?️
اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہےکہ جب ہم ماضی میں دیکھتے ہیں تو یہ غیر ملکی امداد ملک کے لیے ایک لعنت ہے، اس غیرملکی امداد کی وجہ سے اپنا نظام نہیں ب ماضی میں امریکا کاساتھ دینے پر پاکستان کو بہت نقصان ہوا لہٰذا اب ہم کسی گروپ کا حصہ نہیں بنیں گے۔
روسی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا کو ترقی پذیر ممالک سے غیرقانونی طور پر پیسے کی منتقلی کے مسئلے کا سامنا ہے اور پیسے کی غیرقانونی منتقلی سے غربت میں اضافہ ہورہا ہے، دنیا میں ہماری بڑی ذمہ داری انسانوں کی مدد کرنا ہے ، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اور منی لانڈرنگ بھی بڑے چیلنجز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے سابق حکمرانوں نے پیسا لندن منتقل کیا ہم واپسی کیلئے کچھ نہیں کرسکتے، ان ممالک نے اس پیسے کی واپسی کو بہت مشکل کردیا ہے یہ تبدیل ہونا چاہیے، کوئی راہ ہونی چاہیے، اگر لندن میں جائیداد قانونی پیسے سے نہیں تو یہ پیسا واپس ہونا چاہیے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب دنیا بلاکس میں تقسیم ہوئی تو پاکستان امریکی بلاک میں گیا، ہم غیر ملکی امداد کے لیے بلاک کا حصہ بنے، اب جب ہم ماضی میں دیکھتے ہیں تو یہ غیر ملکی امداد ملک کے لیے ایک لعنت ہے، اس غیرملکی امداد کی وجہ سے اپنا نظام نہیں بناسکے، ایکسپورٹ نہیں بڑھا سکے،خود انحصاری نہیں رہی، دنیا کے بلاکس میں تقسیم ہونے کی وجہ سے مسائل بڑھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری بنیادی توجہ یہ ہونی چاہیے کہ اپنے لوگوں کو کیسے غربت سے نکالیں، غربت کا خاتمے بہتر راستہ تمام ممالک کے درمیان تجارت ہے۔وزیراعظم نےروس یوکرین تنازع بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فوجی کارروائی کسی مسئلے کاحل نہیں ہوسکتی، پر امن تصفیے کیلئے مذاکرات کی میز پر آنا پڑتا ہے، روس کے ساتھ باہمی تعلقات ہیں اور اس کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں، ترقی پذیر دنیا چاہتی ہے کہ اب کوئی دوسری سردجنگ نہ ہو، اس لیے چاہتے ہیں کہ یوکرین تنازع پرامن طریقے سے حل ہو، دنیا بلاکس میں تقسیم ہے ہم چاہتے ہیں کہ مسائل کا حل پرامن ہو۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ نارتھ ساؤتھ پائپ لائن منصوبہ رکنے کی ایک وجہ روسی کمپنی پر امریکی پابندی بھی تھی جب کہ ایران پر پابندیوں کی وجہ سے گیس پائپ لائن منصوبہ مسائل میں رہا، ہمیں گیس کی کمی کا سامنا ہے، چاہتے ہیں ایران پر پابندیاں ختم ہوں۔
پاک بھارت مسائل پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہم تمام ملکوں سے تجارتی تعلقات چاہتے ہیں، حکومت میں آتے ہی بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کی، جو کچھ بھارت میں ہورہا ہے یہ نہرو اور گاندھی کا بھارت نہیں یہ مودی کا بھارت ہے، چاہتا ہوں کہ میری بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے مسائل پر بحث ہو، خواہش ہے کہ بھارتی حکومت ہندوتوا کے بجائے غربت ختم کرنے پر توجہ دے لیکن بھارت کو جرمنی کے نازیوں جیسے لوگوں کے تسلط کا سامنا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ احمقانہ خیال ہے کہ جنگ سے آپ کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا، میں نہیں مانتا کہ طاقت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں، 10 سال میں ہزاروں لوگ افغانستان میں مارے گئے، افغانستان میں طاقت کا استعمال کرکے کیا حاصل کیا گیا، اس لیے چاہتے ہیں کہ دنیا مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرے دنیا کورونا کے اثرات سے نہیں نکل پائی ہے ایک اور تنازع میں گئی تو کیا ہوگا۔


مشہور خبریں۔
شام کی سلامتی میں کون خلل ڈال رہا ہے؟
?️ 27 جون 2023سچ خبریں:شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نے اطلاع دی ہے
جون
یو اے ای نے سلامتی کونسل میں روس کے خلاف ووٹ کیوں نہیں دیا؟
?️ 28 فروری 2022سچ خبریں:سلامتی کونسل کے اجلاس میں متحدہ عرب امارات کی عدم شرکت
فروری
نیتن یاہو صہیونی پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کی کوشس مین
?️ 6 نومبر 2025نیتن یاہو صہیونی پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کی کوشس مین اسرائیلی ذرائع
نومبر
اسرائیل تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے: مشہور یہودی ارب پتی
?️ 6 مارچ 2023سچ خبریں:مشہور امریکی یہودی ارب پتی مائیکل بلومبرگ نے وزیر اعظم نیتن
مارچ
سلامتی کونسل امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھوں میں ایک فرمانبردار آلہ کار ہے: صنعاء
?️ 17 نومبر 2025 سچ خبریں: یمن کی سلامتی کونسل کی طرف سے ملک پر پابندیوں
نومبر
فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ معاف نہیں بلکہ مؤخر کیا ہے،خرم دستگیر
?️ 14 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر کا کہنا ہے
ستمبر
اسلام آباد ہائیکورٹ: شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم
?️ 1 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی
دسمبر
صیہونی صحافی کا قابض فوج کے خفیہ بحران کا انکشاف
?️ 25 ستمبر 2025 سچ خبریں:ایک صیہونی صحافی نے انکشاف کیا ہے کہ صہیونی فوج
ستمبر