اسرائیل کی اصلی مشکل کیا ہے؟ صیہونی حکام کی زبانی

اسرائیل کی اصلی مشکل کیا ہے؟ صیہونی حکام کی زبانی

?️

سچ خبریں: صہیونی حلقوں اور ماہرین نے اسرائیلی حکومت، خاص طور پر وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی غزہ جنگ میں غلط پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ایک اسٹریٹیجک اندھے پن کا شکار ہو چکا ہے جبکہ اصل خطرہ حزب اللہ کی طرف سے ہے لیکن نیتن یاہو کا تمام تر فوکس غزہ کے فیلادلفیا کوریڈور پر ہے۔

صیہونی پارلیمنٹ کے رکن شارون نیر نے کہا کہ اسرائیل کی ناکامی صرف 7 اکتوبر 2023 تک محدود نہیں ہے بلکہ اس ناکامی کو موجودہ حکومت نے 11 ماہ تک جاری رکھا ہے۔

اسرائیل کی اسٹریٹیجک ناکامی

شارون نیر نے اسرائیلی چینل کان کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل اسٹریٹیجک اندھے پن کا شکار ہو چکا ہے اور اسے اس سے بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا حزب اللہ اسرائیلی حکومت کے لیے نمبر ایک خطرہ ہے؟

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ شمالی فلسطین کے مقامی رہنماؤں کے مطابق حکومت نے شمالی محاذ کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے، حالانکہ جنوبی لبنان سے شمالی اسرائیل پر فائر کیے جانے والے راکٹوں کی تعداد اگست میں چار گنا ہو چکی ہے۔

اصل مسئلہ حزب اللہ ہے، نہ فیلادلفیا

اسرائیلی پارلیمنٹ کی خارجہ اور سیکیورٹی کمیٹی کے سابق رکن تسفی هاوزر نے اسرائیلی ٹی وی چینل 12 سے گفتگو میں کہا کہ نیتن یاہو کا فیلادلفیا کوریڈور پر توجہ مرکوز کرنا شرمناک ہے، جبکہ اصل مسئلہ حزب اللہ ہے،انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس طرح چلایا جا رہا ہے جیسے 75 سال کے بعد بھی کوئی سبق نہ سیکھا ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی کوئی واضح حکمت عملی نہیں ہے اور موجودہ حکومت کی تمام پالیسیاں محض ٹیکٹیکی ہیں۔

شمالی محاذ اور مغربی کنارے کا چیلنج

اسرائیلی فوج کے سابق اعلیٰ جنرل اسرائیل زیو نے کہا کہ شمالی محاذ پر اسرائیل کو شدید دباؤ کا سامنا ہے اور فوج وہاں منتقل کی جا چکی ہے، لیکن ساتھ ہی مغربی کنارے پر بھی چیلنجز موجود ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مغربی کنارے کی صورتحال بگڑ گئی تو تل ابیب سمیت پورے اسرائیل میں بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

اسرائیل تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے

اسرائیلی فوجی تجزیہ کار "آلون بن دیوید” نے اسرائیلی چینل 13 پر کہا کہ اسرائیل موجودہ سیکورٹی صورتحال کی شدت کے باوجود تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے اور خطرات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو دو ماہ سے ایک اسٹریٹیجک دو راہے پر کھڑا کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: حزب اللہ کے ڈرونز کیسے صیہونی قابضین کے لیے ڈراؤنا خواب بن گئے؟

انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل قیدیوں کے تبادلے اور غزہ جنگ کے خاتمے کی طرف بڑھے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں، لیکن اگر یہ راستہ اختیار نہیں کیا گیا تو اسرائیل کو ایک بڑی علاقائی جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کے نتائج ناقابل پیش گوئی ہوں گے۔

مشہور خبریں۔

ایرانی سپریم لیڈر کے بیان کی عالمی میڈیا میں وسیع کوریج

?️ 1 فروری 2026ایرانی سپریم لیڈر کے بیان کی عالمی میڈیا میں وسیع کوریج ایران

 اسرائیلی جاسوس کا دو قیدیوں سے تبادلہ

?️ 11 ستمبر 2025 اسرائیلی جاسوس کا دو قیدیوں سے تبادلہ عراقی ذرائع کے مطابق اسرائیلی

یمن میں جنگ کے خاتمے کے خلاف امریکہ کی سنگباری کا تسلسل

?️ 6 مئی 2023سچ خبریں:قیدیوں کے امور کی قومی کمیٹی کے سربراہ عبدالقادر المرتضیٰ نے

ممکنہ چینی حملے کے خلاف کیا امریکہ تائیوان کا دفاع کر سکتا ہے ؟

?️ 24 اپریل 2026 سچ خبریں:وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام نے

اسلام آباد اور ریاض کا دفاعی معاہدہ تل ابیب کے لیے بڑا دھچکا

?️ 21 ستمبر 2025اسلام آباد اور ریاض کا دفاعی معاہدہ تل ابیب کے لیے بڑا

ویانا مذاکرات پر ٹرمپ کی میراث کا وزن

?️ 18 جون 2022سچ خبریں:   نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ

استنبول: غزہ امن مذاکرات، وزیر خارجہ کی ترک ہم منصب سے ملاقات

?️ 3 نومبر 2025 استنبول: (سچ خبریں) نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار نے

سری لنکا کے صدر مالیدپ فرار

?️ 14 جولائی 2022سچ خبریں:سری لنکا کے صدر گوٹابایہ راجا پاکسے اپنے عہدے سے استعفیٰ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے