امریکہ سعودی عرب میں فوجی موجودگی کم کرنے پر غور کر رہا ہے؛ وال اسٹریٹ جرنل کا انکشاف

فوجی موجودگی

?️

سچ خبریں:واشنگٹن ریاض میں اپنی فوجی موجودگی کم کرنے پر غور کر رہا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک اختلافات بڑھ رہے ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات ایران جنگ کے بعد کشیدہ ہوگئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن ریاض میں اپنی فوجی موجودگی کم کرنے پر غور کر رہا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک اختلافات بڑھ رہے ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات حالیہ مہینوں میں، خاص طور پر ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد، شدید تناؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس کشیدگی کے باعث واشنگٹن اب سعودی عرب میں اپنی فوجی موجودگی کم کرنے پر غور کر رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابتدا میں سعودی عرب نے امریکہ کو اپنی فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا، جو کہ پروجیکٹ فریڈم نامی آپریشن کے لیے ضروری تھا۔

 اس آپریشن کا مقصد آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو کم کرنا اور اس علاقے میں موجود بحری جہازوں کی حفاظت کرنا تھا۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس کارروائی کے لیے سعودی فضائی حدود اور فوجی اڈوں کا استعمال انتہائی اہم تھا، اور ریاض کے انکار کے باعث واشنگٹن کو یہ مشن منسوخ کرنا پڑا۔

 اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کے باعث یہ آپریشن روک دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں امریکی اور عرب حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ریاض کو خبردار کیا تھا کہ وہ میزائل دفاعی نظام میں استعمال ہونے والے کچھ اہم اسلحے کی فراہمی روک سکتا ہے۔

بعد ازاں سعودی عرب نے اپنا مؤقف تبدیل کیا اور یہ آپریشن خفیہ طور پر دوبارہ شروع کیا گیا، تاہم امریکی حکام کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات کو جو نقصان پہنچ چکا ہے وہ آسانی سے بحال نہیں ہو سکتا۔ اسی تناظر میں واشنگٹن اب سعودی عرب میں اپنی فوجی موجودگی کم کرنے کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حالیہ دورۂ خطہ کے دوران متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کا دورہ کیا، لیکن سعودی عرب نہیں گئے، جسے ریاض نے نظراندازی کے طور پر دیکھا۔

ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ایک ہفتہ قبل فرانس میں ہونے والے جی سیون اجلاس میں شرکت کی دعوت مسترد کر دی تھی، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شریک تھے۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب نے جنگ شروع ہونے سے قبل امریکہ کو ایران پر حملے سے باز رکھنے کی کوشش کی تھی، کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ جنگ کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز بند کر سکتا ہے اور علاقائی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ نے ان انتباہات کے باوجود جنگ کا آغاز کیا، جس سے ریاض کی تشویش میں مزید اضافہ ہوا۔

مشہور خبریں۔

یورپی پارلیمان کا غیر دانشمندانہ موقف پر اصرار / ایران مخالف قرارداد منظور

?️ 21 مئی 2026سچ خبریں: یورپی پارلیمان کے ارکان نے جمعرات کو اپنے مداخلت پسندانہ

 میں نے 50 بار ایران کا سفر کیا ہے: بائیڈن کا نیا گف

?️ 7 مئی 2022سچ خبریں:   صدر جو بائیڈن جن کے فتنے جنوری 2021 میں اقتدار

برکینا فاسو میں بڑا دہشت گردانہ حملہ، سینکڑوں افراد ہلاک، ملک بھر میں تین دن تک سوگ کا اعلان کردیا گیا

?️ 6 جون 2021برکینافاسو (سچ خبریں)  مغربی افریقا کے ملک برکینافاسو میں دہشت گردوں نے

سیلاب متاثرین کی امداد اجتماعی کام، نمبر بنانے کی ضرورت نہیں۔ چیئرمین سینیٹ

?️ 3 ستمبر 2025ملتان (سچ خبریں) چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ

اسرائیل تباہی کی راہ پر گامزن:عطوان

?️ 17 جنوری 2023سچ خبریں:عطوان نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ صیہونیوں

پنڈوراپیپرز میں شامل شخصیات اور کمپنیوں کا معاملہ زیر بحث

?️ 5 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) پنڈوراپیپرز میں شامل افراد کیخلاف ممکنہ کارروائی پرتبادلہ

طوباس میں صیہونی فوج کی حالت زار

?️ 21 مئی 2024سچ خبریں: صیہونی افواج نے مغربی کنارے کے مختلف شہروں پر حملے

صہیونی حماس کے رہنماؤں کو قتل کرنے اور قیدیوں کو بچانے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

?️ 29 مارچ 2024سچ خبریں: صہیونی فوج کے بعض ذرائع نے اعتراف کیا کہ اس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے