?️
سچ خبریں:تجزیے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار ایران کے ساتھ جلد معاہدے کے دعوے دہرا رہے ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ بیانات امریکی معیشت، سیاسی دباؤ اور بازاروں کو متاثر کرنے والی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
تجزیے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ آئندہ دو یا تین دن میں مکمل ہو جائے گا۔ تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ وہ اس طرح کا اعلان کر رہے ہیں، بلکہ گزشتہ کئی مہینوں میں وہ درجنوں بار ایسے ہی دعوے دہرا چکے ہیں کہ مذاکرات میں بڑی پیش رفت ہو رہی ہے اور بحران جلد ختم ہو جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق اگر ٹرمپ کے حالیہ اور سابقہ بیانات کا جائزہ لیا جائے تو وہ اب تک کئی بار ایران کے ساتھ معاہدے کو قریب قرار دے چکے ہیں، لیکن عملی سطح پر اس کی کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس مسلسل بیانیے کے پیچھے صرف سفارتی عمل نہیں بلکہ امریکی داخلی سیاست اور معاشی دباؤ بھی کارفرما ہے۔
توانائی منڈیاں اور امریکی معیشت کا دباؤ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔ جب بھی خطے میں تناؤ بڑھتا ہے تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے امریکہ میں مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق امریکی عوام پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزمرہ اخراجات سے پریشان ہیں، اور یہی مسئلہ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی چیلنج بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی خبریں وقتی طور پر بازاروں کو پرسکون کرتی ہیں اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا باعث بنتی ہیں، چاہے حقیقت میں کوئی پیش رفت نہ ہو۔
اسی وجہ سے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ قریب ترین معاہدے کا بیانیہ ایک نفسیاتی اور مالیاتی اثر رکھنے والی حکمت عملی بھی ہے۔
کامیابی کے بیانیے اور زمینی حقیقت کا فرق
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے جنگ کے آغاز سے ہی ایران کے بارے میں تیز اور سخت بیانات دیے، جن میں ایرانی نظام کے کمزور ہونے، فوجی ڈھانچے کی تباہی اور ممکنہ تسلیم جیسے دعوے شامل تھے۔
تاہم زمینی صورتحال نے ان دعووں کی تصدیق نہیں کی، بلکہ ایران کے ریاستی ڈھانچے نے جنگی حالات میں بھی اپنی فعالیت برقرار رکھی۔
اسی طرح ایران کے اندر تقسیم یا ٹوٹ پھوٹ کے دعوے بھی عملی طور پر درست ثابت نہیں ہوئے، بلکہ بیرونی دباؤ کے دوران داخلی سطح پر زیادہ اتحاد اور ہم آہنگی دیکھی گئی۔
مکمل تسلیم کا مطالبہ اور بدلتا امریکی مؤقف
تجزیے کے مطابق ٹرمپ نے بار بار ایران سے غیر مشروط تسلیم کا مطالبہ کیا، تاہم بعد ازاں امریکہ کو خود اپنے سخت مؤقف میں نرمی لانا پڑی اور مذاکراتی راستوں کی طرف جانا پڑا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران امریکہ کی کئی عسکری اور سیاسی پیش گوئیاں بھی حقیقت سے مختلف ثابت ہوئیں۔
مثلاً ایران کی عسکری صلاحیتوں کے مکمل خاتمے کے دعوے کے برعکس، مختلف حملوں اور جوابی کارروائیوں نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا۔
بیانیہ اور حقیقت میں بڑھتا ہوا فاصلہ
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے مکمل کنٹرول اور بحری راستوں کی مکمل سکیورٹی جیسے دعوے بھی کیے، تاہم عالمی منڈیاں مسلسل اس خطے کی صورتحال پر حساس ردعمل دیتی رہیں۔
اسی طرح ایران کی تیل برآمدات اور علاقائی اثر و رسوخ کے بارے میں امریکی دعوے بھی مکمل طور پر عملی حقیقت سے ہم آہنگ نہیں تھے۔
سیاسی تجزیہ: میڈیا اسٹریٹجی یا سفارتی حقیقت؟
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کا اندازِ سیاست روایتی سفارت کاری سے زیادہ میڈیا اور عوامی تاثر پر مبنی ہے، جہاں بیانیہ خود ایک سیاسی ہتھیار بن جاتا ہے۔
اسی تناظر میں ہر تین دن بعد معاہدے کا اعلان دراصل ایک ایسی حکمت عملی ہے جس کا مقصد بازاروں اور رائے عامہ کو وقتی طور پر متاثر کرنا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق بار بار دہرائے جانے والے دعوے رفتہ رفتہ اپنی ساکھ کھو دیتے ہیں۔
سیاسی سرمایہ کا زوال
رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ مسلسل غیر حقیقی یا غیر مکمل دعوے نہ صرف پالیسی پر اثر ڈالتے ہیں بلکہ سیاسی اعتماد کو بھی کمزور کرتے ہیں۔
آج صورتحال یہ ہے کہ عالمی منڈیاں، اتحادی ممالک اور عوامی رائے یہ فیصلہ کرنے میں مشکل کا شکار ہیں کہ امریکی صدر کے بیانات کو کس حد تک سنجیدہ لیا جائے۔
تجزیے کے مطابق اصل چیلنج ایران نہیں بلکہ وہ بڑھتا ہوا اعتماد کا بحران ہے جو امریکی صدارت کے بیانیے پر اثر انداز ہو رہا ہے۔


مشہور خبریں۔
ہمارے 9 تیل کے جہاز سعودی اتحاد کے قبضے میں ہیں: یمن
?️ 5 ستمبر 2022سچ خبریں: یمن کی نیشنل سالویشن گورنمنٹ کے تیل کے وزیر
ستمبر
داعش کا دوبارہ ابھرنا امریکہ کے لیے کیسا رہے گا؟امریکی سینیٹر کا اظہار خیال
?️ 16 دسمبر 2024سچ خبریں:امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا ہے کہ شام میں دہشت
دسمبر
بھارت کو درندگی کا منہ توڑ جواب دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ عرفان صدیقی
?️ 8 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر
مئی
وزیرِ اعظم عمران خان نہ آف شور کمپنی جیسے کام کرتے ہیں
?️ 4 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے
اکتوبر
پاکستان کو درپیش چیلنجز کے خاتمے کیلئے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا، آصف زرداری
?️ 3 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ شہباز شریف پہلے
مارچ
شامی فوج کا صیہونی جارحیت کے خلاف دفاع
?️ 17 نومبر 2023سچ خبریں: شامی حکومت کے فضائی دفاعی سسٹم نے دمشق کے نواحی
نومبر
کیا امریکی دائیں بازو کی اسرائیل کے لیے حمایت کم ہو رہی ہے؟
?️ 23 ستمبر 2025کیا امریکی دائیں بازو کی اسرائیل کے لیے حمایت کم ہو رہی
ستمبر
بوکو حرام کے دہشت گردوں نے نائجیریا میں 17 خواتین کو اغوا کیا
?️ 23 جنوری 2022سچ خبریں: بوکو حرام دہشت گرد گروہ نے شمالی نائیجیریا میں بورنو
جنوری