یمن کا کئی گھنٹوں کا میزائل و ڈرون حملہ، امریکی بحری بیڑے اور بن گورین ایئرپورٹ کا نشانہ

یمن کا کئی گھنٹوں پر محیط میزائل و ڈرون حملہ، امریکی بحری بیڑے اور بن گورین ایئرپورٹ پر نشانہیمن کی مسلح افواج نے بحیرہ احمر میں موجود امریکی بحری بیڑے اور صیہونی علاقوں میں قائم بن گورین ایئرپورٹ پر ایک بڑے میزائل و ڈرون حملے کی تفصیلات جاری کی ہیں، جس نے خطے میں اسرائیل اور امریکہ کے سکیورٹی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

?️

سچ خبریں:یمن کی مسلح افواج نے بحیرہ احمر میں موجود امریکی بحری بیڑے اور صیہونی علاقوں میں قائم بن گورین ایئرپورٹ پر ایک بڑے میزائل و ڈرون حملے کی تفصیلات جاری کی ہیں، جس نے خطے میں اسرائیل اور امریکہ کے سکیورٹی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

یمنی میڈیا کے مطابق، صنعاء کی مسلح افواج نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے مقبوضہ یافا میں واقع بن گوریون ایئرپورٹ کو ایک فلسطین-2 ہائپرسانک بیلسٹک میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایئرپورٹ پر ہوائی جہازوں کی آمد و رفت معطل ہو گئی۔
یمنی افواج کا کہنا ہے کہ انہوں نے صرف اسرائیلی اہداف پر ہی نہیں بلکہ بحیرہ احمر میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز "USS Harry S. Truman” اور دیگر دشمن بحری ساز و سامان پر بھی کئی گھنٹوں تک مسلسل میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
یہ حملے یمنی فوج کی اعلیٰ دفاعی صلاحیت اور حملہ آور اتحاد کے خلاف بڑھتی ہوئی طاقت کا مظہر ہیں۔ ذرائع کے مطابق، یہ کارروائیاں منظم انداز میں کئی گھنٹوں تک جاری رہیں، جس نے امریکی اور اسرائیلی اتحاد کو حیران و پریشان کر دیا۔
یمن کے میزائل حملے کے بعد تل ابیب، بیت المقدس، یافا اور دیگر 20 سے زائد صیہونی علاقوں میں خطرے کے سائرن بجنے لگے۔ الجزیرہ اور المسیرہ سمیت مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے تصدیق کی ہے کہ پالماخیم ایئربیس سمیت کئی حساس مقامات پر سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں واضح طور پر دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی شہری سائرن بجنے کے فوراً بعد پناہ گاہوں کی طرف دوڑتے نظر آئے۔
ادھر انصار اللہ یمن کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے امریکی جنگی پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کا اعلان، دراصل ‘ٹرومن’ بیڑے کی شکست کا اعتراف ہے۔
انہوں نے مزید کہا:
ماضی میں امریکہ ان جنگی بحری جہازوں سے دنیا کی بڑی طاقتوں کو ڈراتا تھا، لیکن آج یمن کے مقابلے میں ان بحری جہازوں کی حیثیت صرف ایک بوجھ بن چکی ہے۔
یمن کی حالیہ کارروائی نہ صرف خطے میں جنگی توازن کو متاثر کر رہی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ یمنی مزاحمت اب صرف دفاعی پوزیشن پر نہیں بلکہ مکمل طور پر حملہ آور اور جارحانہ حکمت عملی اختیار کر چکی ہے۔
یمن کی جانب سے بحیرہ احمر اور اسرائیلی اہداف پر ہمہ جہتی حملے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ فلسطین کے ساتھ یمن کی وابستگی محض سیاسی نہیں، بلکہ عسکری سطح پر بھی مکمل حمایت کا پیغام ہے۔

مشہور خبریں۔

اقوام متحدہ کو جرمنی میں اظہار رائے کی آزادی پر تشویش 

?️ 7 فروری 2026 سچ خبریں:اقوام متحدہ کے انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی

نیتن یاہو اسپتال میں داخل، اختیارات عارضی طور پر معاون کو منتقل

?️ 31 مئی 2025سچ خبریں:صیہونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کولونوسکوپی کے لیے اسپتال میں داخل،

صدرِ مملکت عارف علوی بھی کورونا کا شکار ہو گئے

?️ 29 مارچ 2021اسلام آباد (سچ خبریں)وزیر اعظم عمران کان کے بعد  صدرِ مملکت عارف

اسحاق ڈار نے پھر وہی حرکت کی جو شوکت ترین نے کی تھی

?️ 7 فروری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وفاقی وزیر مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے

پاکستانی یونیورسٹی کے پروفیسر: اسرائیلی جارحیت کا جواب ایران کی سٹریٹجک برتری کی نشاندہی کرتا ہے

?️ 15 جون 2025سچ خبریں:  پاکستان کی فارمن کرسچن یونیورسٹی کے اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے پروفیسر

اسرائیل کی معیشت کو ایک اور دھچکا: عبرانی میڈیا

?️ 29 ستمبر 2024سچ خبریں: اسرائیل ہیوم اخبار نے ہفتے کے روز اپنے انفارمیشن بیس میں

برطانوی سب سے بڑی کنٹینر پورٹ کی ہڑتال

?️ 22 اگست 2022سچ خبریں:برطانیہ کی سب سے بڑی کنٹینر پورٹ پر تقریباً 2000 کارکنوں

امریکی فوج میں خودکشی کے حقیقی اعداد وشمار

?️ 21 ستمبر 2022سچ خبریں:امریکی فوجیوں کی خودکشیوں کی تعداد اس سلسلہ میں سرکاری طور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے