امریکی عدالت کی جانب سے ٹرمپ کے تجارتی محصولات پر پابندی پر عائد

امریکی عدالت کی جانب سے ٹرمپ کے تجارتی محصولات پر پابندی پر عائد

?️

سچ خبریں:امریکی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایمرجنسی اختیارات کے تحت درآمدی محصولات عائد کرنے سے روک دیا، عدالت نے ان محصولات کو غیر قانونی اور مالیاتی عدم استحکام کا سبب قرار دیا۔

امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہنگامی اختیارات کے تحت وسیع درآمدی محصولات عائد کرنے سے روک دیا ہے، جس سے ان کی متنازع اقتصادی پالیسیوں کو زبردست قانونی دھچکا لگا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:انگریزی اشاعت: چین نے ٹرمپ کی تجارتی جنگ جیت لی

خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، نیویارک میں قائم امریکی عدالت برائے بین‌المللی تجارت کے تین رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا کہ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ محصولات جنہیں انہوں نے یومِ آزادی ٹیرف کہا تھا،ان کے آئینی اختیارات سے تجاوز کرتے ہیں اور امریکہ کی تجارتی پالیسی کو ذاتی خواہشات کا نشانہ بناتے ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ٹرمپ کی اقتصادی حکمت عملیوں نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کی، تجارتی شراکت داروں کو مایوس کیا، اور معیشت میں مہنگائی اور ممکنہ کساد بازاری کے خطرات کو بڑھاوا دیا۔

خبررساں ادارے روئٹرز نے بھی اس معاملے پر رپورٹ دی ہے کہ عدالت میں دائر کی گئی اس درخواست میں امریکہ کی 13 ریاستوں اور دیگر چھوٹے اقتصادی گروہوں نے بھی شرکت کی اور یہ چیلنج ٹرمپ کی محصولات پالیسی کے خلاف دائر کی گئی سات قانونی کارروائیوں میں سے ایک ہے۔

اس سے قبل بھی امریکی عدالتیں ٹرمپ کی پالیسیوں کو معطل کر چکی ہیں۔ حالیہ مثال میں ایک وفاقی جج نے اس پالیسی پر عبوری پابندی لگا دی تھی جس کے تحت ہارورڈ یونیورسٹی کو بین الاقوامی طلبہ کے داخلوں سے روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ہارورڈ نے اسے علمی آزادی پر حملہ اور آئینِ امریکہ کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

مزید پڑھیں:گارڈین: ٹرمپ کی تجارتی جنگ برازیل اور چین کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے

اس عدالتی فیصلے کے بعد ہزاروں بین الاقوامی طلبہ، جنہیں دیگر جامعات میں منتقل ہونے کا خطرہ لاحق تھا، کو وقتی ریلیف حاصل ہوا،ہارورڈ نے خبردار کیا تھا کہ یہ پالیسی نہ صرف 7,000 سے زائد ویزا ہولڈرز کو متاثر کرے گی بلکہ تعلیمی ادارے کو فوری اور تباہ کن نتائج کا سامنا ہوگا۔

مشہور خبریں۔

حکومت کا صنعتوں کو سستی بجلی اور تنخواہ داروں کو ٹیکس میں ریلیف دینے کا عندیہ

?️ 29 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) بجلی کی سرکاری تقسیم کار کمپنیوں نے صارفین

فلسطین میں صیہونیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں:غزہ کے عوام

?️ 9 فروری 2022سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کی جانب سے غزہ میں بلائے جانے

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ٹرمپ ایلچی کی مداخلت پر لبنان کا ردعمل

?️ 5 نومبر 2025سچ خبریں: لبنان کے وزیر دفاع میشل منسی نے سابق صدر ٹرمپ کے

میکرون یورپی یونین سے پیرس کے اخراج کے خواہاں

?️ 23 جون 2024سچ خبریں: ایک رپورٹ میں روسی اسپوٹنک نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون

گزشتہ مالی سال کے 11 ماہ میں پاور سیکٹر کا گردشی قرض 3 کھرب 93 ارب روپے بڑھ گیا

?️ 5 جولائی 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ مئی کے آخر

ایم کیو ایم پی کی بلدیاتی قانون کے خلاف نکالی گئی پرامن ریلی پر حلیم عادل کا بیان

?️ 27 جنوری 2022کراچی (سچ خبریں) ایم کیو ایم پی کی بلدیاتی قانون کے خلاف

فلسطین کے دفاع میں دمشق کا موقف فیصلہ کن اور اصولی ہے: شامی پارلیمنٹ

?️ 2 نومبر 2021سچ خبریں:  شام کی پارلیمنٹ نے فلسطینی عوام کی ان کے جائز

حریت کانفرنس کا میر واعظ مولوی محمد فاروق، خواجہ عبدالغنی لون اور شہدائے حول کو خراج عقید ت

?️ 19 مئی 2024سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے