاکی برآمد کیے تھے۔


مشہور خبریں۔
صیہونیوں کی لبنان میں جنگ بندی کے لیے عجیب و غریب شرائط
?️ 21 اکتوبر 2024سچ خبریں: امریکی اور صیہونی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ
اکتوبر
بیت المقدس میں ۲۰۰ فلسطینی خاندانوں کو جبری بے دخلی کا خطرہ
?️ 28 مارچ 2026سچ خبریں:فلسطینی وزارت خارجہ نے سلوان، بیت المقدس میں ۲۰۰ خاندانوں کے
مارچ
بھارت کشمیر میں غیر انسانی حربے استعمال کر رہا ہے: صدر مملکت
?️ 5 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت پر بات
فروری
حماس کا اسرائیلی فوج کو کرارا جواب
?️ 15 دسمبر 2023سچ خبریں:اسرائیلی فوج نے غزہ کے مختلف علاقوں میں عربی زبان میں
دسمبر
اردنی وزیر خارجہ: فلسطینی عوام کو خوراک اور ادویات سے محروم کرنا جنگی جرم ہے
?️ 2 جولائی 2025سچ خبریں: اردن کے وزیر خارجہ نے تاکید کی کہ صیہونی حکومت
جولائی
حزب اللہ کے گھات میں اسرائیلی یونٹ زمین بوس
?️ 14 جون 2026سچ خبریں: غاصب صیہونی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی بار بار
جون
نوبل کمیٹی نے امن انعام کے امیدوار کا فیصلہ غزہ معاہدے سے قبل کیا گیا
?️ 11 اکتوبر 2025نوبل کمیٹی نے امن انعام کے امیدوار کا فیصلہ غزہ معاہدے سے
اکتوبر
مسجد اقصیٰ پر بن گور کے حملے پر حماس کا ردعمل
?️ 23 مئی 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے داخلی سلامتی کے وزیر اٹمر بن گور صیہونی
مئی